ٹیگ کے محفوظات: سہارا

اِس میں جاتا نہیں تمہارا کُچھ

فائدہ ہو اگر ہمارا کُچھ
اِس میں جاتا نہیں تمہارا کُچھ
کل ضرورت پڑے تری شاید
آج ہو جائے گا گزارا کُچھ
دھیان میں آئی شکل وہ سرِ شام
ہو گیا صُبح تک سہارا کُچھ
آسماں کا تھا شب عجب احوال
چاند کہتا تھا کُچھ سِتارا کُچھ
باصر کاظمی

احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر

رندوں کا ہو رہا ہے گزارا پیے بغیر
احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر
مے سے زیادہ ہم کو ترا میکدہ عزیز
خوش ہو رہے ہیں کر کے نظارا پیے بغیر
گِنتے ہوئے ستارے گزرتی ہے اُس کی رات
جو دیکھتا ہے شام کا تارا پیے بغیر
اِس اجنبی دیار میں ملتی نہیں شراب
کرنا ہے اب یہ رنج گوارا پیے بغیر
پی لو گے چار گھُونٹ تو باصرِؔ کرو گے کیا
درکار ہے تمہیں تو سہارا پیے بغیر
باصر کاظمی

میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پُکارا کم ہے
میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے
اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے
جان لیتے ہیں کہاں کوئی سِتارا کم ہے
دوستی میں تو کوئی شک نہیں اُس کی پر وہ
دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے
صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بار
ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارا کم ہے
ایک رخسار پہ دیکھا ہے وہ تِل ہم نے بھی
ہو سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے
اِتنی جلدی نہ بنا رائے مِرے بارے میں
ہم نے ہمراہ ابھی وقت گُذارا کم ہے
باغ اک ہم کو مِلا تھا مگر اِس کو افسوس
ہم نے جی بھر کے بِگاڑا ہے سنوارا کم ہے
آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصرؔ
کونسا کام ہے وہ جس میں خسارا کم ہے
باصر کاظمی

فرازِ آدمیّت کا ستارا ہاتھ لگ جائے

لگے ہاتھوں خدائی استعارہ ہاتھ لگ جائے
فرازِ آدمیّت کا ستارا ہاتھ لگ جائے
کئی عشّاق پیڑوں کی طبیعت صاف ہو جائے
پرندوں کے پروں کو گر ہمارا ہاتھ لگ جائے
مجھے کوزہ گری کا فن ودیعت ہو رہا ہو جب
دعا کیجے اُسی لمحے یہ گارا ہاتھ لگ جائے
غزل سے نعت کی جانب سفر آسان ہو جائے
وِلائے پنج تن کا گر سہارا ہاتھ لگ جائے
میں اک دم شاد ہو جاؤں نویدِ زندگی پاؤں
مجھے قسمت سے گر جاناں تمہارا ہاتھ لگ جائے
فلکؔ محجور ہونے تک حریمِ ناز کا نقشہ
مرے اک اک حواری کے دوبارہ ہاتھ لگ جائے
افتخار فلک

وہ نہانے کیا چلے آئے تماشا ہو گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 33
پیشِ ساحل اِک ہجومِ موجِ دریا ہو گیا
وہ نہانے کیا چلے آئے تماشا ہو گیا
کاٹنی ہی کیا شبِ ہستی سَرائے دہر میں
اِک ذرا سی آنکھ جھپکائی سویرا ہو گیا
کچھ مری خاموشیاں ان کی سمجھ میں آ گئیں
کچھ میری آنکھوں سے اظہارِ تمنا ہو گیا
نزع کے عالم میں قاصد لے کے جب آیا جواب
ڈوبنے والوں کو تنکے کا سہارا ہو گیا
آپنے سر پر موجِ طوفاں بڑھا کہ لیتی ہے قدم
میرا بیڑا قابلِ تعظیمِ دریا ہو گیا
دیکھ لینا یہ ستم اک دن مٹا دیں گے مجھے
تم یہ کہتے ہوے رہ جاؤ گے کیا ہو گیا
ساحلِ امید وعدہ اب تو چھوڑو اے قمر
غرقِ بحرِ آسماں ایک ایک تارا ہو گیا
قمر جلالوی

کالی رات دیا دے کوئی، جنگل کوئی تارا دے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 262
روشنیوں کے مالک اب ہم کو رستے کا اشارا دے
کالی رات دیا دے کوئی، جنگل کوئی تارا دے
جانے کب سے جلنے والے، ڈوبنے والے، سوچتے ہیں
شاید کوئی آگ میں کیاری، پانی میں گلیارا دے
سوکھے ہوئے دریا کے کنارے، پیڑ کھڑے ہیں دِھیر دَھرے
بادل چادر سایہ کرے، یا لہر کوئی چمکارا دے
اُجلی لڑکی دُنیا میں بڑی کالک ہے، پر ایسا ہو
مانگ میں تیری جگنو چمکیں‘ لونگ تری لشکارا دے
رُکنا ہو یا چلنا ہو، کوئی فکر نہیں بنجارے کو
بنجارن نئے چھپر چھائے، کوچ میں پوت سہارا دے
عرفان صدیقی

تُو ہے سمندروں کا کنارہ کہیں جسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 549
مشکل کشا کہیں جسے، چارہ کہیں جسے
تُو ہے سمندروں کا کنارہ کہیں جسے
تُو صرف ایک آخری امید کی کرن
ہر گمشدہ سحر کا ستارہ کہیں جسے
حاصل ہے تیرا نام ہی حرف و کلام کا
مِل مِل کے اپنے ہونٹ دوبارہ کہیں جسے
ہم سے زیادہ اورمکرم کوئی نہیں
ہے دو جہاں کا والی ،ہمارا کہیں جسے
ایسا تو اور کوئی نہیں کائنات میں
منصور بے کسوں کا سہاراکہیں جسے
منصور آفاق

تیرا ہی رہ گیا ہے لے دے کے اک سہارا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 7
دیکھ اے امید کہ جو، ہم سے نہ تو کنارا
تیرا ہی رہ گیا ہے لے دے کے اک سہارا
یوں بے سبب زمانہ پھرتا نہیں کسی سے
اے آسماں کچھ اس میں تیرا بھی ہے اشارا
میخانہ کی خرابی جی دیکھ کر بھر آیا
مدت کے بعد کل واں جا نکلے تھے قضا را
اک شخص کو توقع بخشش کی بے عمل ہے
اے زاہدو تمہارا ہے اس میں کیا اجارا
دنیا کے خرخشوں سے چیخ اٹھتے تم ہم اول
آخر کو رفتہ رفتہ سب ہو گئے گوارا
انصاف سے جو دیکھا نکلے وہ عیب سارے
جتنے ہنر تھے اپنے عالم میں آشکارا
افسوس، اہل دیں بھی مانند اہلِ دنیا
خود کام خود نما ہیں خود بیں میں اور خود آرا
الطاف حسین حالی

تم نہیں تو کوئی رونا بھی نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 146
غم دل کیا، غم دنیا بھی نہیں
تم نہیں تو کوئی رونا بھی نہیں
زندگی حد نظر تک چپ ہے
نغمہ کیسا کوئی نالہ بھی نہیں
سرسری ربط کی امید ہی کیا
اس پہ یہ ظلم کہ ایسا بھی نہیں
بات لب پر بھی نہیں آ سکتی
اور تجھ سے کوئی پردا بھی نہیں
چپ رہیں ہم تو گلے ہوتے ہیں
کچھ کہیں تو کوئی سنتا بھی نہیں
ابھی کر دیں تجھے دنیا کے سپرد
ابھی جی بھر کے تو دیکھا بھی نہیں
کبھی ہر موج قدم لیتی ہے
کبھی تنکے کا سہارا بھی نہیں
انتہائے غم دنیا معلوم
اب نظر محو تماشا بھی نہیں
گرد راہوں پہ جمی ہے باقیؔ
کیسی منزل کوئی چلتا بھی نہیں
باقی صدیقی

ہنسنا آیا ہے نہ رونا ہم کو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 92
غم بنا دے نہ تماشا ہم کو
ہنسنا آیا ہے نہ رونا ہم کو
ہم ابھی تک ہیں وہیں راہ نشیں
جس جگہ آپ نے چھوڑا ہم کو
اک صدا تک تھی عنایت ساری
پھر کسی نے بھی نہ پوچھا ہم کو
آج دیکھا ہے نیا رنگ ان کا
دو گھڑی چھوڑ دو تنہا ہم کو
زندگی لے گئی طوفانوں میں
دے کے تنکے کا سہارا ہم کو
تیری محفل کے چراغوں کے تلے
کچھ نشاں ملتا ہے اپنا ہم کو
ہو گئے چپ ہمیں پاگل کہہ کر
جب کسی نے بھی نہ سمجھا ہم کو
بات ہو، شعر ہو، افسانہ ہو
ہے بہت کچھ ابھی کہنا ہم کو
کوئی روزن ہو کہ دروازہ ہو
چاہئے ایک شرارا ہم کو
فصل گل آئی مگر کیا آئی
رنگ بھولا نہ خزاں کا ہم کو
لے گیا ساتھ اڑا کر باقیؔ
ایک سوکھا ہوا پتہ ہم کو
باقی صدیقی

کوئی بھی نہ دے سکا سہارا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 1
جب گھیر کے بے کسی نے مارا
کوئی بھی نہ دے سکا سہارا
ساحل سے نہ کیجئے اشارا
کچھ اور بھی دور اب خدا را
خاموش ہیں اس طرح وہ جیسے
میں نے کسی اور کو پکارا
احساس ملا ہے سب کو لیکن
چمکا ہے کوئی کوئی ستارا
ہوتی ہے قدم قدم پہ لغزش
ملتا ہے کہیں کہیں سہارا
کھاتے گئے ہم فریب جتنے
بڑھتا گیا حوصلہ ہمارا
کس طرح کٹے گی رات باقیؔ
دن تو کسی طور سے گزارا
اب کیا ہو کہ لب پہ آ گیا ہے
ہر چند یہ راز تھا تمہارا
اس طرح خموش ہیں وہ جیسے
میں نے کسی اور کو پکارا
حالات کی نذر ہو نہ جائے
باقیؔ ہے جو ضبط غم کا یارا
باقی صدیقی