ٹیگ کے محفوظات: سکے

ظلمت میں اور ڈوب گئے بستیوں کے لوگ

جب بھی چراغ لے کے اٹھے بستیوں کے لوگ
ظلمت میں اور ڈوب گئے بستیوں کے لوگ
جنگل جلے تو ان کو خبر تک نہ ہوسکی
چھائی گھٹا تو جُھوم اٹھے بستیوں کے لوگ
پُروا چلی تو اور سلگنے لگے بدن،
پل بھر بھی رات سو نہ سکے بستیوں کے لوگ
بپھرے ہوئے بھنور نے سفینہ نگل لیا
ساحل سے دیکھتے ہی رہے بستیوں کے لوگ
خوشبو کی اِک لپٹ پہ کِھنچے آرہے تھے ہم
کانٹوں کے ہار لے کر بڑھے بستیوں کے لوگ
بھٹکے ہوئے غریب مسافر پہ، اے شکیبؔ
رَہ زَن سمجھ کے ٹوٹ پڑے بستیوں کے لوگ
شکیب جلالی

پھر ہوچکے وہیں کہیں گھر جاسکے نہ ہم

دیوان پنجم غزل 1682
اس کی گلی میں غش جو کیا آسکے نہ ہم
پھر ہوچکے وہیں کہیں گھر جاسکے نہ ہم
سوئے تو غنچہ ہو کسو گلخن کے آس پاس
اس تنگنا میں پائوں بھی پھیلا سکے نہ ہم
حالانکہ ظاہر اس کے نشاں شش جہت تھے میر
خود گم رہے جو پھرتے بہت پا سکے نہ ہم
میر تقی میر