ٹیگ کے محفوظات: سہاروں

کہ جیسے عکس پڑے جھیل میں ستاروں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
وہ رنگ اپنے سخن میں ہے استعاروں کا
کہ جیسے عکس پڑے جھیل میں ستاروں کا
گلی سے جسم کنول سا نظر پڑا تھا جہاں
گزشتہ رات وہاں جمگھٹا تھا کاروں کا
رمِ حیات کہ بیساکھیوں میں اُترا ہے
کسی کو زعم دکھائے گا کیا سہاروں کا
ورق ورق پہ لکھا حال یُوں سفر کا لگے
گماں ہو خاک پہ جیسے لہو کی دھاروں کا
کھُلے نہ ہم پہ کہ ماجدؔ ہمارے حق میں ہی
رہے ہمیشہ گراں کیوں مزاج یاروں کا
ماجد صدیقی

خونیں جگروں ، سینہ فگاروں سے گلہ ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 225
یارو نگہ یار کو ، یاروں سے گلہ ہے
خونیں جگروں ، سینہ فگاروں سے گلہ ہے
جاں سے بھی گئے ، بات بھی جاناں کی نہ سمجھی
جاناں کو بہت عشق کے ماروں سے گلہ ہے
اب وصل ہو یا ہجر ، نہ اب تک بسر آیا
اک لمحہ ، جسے لمحہ شماروں سے گلہ ہے
اڑتی ہے ہر اک شور کے سینے سے خموشی
صحراؤں پر شور دیاروں سے گلہ ہے
بیکار کی اک کارگزاری کے حسابوں
بیکار ہوں اور کار گزاروں سے گلہ ہے
میں آس کی بستی میں گیا تھا سو یہ پایا
جو بھی ہے اسے اپنے سہاروں سے گلہ ہے
بے فصل اشاروں سے ہوا خون جنوں کا
ان شوخ نگاہوں کے اشاروں سے گلہ ہے
جون ایلیا

امید اپنے سہاروں کو ساتھ لائے گی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 170
تری نظر کے اشاروں کو ساتھ لائے گی
امید اپنے سہاروں کو ساتھ لائے گی
وہی نظر مرے رستے میں بن گئی دیوار
گماں تھا جس پہ نظاروں کو ساتھ لائے گی
تری نظر ہی کا اب انتظار لازم ہے
تری نظر ہی بہاروں کو ساتھ لائے گی
بہت نحیف سہی موج زندگی پھر بھی
مچل گئی تو کناروں کو ساتھ لائے گی
تو آنے والے زمانے کا غم نہ کر باقیؔ
کہ رات اپنے ستاروں کو ساتھ لائے گی
باقی صدیقی