ٹیگ کے محفوظات: سیا

تب دل کے تئیں خوگر اندوہ کیا ہے

دیوان دوم غزل 1029
کئی برسوں جگر کا ہی لہو اپنا پیا ہے
تب دل کے تئیں خوگر اندوہ کیا ہے
ڈر کیوں نہ محلے میں رہے رونے سے میرے
سیلاب نے اس کوچے میں گھر مول لیا ہے
افسوس ہے نشمردہ قدم تم جو رکھو یاں
اس راہ میں سر یاروں نے ہر گام دیا ہے
کاہش ہے عبث تم کو مرے جینے کی خاطر
بیمار بھلا ایسا کوئی آگے جیا ہے
پلکوں سے رفو ان نے کیا چاک دل میر
کس زخم کو کس نازکی کے ساتھ سیا ہے
میر تقی میر

کیا کہہ کے تجھ کو روویں یہ کیا کیا پیارے

دیوان دوم غزل 968
میر ایک دم نہ اس بن تو تو جیا پیارے
کیا کہہ کے تجھ کو روویں یہ کیا کیا پیارے
رنگین ہم تو تجھ کو ایسا نہ جانتے تھے
تو نے تو عاشقوں کا لوہو پیا پیارے
دل کے تو زخم کا کچھ ہوتا نہیں تدارک
گو چاک سینہ تو نے میرا سیا پیارے
اس دام گاہ میں ہم جوں صید نیم بسمل
تڑپے بہت پہ تو نے کب دل لیا پیارے
ہو داغ میر تجھ بن مر بھی گیا ولے تو
آیا نہ گور پر ٹک لے کر دیا پیارے
میر تقی میر

سماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہے

دیوان اول غزل 566
حصول کام کا دلخواہ یاں ہوا بھی ہے
سماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہے
موئے ہی جاتے ہیں ہم درد عشق سے یارو
کسو کے پاس اس آزار کی دوا بھی ہے
اداسیاں تھیں مری خانقہ میں قابل سیر
صنم کدے میں تو ٹک آ کے دل لگا بھی ہے
یہ کہیے کیونکے کہ خوباں سے کچھ نہیں مطلب
لگے جو پھرتے ہیں ہم کچھ تو مدعا بھی ہے
ترا ہے وہم کہ میں اپنے پیرہن میں ہوں
نگاہ غور سے کر مجھ میں کچھ رہا بھی ہے
جو کھولوں سینۂ مجروح تو نمک چھڑکے
جراحت اس کو دکھانے کا کچھ مزہ بھی ہے
کہاں تلک شب و روز آہ درد دل کہیے
ہر ایک بات کو آخر کچھ انتہا بھی ہے
ہوس تو دل میں ہمارے جگہ کرے لیکن
کہیں ہجوم سے اندوہ غم کے جا بھی ہے
غم فراق ہے دنبالہ گرد عیش وصال
فقط مزہ ہی نہیں عشق میں بلا بھی ہے
قبول کریے تری رہ میں جی کو کھو دینا
جو کچھ بھی پایئے تجھ کو تو آشنا بھی ہے
جگر میں سوزن مژگاں کے تیں کڈھب نہ گڑو
کسو کے زخم کو تونے کبھو سیا بھی ہے
گذار شہر وفا میں سمجھ کے کر مجنوں
کہ اس دیار میں میر شکستہ پا بھی ہے
میر تقی میر

گل دستہ دستہ جس کو چراغی دیا کیا

دیوان اول غزل 145
اس آستان داغ سے میں زر لیا کیا
گل دستہ دستہ جس کو چراغی دیا کیا
کیا بعد مرگ یاد کروں گا وفا تجھے
سہتا رہا جفائیں میں جب تک جیا کیا
ہو تار تار سیتے ہی سیتے جو اڑ گیا
اب تک عبث میں اپنا گریباں سیا کیا
سن سن کے تیری بات کو کیا کیا نہ کہہ سنا
کیا کیا کہوں میں تجھ سے کہ کیا کچھ کیا کیا
اب وہ جگر طپش سے تڑپتا ہے تشنہ لب
مدت تلک جو میر کا لوہو پیا کیا
میر تقی میر