ٹیگ کے محفوظات: سینہ

عجیب شخص ہے، اچھا بھی ہے، کمینہ بھی

زباں پہ حرفِ ملائم بھی، دل میں کینہ بھی
عجیب شخص ہے، اچھا بھی ہے، کمینہ بھی
لہو تو خیر کہاں کا، یہ جاں نثار ترے
بہائیں گے نہ کبھی بوند بھر پسینہ بھی
وہاں گزار دیے زندگی کے اتنے برس
جہاں نہ مجھ کو ٹھہرنا تھا اک مہینہ بھی
جلا بروزِ ازل جو بنامِ ربِ سخن
اُسی چراغ سے روشن ہے میرا سینہ بھی
درونِ دل انہی متروک سلسلوں میں کہیں
چھپا ہُوا ہے تری یاد کا خزینہ بھی
تمہارا ذوقِ سخن ہے خیال تک محدود
ہمیں تو چاہیے اظہار میں قرینہ بھی
بس ایک پل کو جو دربان کی نظر چوکے
مری نگاہ میں وہ بام بھی ہے، زینہ بھی
تلاشِ ہست میں معدوم ہو، کہ ممکن ہے
عدم کی تہہ سے برآمد ہو یہ دفینہ بھی
سوال یہ ہے کہاں سے نتھر کے آیا ہے
یہ ایک اشک ہی پانی بھی ہے، نگینہ بھی
ملے گی کونسی بستی میں دل زدوں کو پناہ
کہ اہلِ درد سے خالی ہُوا مدینہ بھی
وہ خواہ ساحل_فرقت ہو یا جزیرہ_وصل
کسی کنارے تو لگ جائے یہ سفینہ بھی
عرفان ستار

ہے بہاروں بھرا اک مہینہ مرا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 29
جس سے شاداب رہتا ہے جینا مرا
ہے بہاروں بھرا اک مہینہ مرا
اس کی خوشنودیوں کی کہانی رہے
ہر عمل ہر ادا ہر قرینہ مرا
کعبہِ اسمِ کن کے کہیں آس پاس
آسمانو! زمیں پر خزنیہ مرا
جسم درجسم بس بھیڑیوں کی طرح
کس نے پنجوں سے چیرا ہے سینہ مرا
کس نے پھانسی چڑھایامرے خواب کی
کون ہے جس نے لوٹا مدنیہ مرا
حیف منصور !حاصل سے محروم ہے
خون کی طرح بہتا پسینہ مرا
منصور آفاق