ٹیگ کے محفوظات: سیراب

ابکے یُوں بھی کھیتیاں سیراب ہونے لگ پڑیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
خونِ مظلوماں سے ہیں شاداب ہونے لگ پڑیں
ابکے یُوں بھی کھیتیاں سیراب ہونے لگ پڑیں
غاصبانِ تخت کی خود ساختہ آفات سے
جانے کیا کیا ہستیاں، غرقاب ہونے لگ پڑیں
حق طلب ہیں جس قدر خاموش رکھنے کو اُنہیں
اجتماع گاہیں تلک برقاب ہونے لگ پڑیں
حرص زادوں کے تدّبر کی تہِ شیریں لئے
گالیاں بھی شاملِ آداب ہونے لگ پڑیں
جب سے ماجدؔ مکر کا غلبہ مناصب پر ہُوا
دیکھ کیا کیا حرمتیں بے آب ہونے لگ پڑیں
ماجد صدیقی

آنکھ کا لگنا نہ ہو تو اشک کیوں خوناب ہو

دیوان سوم غزل 1239
دل کہے میں ہوں تو کاہے کو کوئی بیتاب ہو
آنکھ کا لگنا نہ ہو تو اشک کیوں خوناب ہو
وہ نہیں چھڑکائو سا میں اشک ریزی سے کروں
اب جو رونے بیٹھ جائوں جھیل ہو تالاب ہو
جلد کھینچے تیغ بیتابی کریں جو ہم تو پھر
مارنا مشکل ہمارا تم کو جوں سیماب ہو
شہر میں زیر درختاں کیا رہوں میں برگ بند
ہو نہ صحرا نے مری گنجائش اسباب ہو
بے تصرف عشق کے ہوتا ہے ایسا حال کب
دل ہمارا خون ہو سب چشم یکسر آب ہو
لطف سے اے ابر رحمت ایک دو بارش ادھر
کشت زرد ناامیداں بھی تو ٹک سیراب ہو
بخت خفتہ سوویں پر ٹک چونکتے سوویں کہ میر
ایک شب ہم دل زدوں سے وہ پری ہم خواب ہو
میر تقی میر

جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا

دیوان سوم غزل 1103
آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا
جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا
آکر کھڑا ہوا تھا بہ صدحسن جلوہ ناک
اپنی نظر میں وہ در نایاب تھا سو تھا
ساون ہرے نہ بھادوں میں ہم سوکھے اہل درد
سبزہ ہماری پلکوں کا سیراب تھا سو تھا
درویش کچھ گھٹا نہ بڑھا ملک شاہ سے
خرقہ کلاہ پاس جو اسباب تھا سو تھا
کیا بھاری بھاری قافلے یاں سے چلے گئے
تجھ کو وہی خیال گراں خواب تھا سو تھا
برسوں سے ہے تلاوت و سجادہ و نماز
پر میل دل جو سوے مئے ناب تھا سو تھا
ہم خشک لب جو روتے رہے جوئیں بہ چلیں
پر میر دشت عشق کا بے آب تھا سو تھا
میر تقی میر

چہرہ تمام زرد زر ناب سا ہوا

دیوان دوم غزل 680
دل فرط اضطراب سے سیماب سا ہوا
چہرہ تمام زرد زر ناب سا ہوا
شاید جگر گداختہ یک لخت ہو گیا
کچھ آب دیدہ رات سے خوناب سا ہوا
وے دن گئے کہ اشک سے چھڑکائو سا کیا
اب رونے لگ گئے ہیں تو تالاب سا ہوا
اک دن کیا تھا یار نے قد ناز سے بلند
خجلت سے سرو جوے چمن آب سا ہوا
کیا اور کوئی روئے کہ اب جوش اشک سے
حلقہ ہماری چشم کا گرداب سا ہوا
قصہ تو مختصر تھا ولے طول کو کھنچا
ایجاز دل کے شوق سے اطناب سا ہوا
عمامہ ہے موذن مسجد کہ بارخر
قد تو ترا خمیدہ ہو محراب سا ہوا
بات اب تو سن کہ جاے سخن حسن میں ہوئی
خط پشت لب کا سبزئہ سیراب سا ہوا
چل باغ میں بھی سوتے سے اٹھ کر کبھو کہ گل
تک تک کے راہ دیدئہ بے خواب سا ہوا
سمجھے تھے ہم تو میر کو عاشق اسی گھڑی
جب سن کے تیرا نام وہ بیتاب سا ہوا
میر تقی میر