ٹیگ کے محفوظات: سہارے

سوادِ شب میں ستارے مجھے قبول نہیں

بجھے بجھے سے شرارے مجھے قبول نہیں
سوادِ شب میں ستارے مجھے قبول نہیں
یہ کوہ و دشت بھی آئینہِ بہار بنے
فقط چمن کے نظارے مجھے قبول نہیں
تمھارے ذوقِ کرم پر بہت ہوں شرمندہ
مراد یہ ہے سہارے مجھے قبول نہیں
مثالِ موج سمندر کی سمت لوٹ چلو
سُکوں بدوش کنارے مجھے قبول نہیں
میں اپنے خوں سے جلاؤں گا رَہ گزر کے چراغ
یہ کہکشاں، یہ ستارے مجھے قبول نہیں
شکیبؔ! جس کو شکایت ہے کُھل کے بات کرے
ڈھکے چُھپے سے اشارے مجھے قبول نہیں
شکیب جلالی

زندہ ہیں راندۂ درگاہ تمہارے کیسے

پوچھ تو لیتے کہ ہیں درد کے مارے کیسے
زندہ ہیں راندۂ درگاہ تمہارے کیسے
اُن کی نفرت سے ملا میری محبت کو فروغ
رُخ مخالف ہی سہی، تند ہیں دھارے کیسے
لوگ مُنہ سے نہ کہیں دل میں تو سوچیں گے ضرور
ڈوبنے والوں نے پائے تھے سہارے کیسے
اہلِ اخلاص و محبت پہ عنایت کیجے
حسرتِ دید میں بیٹھے ہیں بِچارے کیسے
درد مندانِ محبت کی نہ غایت نہ غرض
کیسے فریاد کرے کوئی پکارے کیسے
بے رُخی ایک محبت ہی کا رُخ ہے ضامنؔ
چشمِ محتاط میں ہوتے ہیں اشارے کیسے
ضامن جعفری

بس غمِ دوراں ہارے ہم

پہنچے گور کنارے ہم
بس غمِ دوراں ہارے ہم
سب کچھ ہار کے رستے میں
بیٹھ گئے دکھیارے ہم
ہر منزل سے گزرے ہیں
تیرے غم کے سہارے ہم
دیکھ خیالِ خاطرِ دوست
بازی جیت کے ہارے ہم
آنکھ کا تارا آنکھ میں ہے
اب نہ گنیں گے تارے ہم
ناصر کاظمی

جس کی نظر اُٹھے اُسے کرتے ہیں اشارے

ہر ایک کو خوش فہمی میں رکھتے ہیں ستارے
جس کی نظر اُٹھے اُسے کرتے ہیں اشارے
مجنوں سے کہو کٹ چکی اک عُمر جنوں میں
باقی کسی معقول طریقے سے گزارے
بدنام ہے نادانی میں لیکن اِسی دل نے
میرے تو کئی بگڑے ہوئے کام سنوارے
کر دیں نہ کہیں ہم کو جوانی میں ہی معذور
ہم جن کو سمجھتے ہیں بڑھاپے کے سہارے
یوں تو کبھی کم آب نہ تھا آنکھوں کا دریا
سیلاب وہ آیا ہے کہ بے بس ہیں کنارے
سچ ہے کہ گُل و لالہ میں ٹھنڈک ہے تجھی سے
یہ نور ہے کس کا مگر اے چاند ہمارے
بیکار سے پتھر ہیں چمکتے ہیں جو شب کو
پوشیدہ ہیں دن میں تِری قسمت کے ستارے
باصر کاظمی

ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 2
ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے
ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے
رنگ و خوشبو کے، حسن و خوبی کے
تم سے تھے جتنے استعارے تھے
تیرے قول و قرار سے پہلے
اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے
جب وہ لعل و گہر حساب کیے
جو ترے غم نے دل پہ وارے تھے
میرے دامن میں آگرے سارے
جتنے طشت فلک میں تارے تھے
عمر جاوید کی دعا کرتے
فیض اتنے وہ کب ہمارے تھے
فیض احمد فیض

شہر میں ایک ہی دو ہوں گے ہمارے جیسے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 274
شمعِ تنہا کی طرح، صبح کے تارے جیسے
شہر میں ایک ہی دو ہوں گے ہمارے جیسے
چھو گیا تھا کبھی اس جسم کو اک شعلۂ درد
آج تک خاک سے اڑتے ہیں شرارے جیسے
حوصلے دیتا ہے یہ ابرِ گریزاں کیا کیا
زندہ ہوں دشت میں ہم اس کے سہارے جیسے
سخت جاں ہم سا کوئی تم نے نہ دیکھا ہو گا
ہم نے قاتل کئی دیکھے ہیں تمہارے جیسے
دیدنی ہے مجھے سینے سے لگانا اس کا
اپنے شانوں سے کوئی بوجھ اتارے جیسے
اب جو چمکا ہے یہ خنجر تو خیال آتا ہے
تجھ کو دیکھا ہو کبھی نہر کنارے جیسے
اس کی آنکھیں ہیں کہ اک ڈوبنے والا انساں
دوسرے ڈوبنے والے کو پکارے جیسے
عرفان صدیقی

دیکھتے دیکھتے ٹوٹے ہیں ستارے کتنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 222
نذر دنیا ہوئے ارمان ہمارے کتنے
دیکھتے دیکھتے ٹوٹے ہیں ستارے کتنے
چل دئیے چھوڑ کے احباب ہمارے کتنے
وقت نے چھین لئے دل کے سہارے کتنے
موج وحشت نے سفینے کو ٹھہرنے نہ دیا
راہ آئے ہیں مری رہ میں کنارے کتنے
رکھ لیا ہم نے تری مست نگاہی کا بھرم
بے خودی میں بھی ترے کام سنوارے کتنے
جیتنے والے محبت میں بہت ہیں باقیؔ
دیکھنا یہ ہے کہ اس کھیل میں ہارے کتنے
باقی صدیقی