ٹیگ کے محفوظات: شاب

وہ جو تڑپا لے گیا آسودگی و خواب کو

دیوان ششم غزل 1860
کیونکے نیچے ہاتھ کے رکھا دل بیتاب کو
وہ جو تڑپا لے گیا آسودگی و خواب کو
کم نہیں ہے سحر سے یہ بھی تصرف عشق کا
پانی کر آنکھوں میں لایا دل کے خون ناب کو
تھا یہی سرمایۂ بحر بلا پچھلے دنوں
چشم کم سے دیکھو مت اس دیدئہ پرآب کو
تو کہے تھی برق خاطف ناگہاں آکر گری
اک نگہ سے مار رکھا ان نے شیخ و شاب کو
کیا سفیدی دیکھی اس کی آستیں کے چاک سے
جس کے آگے رو نہ تھا کچھ پرتو مہتاب کو
چاہتا ہے جب مسبب آپھی ہوتا ہے سبب
دخل اس عالم میں کیا ہے عالم اسباب کو
دم بخود رہتا ہوں اکثر سر رکھے زانو پہ میر
حال کہہ کر کیا کروں آزردہ اور احباب کو
میر تقی میر

رہا ہے کیا دل بے تاب میں اب

دیوان سوم غزل 1110
پڑا ہے فرق خورد و خواب میں اب
رہا ہے کیا دل بے تاب میں اب
جنوں میں اب کے نے دامن ہے نے جیب
کمی آئی بہت اسباب میں اب
ہوا ہے خواب ملنا اس سے شب کا
کبھو آتا ہے وہ مہ خواب میں اب
گدائی لی ہے میں نے اس کے در کی
کہے کیا دیکھوں میرے باب میں اب
گلے لگنے بن اس کے اتنا روئے
کہ ہم ہیں گے گلے تک آب میں اب
کہاں بل کھائے بال اس کے کہاں یہ
عبث سنبل ہے پیچ وتاب میں اب
بلا چرچا ہے میرے عشق کا میر
یہی ہے ذکر شیخ و شاب میں اب
میر تقی میر

دل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا

دیوان دوم غزل 668
پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا
دل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا
کاٹے ہیں خاک اڑا کر جوں گردباد برسوں
گلیوں میں ہم ہوئے ہیں اس بن خراب کیا کیا
کچھ گل سے ہیں شگفتہ کچھ سرو سے ہیں قد کش
اس کے خیال میں ہم دیکھے ہیں خواب کیا کیا
انواع جرم میرے پھر بے شمار و بے حد
روز حساب لیں گے مجھ سے حساب کیا کیا
اک آگ لگ رہی ہے سینوں میں کچھ نہ پوچھو
جل جل کے ہم ہوئے ہیں اس بن کباب کیا کیا
افراط شوق میں تو رویت رہی نہ مطلق
کہتے ہیں میرے منھ پر اب شیخ و شاب کیا کیا
پھر پھر گیا ہے آکر منھ تک جگر ہمارے
گذرے ہیں جان و دل پر یاں اضطراب کیا کیا
آشفتہ اس کے گیسو جب سے ہوئے ہیں منھ پر
تب سے ہمارے دل کو ہے پیچ و تاب کیا کیا
کچھ سوجھتا نہیں ہے مستی میں میر جی کو
کرتے ہیں پوچ گوئی پی کر شراب کیا کیا
میر تقی میر