ٹیگ کے محفوظات: سہلائے

رات گئے تک نیند نہ مجھ کو آئے گی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
سوچ بدن میں زہر نیا پھیلائے گی
رات گئے تک نیند نہ مجھ کو آئے گی
بار بار جو اُگ آتی ہے راہوں میں
کس کس سے دیوار یہ چاٹی جائے گی
ڈال ڈال کر کوسنے پھیلی جھولی میں
بُڑھیا دیر تلک اب تن سہلائے گی
آگ سے جس نے اپنا ناطہ جوڑ لیا
وُہ رسّی کیا اپنا آپ بچائے گی
لطف و سکوں کا جھونکا تک جو پا نہ سکی
قوم مری کس موسم پر اِترائے گی
ابکے آب میں جال بِچھا جو چَوطرفہ
مچھلی مچھلی اُس میں جان گنوائے گی
ماجِد کُود کے دیکھ تو عزم کے دریا میں
بعد کی صورت بعد میں دیکھی جائے گی
ماجد صدیقی

تُند ہوا آ آ کر کیوں دہلائے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
شاخ پہ برگِ زرد ہی کیوں ٹھہرائے مجھے
تُند ہوا آ آ کر کیوں دہلائے مجھے
بادل میرے نام اُمڈ کے نہ برسے جو
ڈال کے لیت و لعل میں کیوں ترسائے مجھے
میری ولی عہدی کیونکر تسلیم نہیں
بات یہ بس دربار کی ہے کھولائے مجھے
پل پل جس کی میں نے خیر طلب کی ہے
خلق بھی کچھ تو میرا دیا لوٹائے مجھے
مجھے ملے پھل میرے سینچے پودے کا
اور نہ ملے تو چَین بھلا کیوں آئے مجھے
اپنے لفظ ہی ٹھہریں پُھونک مسیحا کی
ایسا کون ہے ماجِد جو سہلائے مجھے
ماجد صدیقی

آندھی کب آداب اپنائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
آئے اور کہرام مچائے
آندھی کب آداب اپنائے
ہم پہ نگاہ پڑی ہے رُت کی
اُڑتی ریت ہمیں سہلائے
دکھلائیں ہر قد کو بڑھا کے
پچھلے پہر کے بڑھتے سائے
راہی ہمیشہ راہ نکالے
سانپ ہمیشہ پھن پھیلائے
بندہ خوشی خوشی کو پا کر
بچوں ایسی پینگ جُھلائے
وقت کی اَن جانی چالوں سے
کوہ بدن کا کُھرتا جائے
ماجد پائے رواں کیوں ٹھہرے
جب تک سانس نہ رُکنے پائے
ماجد صدیقی

خاموشیِ وجدان، خبر لائے گی کچھ اور

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
ناحق پہ بھی لاریب گھڑی آئے گی کچھ اور
خاموشیِ وجدان، خبر لائے گی کچھ اور
جیسے کسی قیدی کو جنم دِن کا حوالہ
پنجرے میں صبا جھانک کے تڑپائے گی کچھ اور
صرصر نے جو دھارا ہے نیا روپ صبا کا
یہ فاحشہ ابدان کو سہلائے گی کچھ اور
کہہ لو اُسے تم رقص پہ طوفانِ بلا میں
کمزور ہے جو شاخ وہ لہرائے گی کچھ اور
وہ آنکھ جسے دھُن ہے فروغِ گلِ تر کی
موسم ہے گر ایسا ہی تو شرمائے گی کچھ اور
نکلی ہی نہیں گرد کے پہلو سے جو ماجدؔ
پیاسوں کو وہ بدلی ابھی ترسائے گی کچھ اور
ماجد صدیقی

اپنے تساہل پر کیوں شرم نہ آئے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
کیلنڈر کا ہر ہندسہ سمجھائے مجھے
اپنے تساہل پر کیوں شرم نہ آئے مجھے
تاج کسی لاوارث شہ کا، نگری میں
کون اُترتے دم ہی، بھلا پہنائے مجھے
درس نہیں ہوں، میں ہوں اکائی زینے کی
وقت کا بالک کاہے کو دُہرائے مجھے
میں کہ جسے اِک ایک تمنّا عاق کرے
کون سخی ہو ایسا، جو اپنائے مجھے
لُو کا بھبھوکا ماجدؔ ماں کا ہاتھ نہیں
بے دم ہوتا دیکھ کے جو سہلائے مجھے
ماجد صدیقی

بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
ناز لبوں پر اُس کے لائے ہم نے بھی
بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی
یاد دلا کر خاصے دُور کے دن اُس کو
کیا کیا کچُھ قصّے دُہرائے ہم نے بھی
حیف! کہ رکھتا تھا جو بھیس خدائی کا
اُس جوگی کو ہاتھ دکھائے ہم نے بھی
شہر میں، سُن کر، اُس چنچل کے آنے کی
پلکوں پر کچھ دیپ جلائے ہم نے بھی
دل میں، جن کے ہوتے سانجھ سویرا ہو
کچھ ایسے ارمان جگائے ہم نے بھی
اَب جو مِلے تو ماجدؔ اُس کو اوڑھ ہی لیں
کب سے انگ نہیں سہلائے ہم نے بھی
ماجد صدیقی

خاک میں اشک بھلے مِل جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
صدیوں اپنی جوت جگائے
خاک میں اشک بھلے مِل جائے
ساون، کُوڑے کرکٹ میں بھی
اپنے ڈھب کے پھُول کھلائے
دید خُدا کی، چودھویں جس کی
وُہ چندا کب مُکھ دکھلائے
اِک پل پھُول سا کِھلنے والا
چہرہ، دُوجی پل کملائے
پیڑ وُہ تازہ دم کیا ہو گا
اُڑتی گرد جِسے سہلائے
ماجدؔ ہر اُمید کا پیکر
چاند کی صورت گھٹتا جائے
ماجد صدیقی

آئے بیٹھے اٹھ بھی گئے بیتاب ہوئے پھر آئے بھی

دیوان پنجم غزل 1747
دل کی لاگ بری ہوتی ہے رہ نہ سکے ٹک جائے بھی
آئے بیٹھے اٹھ بھی گئے بیتاب ہوئے پھر آئے بھی
آنکھ نہ ٹک میلی ہوئی اپنی مطلق دل بے جا نہ ہوا
دل کی مصیبت کیسی کیسی کیا کیا رنج اٹھائے بھی
ٹھنڈے ہوتے نہ دیکھے ہرگز ویسے ہی جلتے رہتے ہیں
تلوے حنائی اس کے ہم نے آنکھوں سے سہلائے بھی
رنگ نہیں ہے منھ پہ کسی کے باد خزاں سے گلستاں میں
برگ و بار گرے بکھرے ہیں گل غنچے مرجھائے بھی
نفع کبھو دیکھا نہیں ہم نے ایسے خرچ اٹھانے پر
دل کے گداز سے لوہو روئے داغ جگر پہ جلائے بھی
عشق میں اس کے جان مری مشتاق پھرے گی بھٹکی ہوئی
شوق اگر ہے ایسا ہی تو چین کہاں مرجائے بھی
تاجر ترک فقیر ہوئے اب شاعر عالم کامل ہیں
پیش گئی کچھ میر نہ اپنی سوانگ بہت سے لائے بھی
میر تقی میر