ٹیگ کے محفوظات: سکھاتا

تنہائی کے مکان میں آتا ہے کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 197
آسیب میں چراغ جلاتا ہے کون شخص
تنہائی کے مکان میں آتا ہے کون شخص
جی چاہتا ہے اس سے ملاقات کو مگر
اجڑے ہووں کو پاس بٹھاتا ہے کون شخص
چلتا ہے کس کے پاؤں سے رستہ بہار کا
موسم کو اپنی سمت بلاتا ہے کون شخص
جس میں خدا سے پہلے کا منظر دکھائی دے
وہ کافرانہ خواب دکھاتا ہے کون شخص
پھر اک ہزار میل سمندر ہے درمیاں
اب دیکھئے دوبارہ ملاتا ہے کون شخص
برسوں سے میں پڑا ہوں قفس میں وجود کے
مجھ کو چمن کی سیر کراتا ہے کون شخص
منصور صحنِ دل کی تمازت میں بیٹھ کر
ہر روز اپنے بال سکھاتا ہے کون شخص
منصور آفاق