ٹیگ کے محفوظات: سہہ

مٹی تھا، سو مٹی ہو کر رہ جاوں گا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 7
یوں ہی اک دن خاموشی سے ڈھہ جاوں گا
مٹی تھا، سو مٹی ہو کر رہ جاوں گا
ایسی وحشت، ایسا غم، ایسی بے زاری
میں تو سمجھا تھا میں سب کچھ سہہ جاوں گا
اس امید پہ مرتا ہوں میں لمحہ لمحہ
شاید کوئی زندہ شعر ہی کہہ جاوں گا
یہ تکرار_ساعت کچھ دن کی ہے، پھر میں
وقت کنارے کے اس جانب بہہ جاوں گا
میں عرفان کی کھوج میں ہوں، ٹھہروں گا کب تک
تیرے پہلو میں کچھ دن تو رہ جاوں گا
عرفان ستار

دُکھاپنے ہَوا سے کہہ رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 119
سناّٹا فضا میں بہہ رہا ہے
دُکھاپنے ہَوا سے کہہ رہا ہے
برفیلی ہوا میں تن شجر کا
ہونے کا عذاب سہہ رہا ہے
باہر سے نئی سفیدیاں ہیں
اندر سے مکان ڈھہہ رہا ہے
حل ہو گیا خون میں کُچھ ایسے
رگ رگ میں وہ نام بہہ رہا ہے
جنگل سے ڈرا ہُوا پرندہ
شہروں کے قریب رہ رہا ہے
پروین شاکر

اچھی ندیا! آج ذرا آہستہ بہہ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 12
ہم سے جو کُچھ کہنا ہے وہ بعد میں کہہ
اچھی ندیا! آج ذرا آہستہ بہہ
ہَوا! مرے جُوڑے میں پُھول سجاتی جا
دیکھ رہی ہوں اپنے من موہن کی راہ
اُس کی خفگی جاڑے کی نرماتی دُھوپ
پاروسکھی! اس حّدت کو ہنس کھیل کے سہہ
آج تو سچ مچ کے شہزادے آئیں گے
نندیا پیاری! آج نہ کُچھ پریوں کی کہہ
دوپہروں میں جب گہرا سناٹا ہو
شاخوں شاخوں موجِ ہَوا کی صُورت بہہ
پروین شاکر

کہ راکھ راکھ تعلق میں رہ رہا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 335
اِدھر نہ آئیں ہواؤں سے کہہ رہا ہوں میں
کہ راکھ راکھ تعلق میں رہ رہا ہوں میں
طلوعِ وصل کی خواہش بھی تیرہ بخت ہوئی
فراقِ یار کے پہلو میں گہہ رہا ہوں میں
مرا مزاج اذیت پسند ہے اتنا
ابھی جو ہونے ہیں وہ ظلم سہہ رہا ہوں میں
مجھے بھلانے کی کوشش میں بھولتے کیوں ہو
کہ لاشعور میں بھی تہہ بہ تہہ رہا ہوں میں
گھروں کے بیچ اٹھائی تھی جو بزرگوں نے
کئی برس سے وہ دیوار ڈھ رہا ہوں میں
کنارِ اشکِ رواں توڑ پھوڑ کر منصور
خود آپ اپنی نگاہوں سے بہہ رہا ہوں میں
منصور آفاق

نہ کہنے پر بھی سب کچھ کہہ گئے ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 83
لبوں کو کھول کر یوں رہ گئے ہم
نہ کہنے پر بھی سب کچھ کہہ گئے ہم
کبھی طوفان غم سے کش مکش کی
کبھی تنکے کی صورت بہہ گئے ہم
برا ہو اے دل حساس تیرا
بہت دنیا سے پیچھے رہ گئے ہم
تجھے دیکھا تو غم کی یاد آئی
وہ کیسی چوٹ تھی جو سہہ گئے ہم
جہاں نے غور سے دیکھا ہے باقیؔ
نہ جانے جوش میں کیا کہہ گئے ہم
باقی صدیقی