ٹیگ کے محفوظات: شادمانی

کمیـنِ درد میں پوشـیدہ رازِ شـادمـانی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 249
سکوت و خامشی اظہارِ حـالِ بے زبـانی ہے
کمیـنِ درد میں پوشـیدہ رازِ شـادمـانی ہے
عیاں ہیں حال و قالِ شیخ سے اندازِ دلچسپی
مگر رنـدِ قَـدَح کش کا ابھـی دورِ جوانـی ہے
ثباتِ چند روزہ کارفرماۓ غم و حسـرت
اجل سرمایہ دارِ دورِ عیش و کامرانی ہے
گدازِ داغِ دلِ شمعِ بساطِ خانہ ویرانی
تپش گاہِ محبت میں فروغ جاودانی ہے
وفـورِ خود نمائ رہـنِ ذوقِ جـلوہ آرائ
بہ وہم کامرانی جذبِ دل کی شادمانی ہے
دلِ حرماں لقب کی داد دے اے چرخِ بے پروا
بہ غارت دادۂ رخت و متاعِ کامرانی ہے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

تخلیہ اے زندگانی تخلیہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 430
دھڑکنوں کی بدزبانی تخلیہ
تخلیہ اے زندگانی تخلیہ
ظلِ سبحانی ہیں آئے درد کے
اے کنیزِ شادمانی تخلیہ
آرہا ہے وہ چراغِ صبح پا
چاند تارو ، مہربانی ، تخلیہ
مہ وشو!اب یاسمن کے باغ کی
دیکھتے ہیں گل فشانی ، تخلیہ
بجلیو! موسیٰ کلیم اللہ سے میں
سن رہاہوں لن ترانی تخلیہ
بارگاہِ دل میں شرمندہ نہ کر
لمس کی اندھی جوانی تخلیہ
ہے دمِ عارف نسیمِ صبح دم
اے کلیمی اے شبانی تخلیہ
زندگی سے بھر گیا دل حسرتو!
اب کہانی کیا بڑھانی تخلیہ
واہ ، آئی ہے کئی صدیوں کے بعد
پھر صدائے کن فکانی تخلیہ
جائیے کہ آئینے کے سامنے
شکلِ ہستی ہے بنانی تخلیہ
جارہا ہوں میں عدم کے باغ میں
موسموں کی میزبانی تخلیہ
آرہا ہے مجھ سے ملنے آفتاب
بادلوں کی سائبانی تخلیہ
ملنا ہے منصور نے منصور سے
گم کرو اب شکل یعنی تخلیہ
منصور آفاق