ٹیگ کے محفوظات: سیانا

عالمِ غیب سے ہوتا ہے اشارہ مجھ کو

دستِ خالی سے اڑانا ہے پرندہ مجھ کو
عالمِ غیب سے ہوتا ہے اشارہ مجھ کو
چابکِ آہ و فغاں راس نہیں آیا تا
رخشِ احساس نے کر دینا ہے بوڑھا مجھ کو
آج اک پل کو لگا، یوسفِ دوراں ہوں میں
اجنبی ہاتھ نے پیچھے سے جو کھینچا مجھ کو
مر تو سکتا ہوں مگر بھاگ نہیں سکتا میں
کر دیا آگ نے اس درجہ سیانا مجھ کو
میں وہیں خاک ہوا، خاک سے پھر خاک ہوا
کوزہ گر نے جہاں جلدی میں گھمایا مجھ کو
اے درختانِ ثمر بار اگر بار نہ ہو
میں مروں تو ہرے پتوں پہ سلانا مجھ کو
کون ؟ وہ خواجہ سرا؟؟ یار انہیں رہنے دو
سب تماشائی سمجھتے رہے اندھا مجھ کو
افتخار فلک

مرنا عاشق کا بہانہ ہو گیا

دیوان پنجم غزل 1559
بات کہتے جی کا جانا ہو گیا
مرنا عاشق کا بہانہ ہو گیا
جاے بودن تو نہ تھی دنیاے دوں
اتفاقاً اپنا آنا ہو گیا
ماہ اس کو کہہ کے سارے شہر میں
مجھ کو مشکل منھ دکھانا ہو گیا
کر رکھا تعویذ طفلی میں جسے
اب سو وہ لڑکا سیانا ہو گیا
اس بلا سے آہ میں غافل رہا
یک بہ یک دل کا لگانا ہو گیا
کنج لب سے یار کے اچٹا نہ ٹک
الغرض دل کا ٹھکانا ہو گیا
رفتہ رفتہ اس پری کے عشق میں
میر سا دانا دوانہ ہو گیا
میر تقی میر