ٹیگ کے محفوظات: سپنا

تیرا کاسہ بھرتے بھرتے خالی ہو بیٹھا کوئی!!

نینا عادل ۔ غزل نمبر 16
اورے سوالی بول سخی ہو گا اس کے جیسا کوئی؟
تیرا کاسہ بھرتے بھرتے خالی ہو بیٹھا کوئی!!
جانے جی میں آئی کیا! خود پاؤں میں ڈال لیا پھندا
تجھ کو پنچھی جال بچھاتے دیکھتا رہتا تھا کوئی!
من بھیتر جلتی بتیاں اور جاگنے لگتی تھیں رتیاں
دھیمے سروں میں گیت ملن کے ایسے گاتا تھا کوئی
اے قصّہ گو! ساری کتھائیں تیری سن لی ہیں ہم نے
تجھ سے بڑھ کر جھوٹا ہے اور نا تجھ سا سچا کوئی!
اس کے محل میں گونج رہا تھا جب مقتل کا سناٹا!!
شہزادی کے ماتھے پر کیا تم نے بل دیکھا کوئی؟
سوچا کرتا پھینک دوں اک کھائی میں مسافت اور ساماں
گٹھری اٹھائے روز و شب کی اتنا تھک جاتا کوئی
سب کو بھول کے دو سائے یوں اک دوجے میں سمٹ گئے
جیسے خواب ہو جگ سارا، جیسے جیون سپنا کوئی
نینا عادل

ہجر کی شب اورایسا چاند؟

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 36
پُورا دکھ اور آدھا چاند!
ہجر کی شب اورایسا چاند؟
دن میں وحشت بہل گئی تھی
رات ہُوئی اور نکلا چاند
کس مقتل سے گزرا ہو گا
اِتنا سہما سہما چاند
یادوں کی آباد گلی میں
گھوم رہا ہے تنہا چاند
میری کروٹ پر جاگ اُٹھے
نیند کا کتنا کچا چاند
میرے مُنہ کو کس حیرت سے
دیکھ رہا ہے بھولا چاند
اِتنے گھنے بادل کے پیچھے
کتنا تنہا ہو گا چاند
آنسو روکے نُور نہائے
دل دریا،تن صحرا چاند
اِتنے روشن چہرے پر بھی
سُورج کا ہے سایا چاند
جب پانی میں چہرہ دیکھا
تونے کِس کو سوچا چاند
برگد کی ایک شاخ ہٹا کر
جانے کس کو جھانکا چاند
بادل کے ریشم جُھولے میں
بھورسمے تک سویا چاند
رات کے شانوں پرسر رکھے
دیکھ رہا ہے سپنا چاند
سُوکھے پتوں کے جُھرمٹ پر
شبنم تھی یا ننّھا چاند
ہاتھ ہلا کر رخصت ہو گا
اُس کی صُورت ہجر کا چاند
صحر اصحرا بھٹک رہا ہے
اپنے عشق کا سچا چاند
رات کے شاید ایک بجے ہیں
سوتا ہو گا میرا چاند
پروین شاکر

جہل کو دانش کہیں ، بینا کو نابینا کہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 44
دَور ہی ایسا ہے، جو دیکھیں اُسے اُلٹا کہیں
جہل کو دانش کہیں ، بینا کو نابینا کہیں
شہرِ نو آباد کی یہ قُربتیں ، یہ دُوریاں
یعنی ہم برسوں کے ناواقف کو ہمسایا کہیں
اُن کا کہنا ہے کہ ہر ظاہر کا باطن اور ہے
جاگتی آنکھیں جو دِکھلائیں اُسے سپنا کہیں
وُہ جو کر دے زندگی کا سارا منظر خواب گُوں
کوئی آئے بھی نظر ایسا جسے تجھ سا کہیں
روز فرمائش کرے صورت گر دُنیا کہ ہم
مصلحت کے چہرۂ یک چشم گو زیبا کہیں
اُن میں کرتا ہے جو نا مُعتبر کو مُعتبر
وُہ مدارِ قسمتِ انساں ، جسے پیسا کہیں
کوئی کیوں جانے کہ ہم کب آئے کب رخصت ہوئے
زندگی کر لی، اِسے اب زحمتِ بے جا کہیں
آفتاب اقبال شمیم

یہ تو منصور کا چہرہ نہیں لگتا مجھ کو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 231
اجنبی ہے کوئی اپنا نہیں لگتا مجھ کو
یہ تو منصور کا چہرہ نہیں لگتا مجھ کو
اتنے ناپاک خیالات سے لتھڑی ہے فضا
حرفِ حق کہنا بھی اچھا نہیں لگتا مجھ کو
قتل تو میں نے کیا رات کے کمرے میں اسے
اور یہ واقعہ سپنا نہیں لگتا مجھ کو
پھر قدم وقت کے مقتل کی طرف اٹھے ہیں
یہ کوئی آخری نوحہ نہیں لگتا مجھ کو
وقت نے سمت کو بھی نوچ لیا گھاس کے ساتھ
چل رہا ہوں جہاں رستہ نہیں لگتا مجھ کو
کیسی تنہائی سی آنکھوں میں اتر آئی ہے
میں ہی کیا کوئی اپنا نہیں لگتا مجھ کو
موت کا کوئی پیالہ تھا کہ وہ آبِ حیات
جسم سقراط کا مردہ نہیں لگتا مجھ کو
اب تو آنکھیں بھی ہیں سورج کی طنابیں تھامے
اب تو بادل بھی برستا نہیں لگتا مجھ کو
ٹین کی چھت پہ گرا ہے کوئی کنکر منصور
شور ٹوٹے ہوئے دل کا نہیں لگتا مجھ کو
منصور آفاق