ٹیگ کے محفوظات: شامل

جان جائے تو بلا سے، پہ کہیں دِل آئے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 204
لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آئے
جان جائے تو بلا سے، پہ کہیں دِل آئے
ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزری
دوست جو ساتھ مرے تا لبِ ساحل آئے
وہ نہیں ہم، کہ چلے جائیں حرم کو، اے شیخ!
ساتھ حُجّاج کے اکثر کئی منزِل آئے
آئیں جس بزم میں وہ، لوگ پکار اٹھتے ہیں
"لو وہ برہم زنِ ہنگامۂ محفل آئے”
دیدہ خوں بار ہے مدّت سے، ولے آج ندیم
دل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل آئے
سامنا حور و پری نے نہ کیا ہے، نہ کریں
عکس تیرا ہی مگر، تیرے مقابِل آئے
اب ہے دِلّی کی طرف کوچ ہمارا غالب!
آج ہم حضرتِ نوّاب سے بھی مِل آئے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ایسے ناداں دلربا کے ملنے کا حاصل ہے کیا

دیوان سوم غزل 1059
دل اگر کہتا ہوں تو کہتا ہے وہ یہ دل ہے کیا
ایسے ناداں دلربا کے ملنے کا حاصل ہے کیا
جاننا باطل کسو کو یہ قصور فہم ہے
حق اگر سمجھے تو سب کچھ حق ہے یاں باطل ہے کیا
یاں کوئی دن رات وقفہ کرکے قصد آگے کا کر
کارواں گاہ جہان رفتنی منزل ہے کیا
تک رہے ہیں اس کو سو ہم تک رہے ہیں ایک سے
دیدئہ حیراں ہمارا دیدئہ بسمل ہے کیا
وہ حقیقت ایک ہی ساری نہیں ہے سب میں تو
آب سا ہر رنگ میں یہ اور کچھ شامل ہے کیا
چوٹ میرے دل میں ایسی ہے کہ ہوں میں دم بخود
وہ کشندہ یوں ہی کہتا ہے کہ تو گھائل ہے کیا
کہتے ہیں ظاہر ہے اک ہی لیلی ہفت اقلیم میں
اس عبارت کا نہیں معلوم کچھ محمل ہے کیا
ہم تو سو سو بار مر رہتے ہیں ایک ایک آن میں
عشق میں اس کے گذرنا جان سے مشکل ہے کیا
شاخ پر گل یا نہال اودھر جھکے جاتے ہیں سب
قامت دلکش کا اس کی سرو ہی مائل ہے کیا
مرثیہ میرے بھی دل کا رقت آور ہے بلا
محتشمؔ کو میر میں کیا جانوں اور مقبلؔ ہے کیا
میر تقی میر

یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں

دیوان دوم غزل 904
کیا عبث مجنوں پئے محمل ہے میاں
یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں
قند کا کون اس قدر مائل ہے میاں
جو ہے ان ہونٹوں ہی کا قائل ہے میاں
ہم نے یہ مانا کہ واعظ ہے ملک
آدمی ہونا بہت مشکل ہے میاں
چشم تر کی خیر جاری ہے سدا
سیل اس دروازے کا سائل ہے میاں
مرنے کے پیچھے تو راحت سچ ہے لیک
بیچ میں یہ واقعہ حائل ہے میاں
دل کی پامالی ستم ہے قہر ہے
کوئی یوں دلتا ہے آخر دل ہے میاں
آج کیا فرداے محشر کا ہراس
صبح دیکھیں کیا ہو شب حامل ہے میاں
دل تڑپتا ہی نہیں کیا جانیے
کس شکار انداز کا بسمل ہے میاں
چاہیے پیش از نماز آنکھیں کھلیں
حیف اس کا وقت جو غافل ہے میاں
رنگ بے رنگی جدا تو ہے ولے
آب سا ہر رنگ میں شامل ہے میاں
سامنے سے ٹک ٹلے تو دق نہ ہو
آسماں چھاتی پر اپنی سل ہے میاں
دل لگی اتنی جہاں میں کس لیے
رہگذر ہے یہ تو کیا منزل ہے میاں
بے تہی دریاے ہستی کی نہ پوچھ
یاں سے واں تک سو جگہ ساحل ہے میاں
چشم حق بیں سے کرو ٹک تم نظر
دیکھتے جو کچھ ہو سب باطل ہے میاں
دردمندی ہی تو ہے جو کچھ کہ ہے
حق میں عاشق کے دوا قاتل ہے میاں
برسوں ہم روتے پھرے ہیں ابر سے
زانو زانو اس گلی میں گل ہے میاں
کہنہ سالی میں ہے جیسے خورد سال
کیا فلک پیری میں بھی جاہل ہے میاں
کیا دل مجروح و محزوں کا گلہ
ایک غمگیں دوسرے گھائل ہے میاں
دیکھ کر سبزہ ہی خرم دل کو رکھ
مزرع دنیا کا یہ حاصل ہے میاں
مستعدوں پر سخن ہے آج کل
شعر اپنا فن سو کس قابل ہے میاں
کی زیارت میر کی ہم نے بھی کل
لاابالی سا ہے پر کامل ہے میاں
میر تقی میر

جو بھی قاتل ہے ہماری ہی طرح بسمل ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 301
کس کو دیں قتل کا اِلزام بڑی مشکل ہے
جو بھی قاتل ہے ہماری ہی طرح بسمل ہے
تیز دَھاروں نے حدیں توڑ کے رکھ دِیں ساری
اَب یہ عالم کہ جو دَریا ہے، وہی ساحل ہے
جو اَکیلے میں جلوسوں کا اُڑاتا ہے مذاق
وہ بھی اِس بھیڑ میں اوروں کی طرح شامل ہے
اِتنی اُمید نہ آتے ہوئے برسوں سے لگاؤ
حال بھی تو کسی ماضی ہی کا مستقبل ہے
شوق دونوں کو ہے ملنے کا، مگر رَستے میں
ایک پندار کی دیوارِ گراں حائل ہے
زہرۂ فکر کم آمیز بہت ہے، عرفانؔ
کم سے کم اُس کا تعارف تو تمہیں حاصل ہے
عرفان صدیقی

لوگوں سے ملنا شامل نہ ہونا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 19
اس بھیڑ میں گم اے دل نہ ہونا
لوگوں سے ملنا شامل نہ ہونا
اچھا یہ سچ ہے، اچھی یہ ضد ہے
قائل نہ کرنا، قائل نہ ہونا
اس نے جو مل کر ہم کو سکھایا
حاصل نہ کرنا، حاصل نہ ہونا
جنگل نہ جانے کیوں چاہتے ہیں
بستی کی حد میں داخل نہ ہونا
بس جی دکھانا لوگوں کے دکھ پر
لوگوں کے دُکھ میں شامل نہ ہونا
قاتل سے لڑنا مشکل نہیں ہے
ممکن نہیں ہے بسمل نہ ہونا
عرفان صدیقی

اس مسافت پر طبعیت شوق سے مائل رہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 494
ہر قدم پر کوچہ ء جاناں میں گو مشکل رہی
اس مسافت پر طبعیت شوق سے مائل رہی
ایک اک گنتا رہا ضربِ مسلسل ایک اک
دل کی دھڑکن کپکپاتی یاد میں شامل رہی
اک طرف کتنے مسافر راستے میں رہ گئے
اک طرف پائے طلب کی منتظر منزل رہی
آخری الہام کی پہلی کرن سے پیشتر
چارہ گر آتے رہے بیچارگی بسمل رہی
یہ بنامِ امن جنگیں یہ ہلاکت خیز خیر
زندگی تہذیب کی دہلیز پر گھائل رہی
خشک پتے کی طرح اڑنا مجھے اچھا لگا
سچ یہی ہے عمر کا آوارگی حاصل رہی
ڈوبنے سے جو بچالیتی ہے اپنی زندگی
بس وہی کشتی سمندر کا سدا ساحل رہی
تنگ کرتی جا رہی ہے بس یہی الجھن مجھے
کوئی شے تھی پاس میرے جونہیں اب مل رہی
پھر کوئی منصور خوشبو ملنے والی ہے مجھے
ان دنوں باغیچے میں پھرہے چنبلی کھل رہی
منصور آفاق

سفر رستہ رہے گا بس، کبھی منزل نہیں ہو گا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 73
تمہیں یہ پاؤں سہلانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا
سفر رستہ رہے گا بس، کبھی منزل نہیں ہو گا
مجھے لگتا ہے میری آخری حد آنے والی ہے
جہاں آنکھیں نہیں ہوں گی دھڑکتا دل نہیں ہو گا
محبت کے سفر میں تیرے وحشی کو عجب ضد ہے
وہاں کشتی سے اترے گا جہاں ساحل نہیں ہو گا
مری جاں ویری سوری اب کبھی چشمِ تمنا سے
یہ اظہارِ محبت بھی سرِ محفل نہیں ہو گا
سکوتِ دشت میں کچھ اجنبی سے نقشِ پا ہوں گے
کوئی ناقہ نہیں ہو گا کہیں محمل نہیں ہو گا
ذرا تکلیف تو ہو گی مگر اے جانِ تنہائی
تجھے دل سے بھلا دینا بہت مشکل نہیں ہو گا
یہی لگتا ہے بس وہ شورشِ دل کا سبب منصور
کبھی ہنگامہء تخلیق میں شامل نہیں ہو گا
منصور آفاق