ٹیگ کے محفوظات: سکا

کیا کہوں کیا غلط ہے کیا ہے ٹھیک

اُن کو سب کچھ ہی لگ رہا ہے ٹھیک
کیا کہوں کیا غلط ہے کیا ہے ٹھیک
کبھی لب بستگی مناسب ہے
اور کبھی عرضِ مدعا ہے ٹھیک
ڈوب جائیں گے سُنتے سُنتے ہم
سب غلط ایک ناخدا ہے ٹھیک
آج ہم ٹھیک ہیں مگر یارو
مستقل کون رہ سکا ہے ٹھیک
تھی شفا چارہ گر کی باتوں میں
ہم سمجھتے رہے دوا ہے ٹھیک
چَین سے سو رہا ہے ہمسایا
چلیے کوئی تو گھر بنا ہے ٹھیک
ایک ہی دوست رہ گیا تھا مرا
وہ بھی دُشمن سے جا مِلا ہے، ٹھیک
کر دیا تھا عدو نے کام خراب
کر کے کتنے جتن کیا ہے ٹھیک
تیرا بیمار تجھ کو بھُول گیا
کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے ٹھیک
کچھ دوا کر کہ زخمِ دل باصرِؔ
خود بخود بھی کبھی ہُوا ہے ٹھیک
باصر کاظمی

کسی پہ راز ہمارا ابھی کھُلا ہی نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
ہیں لب کشا بھی مگر جیسے کچھ کہا ہی نہیں
کسی پہ راز ہمارا ابھی کھُلا ہی نہیں
بھنور بھی جھاگ سی بس سطحِ آب پر لایا
جو تہہ میں ہے وُہ ابھی تک اُبھر سکا ہی نہیں
ہمیں جو ہوش میں لائے تو زلزلہ ہی کوئی
وہ بے حسی کا نشہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں
یہ کیسا عام ہے اعلانِ صحتِ یاراں
ہمیں جو روگ تھا وہ تو ابھی گیا ہی نہیں
شکستِ دل بھی شکستِ حباب تھی جیسے
فضائے دہر میں اُٹھی کوئی صدا ہی نہیں
کسی پہ حال ہمارا عیاں ہو کیا ماجدؔ
کھُلا کسی پہ کبھی حرفِ مدّعا ہی نہیں
ماجد صدیقی

مجھے جس کا ڈر تھا وہی ہُوا، مری ساری عمر گزر گئی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 53
یونہی اپنے آپ میں مبتلا، مری ساری عمر گزر گئی
مجھے جس کا ڈر تھا وہی ہُوا، مری ساری عمر گزر گئی
کئی غم زدوں کے تھے قافلے، کئی دلبری کے تھے سلسلے
میں کسی کی سمت نہیں گیا، مری ساری عمر گزر گئی
کبھی سلتے سلتے اُدھڑ گیا، کبھی بنتے بنتے بگڑ گیا
کوئی مجھ کو شکل نہ دے سکا، مری ساری عمر گزر گئی
جو بڑی اٹھان کا شخص تھا، عجب آن بان کا شخص تھا
وہی شخص مجھ میں بکھر چکا، مری ساری عمر گزر گئی
کسی ماہ وش کی نگاہ میں، کسی خانقاہ کی راہ میں
یونہی در بہ در، یونہی جا بہ جا، مری ساری عمر گزر گئی
مرا اختیار نہیں میں تھا، میں تلاشِ نانِ جویں میں تھا
کوئی لمحہ اپنا نہیں جیا، مری ساری عمر گزر گئی
مری حرفِ غم کی سپاہ تھی، کبھی آہ تھی، کبھی واہ تھی
یہی شور مجھ میں رہا بپا، مری ساری عمر گزر گئی
کئی ناشنیدہ خیال تھے، مرے پاس کتنے سوال تھے
مگر اس سے قبل کہ پوچھتا، مری ساری عمر گزر گئی
میں تلاشِ شہرِ دگر میں ہوں، میں ازل سے ایک سفر میں ہوں
میں کسی بھی گھر میں نہیں رہا، مری ساری عمر گزر گئی
مرا اصل عینِ شہود تھا، کہ میں خود ورائے وجود تھا
نہ خودی ملی، نہ خدا ملا، مری ساری عمر گزر گئی
مرا اور ہی کوئی طور تھا، مرا ایک اپنا ہی دور تھا
مرا دور مجھ کو نہیں ملا، مری ساری عمر گزر گئی
مرے اپنے جوگ بجوگ تھے، نہ یہ شہر تھا، نہ یہ لوگ تھے
سو میں خود میں چھپ کے پڑا رہا، مری ساری عمر گزر گئی
مری کج نوشت عبارتیں، مری کم وفور عبادتیں
کوئی کام ٹھیک نہ کرسکا، مری ساری عمر گزر گئی
میں اسیرِ بادہءِ عشق تھا، میں فقیرِ جادہءِ عشق تھا
میں گزر چکا، میں گزر گیا، مری ساری عمر گزر گئی
ہر اک انجمن میں پڑھے گئے، مرے شعر خوب سنے گئے
مرا غم کسی نے نہیں سنا، مری ساری عمر گزر گئی
میں ہوں آپ اپنا شریکِ غم، مجھے اعتراف بہ چشمِ نم
مرا حق نہ مجھ سے ہوا ادا، مری ساری عمر گزر گئی
مری اُن صفات کا کیا بنا، مرے ممکنات کا کیا بنا
میں کہاں گیا، مرا کیا بنا، مری ساری عمر گزر گئی
مرا اختتام قریب ہے، تُو نئی غزل کا نقیب ہے
سو تری ہوئی یہ سخن سرا، مری ساری عمر گزر گئی
کہیں ہو نہ جاؤں میں رائگاں، کہیں ہو نہ جاؤں میں رائگاں
یہی خوف دل میں رہا سدا، مری ساری عمر گزر گئی
عرفان ستار

اک مصرعۂ تازہ بھی مگر کہہ نہ سکا میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 34
لفظوں کے برتنے میں بہت صرف ہوا میں
اک مصرعۂ تازہ بھی مگر کہہ نہ سکا میں
اک دستِ رفاقت کی طلب لے کے بڑھا میں
انبوہِ طرحدار میں اک شور اُٹھا میں!
آ تجھ کو تقابل میں الجھنے سے بچا لوں
سب کچھ ہے تری ذات میں، باقی جو بچا میں
میں اور کہاں خود نگری یاد ہے تجھ کو
جب تُو نے مرا نام لیا میں نے کہا میں؟
میں ایک بگولہ سا اٹھا دشتِ جنوں سے
روکا مجھے دنیا نے بہت پر نہ رُکا میں
یا مجھ سے گزاری نہ گئی عمرِ گریزاں
یا عمرِ گریزاں سے گزارا نہ گیا میں
معلوم ہوا مجھ میں کوئی رمز نہیں ہے
اک عمرِ ریاضت سے گزرنے پہ کھلا میں
جو رات بسر کی تھی مرے ہجر میں تُو نے
اُس رات بہت دیر ترے ساتھ رہا میں
عرفان ستار

جی نہیں لگ رہا کئی دن سے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 181
غم ہے بے ماجرا کئی دن سے
جی نہیں لگ رہا کئی دن سے
بے شمیمِ ملال و حیراں ہے
خیمہ گاہِ صبا کئی دن سے
دل محلے کی اس گلی میں بَھلا
کیوں نہیں غُل مچا کئی دن سے
وہ جو خوشبو ہے اس کے قاصد کو
میں نہیں مِل سکا کئی دن سے
اس سے بھی اور اپنے آپ سے بھی
ہم ہیں بےواسطہ کئی دن سے
جون ایلیا