ٹیگ کے محفوظات: سکتا

وہ جو ہم کثرت والوں میں یکتا ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 70
چشم غلط انداز سے کیسے تکتا ہے
وہ جو ہم کثرت والوں میں یکتا ہے
یہ وہ باغ لئیم ہے جس کی شاخوں پر
نفعِ یک طرفہ کا میوہ پکتا ہے
یہ بھی کرم ہے اپنے وعدہ نوازوں کا
سامنے اوندھا رکھا جام چھلکتا ہے
یونہی اس شعلے کو جلتا رہنے دو
اور بجھانے سے یہ اور بھڑکتا ہے
شاید سیلِ ہوا کی آمد آمد ہو
ورنہ کیوں گلشن میں ایسا سکتا ہے
یاد آ جائے کوئی ناہمواری سی
ورنہ مے پینے سے کون مہکتا ہے
آفتاب اقبال شمیم

میں جو گزرے ہوئے ہنگاموں کا خمیازا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 139
دیکھ لے، آج تری بزم میں بھی تنہا ہوں
میں جو گزرے ہوئے ہنگاموں کا خمیازا ہوں
جانے کیا ٹھان کے اُٹھتا ہوں نکلنے کے لیے
جانے کیا سوچ کے دروازے سے لوٹ آتا ہوں
میرے ہر جزو کا ہے مجھ سے الگ ایک وجود
تم مجھے جتنا بگاڑو گے میں بن سکتا ہوں
مجھ میں رَقصاں کوئی آسیب ہے آوازوں کا
میں کسی اُجڑے ہوئے شہر کا سنّاٹا ہوں
اپنا ہی چہرہ اُنہیں مجھ میں دِکھائی دے گا
لوگ تصویر سمجھتے ہیں میں آئینہ ہوں
لمحۂ شوق ہوں، میری کوئی قیمت ہی نہیں
میں میسر تجھے آجاؤں تو مہنگا کیا ہوں
میں جھپٹنے کے لیے ڈُھونڈھ رہا ہوں موقع
اور وہ شوخ سمجھتا ہے کہ شرماتا ہوں
عرفان صدیقی