ٹیگ کے محفوظات: شاخِ آہُو

شاخِ آہُو

وزیرِ معارف علی کیانی نے

شمشیرِ ایراں کا تازہ مقالہ پڑھا،

اور محسن فرح زاد کی تازہ تصنیف دیکھی،

جو طہران کے سب تماشا گھروں میں

کئی روز سے قہقہوں کے سمندر بہانے لگی تھی

تو وہ سر کھجانے لگا،

اور کہنے لگا:

لو اسے کہہ رہے ہیں،

علی کیانی کی تازہ جنایت!

بھلا کون سا ظلم ڈھایا ہے میں نے

جو بانو رضا بہبانی سے

اسی ہزار اور نو سو ریال

اپنا حق جان کر

راہداری کے بدلے لیے ہیں؟

خدائے توانا و برتر

وزارت ہے وہ دردِ سر

جس کا کوئی مداوا نہیں ہے!

رضا بہبانی ولایت سے

ڈگری طبابت کی لے کر،

جو لوٹے گی

کچھ تو کمائے گی،

پہلے سے بڑھ کر کمائے گی آخر

اور اِس پر یہ ایراں فروشی کے طعنے

یہ کہرام، اے مسخرے روزنامہ نگارو!

یہاں سات بچوں کے تنّور

ہر لحظہ فریاد کرتے ہوئے،

اور خانم کے

گلگونہ و غازہ و کفش و موزہ کے

یہ روز افزوں تقاضے،

ادھر یہ گرانی،

اِدھریہ وزارت کی کرسی

فقط شاخِ آہو!

تو اس پر علی کیانی نے سوچا،

اٹھایا قلم اور لِکھا:

جنابِ مدیرِ شہیر

آپ کی خدمتِ فائقہ کے عوض

دس ہزار اور چھ سو ریال

آپ کو صد ہزار احترامات کے ساتھ

تقدیم کرتا ہے بندہ!

یہ پر کالہ ءِ آتشیں چھوڑ کر

اور مقالہ و تصنیف کی یاد دل سے بھلا کر

لگا جھولنے اپنی کرسی میں آسودہ ہو کر

وزیرِ معارف علی کیانی!

ن م راشد