ٹیگ کے محفوظات: شامت

بَونے بانس لگا کر صاحبِ قامت ٹھہرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
چہرۂ سرو قداں پر داغِ ندامت ٹھہرے
بَونے بانس لگا کر صاحبِ قامت ٹھہرے
اُس کے لیے جو خود شامت ہے بستی بھر کی
جانے کونسی ساعت، ساعتِ شامت ٹھہرے
جس کے طلوع پہ خود سورج بھی شرمندہ ہے
اور وہ کون سا دن ہو گا جو قیامت ٹھہرے
اہلِ نشیمن کو آندھی سے طلب ہے بس اتنی
پیڑ اکھڑ جائے پر شاخ سلامت ٹھہرے
کون یزید کی بیعت سے منہ پھیر دکھائے
کون حسین ہو، دائم جس کی امامت ٹھہرے
خائف ہیں فرعون عصائے قلم سے تیرے
اور بھلا ماجد کیا تیری کرامت ٹھہرے
ماجد صدیقی

جس سے پیار رکھے ہے کچھ یہ اس کے سر پر شامت ہے

دیوان پنجم غزل 1776
عشق بلاانگیز مفتن یہ تو کوئی قیامت ہے
جس سے پیار رکھے ہے کچھ یہ اس کے سر پر شامت ہے
موسم گل میں توبہ کی تھی واعظ کے میں کہنے سے
اب جو رنگ بہار کے دیکھے شرمندہ ہیں ندامت ہے
شیخ کی ادنیٰ حرکت بھی میں خرق عادت جانوں ہوں
مسجد سے میخانے آیا یہ بھی اس کی کرامت ہے
ایک طرف میں عشق کیا تھا رسوائی یہ کہاں سے ہوئی
اب جو گھر سے نکل آتا ہوں چاروں طرف سے ملامت ہے
تو ہی کر انصاف صبا ٹک باغوں باغوں پھرے ہے تو
روے گل اس کا ساروہے سرو کا ایسا قامت ہے
صبح کو خورشید اس کے گھر پر طالع ہوکر آتا ہے
دیکھ لیا جو ان نے کبھو تو اس سادہ کی شامت ہے
چھوڑو اس اوباش کا ملنا ورنہ سر کٹوائوگے
چاہ رہو گے بہتیروں کو سر جو میر سلامت ہے
میر تقی میر

مسلماں بھی خدا لگتی نہیں کہتے قیامت ہے

دیوان سوم غزل 1304
بتوں کے جرم الفت پر ہمیں زجرو ملامت ہے
مسلماں بھی خدا لگتی نہیں کہتے قیامت ہے
کھڑا ہوتا نہیں وہ رہزن دل پاس عاشق کے
موافق رسم کے اک دور کی صاحب سلامت ہے
جھکی ہے شاخ پرگل ناز سے کیا صحن گلشن میں
نہال قد کی اس کے مدعی تھی سو ندامت ہے
نکلتا ہے سحر خورشید ہر روز اس کے گھر پر سے
مقابل ہو گیا اس سے تو اس سادہ کی شامت ہے
پیے دارو پڑے پھرتے تھے کل تک میر کوچوں میں
انھیں کو مسجد جامع کی دیکھی آج امامت ہے
میر تقی میر

قد قامت یہ کچھ ہے تمھارا لیکن قہر قیامت ہو

دیوان اول غزل 393
مت پوچھو کچھ اپنی باتیں کہیے تو تم کو ندامت ہو
قد قامت یہ کچھ ہے تمھارا لیکن قہر قیامت ہو
ربط اخلاص اے دیدہ و دل بھی دنیا میں ایک سے ہوتا ہے
لگ پڑتے ہو جس سے تس سے تم بھی کوئی ملامت ہو
آج سحر ہوتے ہی کچھ خورشید ترے منھ آن چڑھا
روک سکے ہے کون اسے سر جس کے ایسی شامت ہو
چاہ کا دعویٰ سب کرتے ہیں مانیے کیونکر بے آثار
اشک کی سرخی زردی منھ کی عشق کی کچھ تو علامت ہو
سرو و گل اچھے ہیں دونوں رونق ہیں گلزار کی ایک
چاہیے رو اس کا سا رو ہو قامت ویسا قامت ہو
مل بیٹھے اس نائی کے سے کوئی گھڑی جو زاہد تو
جتنے بال ہیں سارے سر میں ویسی ہی اس کی حجامت ہو
ہو جو ارادہ یاں رہنے کا رہ سکیے تو رہیے آپ
ہم تو چلے جاتے ہیں ہر دم کس کو قصد اقامت ہو
کس مدت سے دوری میں تیری خاک رہ سے برابر ہوں
کریے رنجہ قدم ٹک مجھ تک جو کچھ پاس قدامت ہو
منھ پر اس کی تیغ ستم کے سیدھا جانا ٹھہرا ہے
جینا پھر کج دار و مریز اس طور میں ہو ٹک یا مت ہو
شور و شغب کو راتوں کے ہمسائے تمھارے کیا روویں
ایسے فتنے کتنے اٹھیں گے میر جی تم جو سلامت ہو
میر تقی میر