ٹیگ کے محفوظات: سہو

ملے بہ حیلۂ نو زندگی کی محرومی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 49
جو ہو بھی جائے فرو زندگی کی محرومی
ملے بہ حیلۂ نو زندگی کی محرومی
کرے اندھیرا دل و ذہن میں پھر اس کے بعد
جگائے شعر کی لو زندگی کی محرومی
نہیں قبول شرائط پہ رزق و جنس ہمیں
بہت شدید ہے گو زندگی کی محرومی
گراں ہے ایک نہ ہو ناتمام ہونے پر
دل فقیر کی ضو زندگی کی محرومی
پھر اس کے بعد رہے گا نہ شوق پینے کا
شراب میں نہ ڈبو زندگی کی محرومی
لٹے نہ سلطنتِ غم ذرا خیال رہے
سہو ہمیشہ سہو زندگی کی محرومی
آفتاب اقبال شمیم