ٹیگ کے محفوظات: سپاہی

سپاہی

تُو مرے ساتھ کہاں جائے گی؟

۔۔۔ موت کا لمحہ ءِ مایوس نہیں،

قوم ابھی نیند میں ہے!

مصلحِ قوم نہیں ہوں کہ میں آہستہ چلوں

اور ڈروں قوم کہیں جاگ نہ جائے۔۔۔

میں تو اک عام سپاہی ہوں، مجھے

حکم ہے دوڑ کے منزل کے قدم لینے کا

اور اسی سعیِ جگر دوز میں جاں دینے کا

تُو مرے ساتھ مری جان، کہاں جائے گی؟

تُو مرے ساتھ کہاں جائے گی؟

راہ میں اونچے پہاڑ آئیں گے

دشتِ بے آب وگیاہ

اور کہیں رودِ عمیق

بے کراں، تیز و کف آلود و عظیم

اجڑے سنسان دیار

اور دشمن کے گرانڈیل جواں

جیسے کہسار پہ دیودار کے پیڑ

عزت و عفت و عصمت کے غنیم

ہر طرف خون کے سیلابِ رواں۔۔۔

اک سپاہی کے لیے خون کے نظاروں میں

جسم اور روح کی بالیدگی ہے

تُو مگر تاب کہاں لائے گی

تُو مرے ساتھ مری جان کہاں جائے گی؟

دم بدم بڑھتے چلے جاتے ہیں

سرِ میدان رفیق،

تُو مرے ساتھ مری جان کہاں جائے گی؟

عمر گزری ہے غلامی میں مری

اس سے اب تک مری پرواز میں کوتاہی ہے!

زمزمے اپنی محبت کے نہ چھیڑ

اس سے اے جان پر وبال میں آتا ہے جمود

میں نہ جاؤں گا تو دشمن کو شکست

آسمانوں سے بھلا آئے گی؟

دیکھ خونخوار درندوں کے وہ غول

میرے محبوب وطن کو یہ نگل جائیں گے؟

ان سے ٹکرانے بھی دے

جنگِ آزادی میں کام آنے بھی دے

تُو مرے ساتھ مری جان کہاں جائے گی؟

ن م راشد

عشق کیسا جس میں اتنی روسیاہی بھی نہ ہو

دیوان اول غزل 408
کیا ہے گر بدنامی و حالت تباہی بھی نہ ہو
عشق کیسا جس میں اتنی روسیاہی بھی نہ ہو
لطف کیا آزردہ ہوکر آپ سے ملنے کے بیچ
ٹک تری جانب سے جب تک عذر خواہی بھی نہ ہو
چاہتا ہے جی کہ ہم تو ایک جا تنہا ملیں
ناز بے جا بھی نہ ہووے کم نگاہی بھی نہ ہو
مجمع ترکاں ہے کوئی دیکھیو جاکر کہیں
جس کا میں کشتہ ہوں اس میں وہ سپاہی بھی نہ ہو
مجھ کو آوارہ جو رکھتا ہے مگر چاہے ہے چرخ
ماتم آسائش غفراں پناہی بھی نہ ہو
نازبرداری تری کرتے تھے اک امید پر
راستی ہم سے نہیں تو کج کلاہی بھی نہ ہو
یہ دعا کی تھی تجھے کن نے کہ بہر قتل میر
محضر خونیں پہ تیرے اک گواہی بھی نہ ہو
میر تقی میر

سپاہی

تم اس وقت کیا تھے

تمہارے محلکوں، تمہارے گھروں میں تو سب کچھ تھا

آسائشیں بھی، وسیلے بھی

اس کبریائی کی ہر تمکنت بھی!

سبھی کچھ تمہارے تصرف میں تھا ۔۔۔ زندگی کا ہر اک آسرا بھی

کڑے بام و در بھی

خزانے بھی، زر بھی

چمن بھی، ثمر بھی

مگر تم خود اس وقت کیا تھے

تمہاری نگاہوں میں دنیا دھوئیں کا بھنور تھی

جب اڑتی ہلاکت کے شہپر تمہارے سروں پر سے گزرے

تمہاری نگاہوں میں دنیا دھوئیں کا بھنور تھی

اگر اس مقدس زمیں پر مرا خوں نہ بہتا

اگر دشمنوں کے گرانڈیل ٹینکوں کے نیچے

مری کڑکڑاتی ہوئی ہڈیاں خندقوں میں نہ ہوتیں

تو دوزخ کے شعلے تمہارے معطر گھروندوں کی دہلیز پر تھے

تمہارے ہر اک بیش قیمت اثاثے کی قیمت

اسی سرخ مٹی سے ہے جس میں میرا لہو رچ گیا ہے

مجید امجد

دائم مری گواہی مرا ایک ایک لفظ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 203
ہے وجہ کج کلاہی مرا ایک ایک لفظ
دائم مری گواہی مرا ایک ایک لفظ
اے حکمرانِ ملک خدا داد ، ظلم روک
تیرے لئے تباہی مرا ایک ایک لفظ
ہر چوک پر کھڑا ہے بڑے اعتماد سے
سچائی کا سپاہی مرا ایک ایک لفظ
رقصاں نئی شعاعیں مری چشمِ خواب میں
صبحوں کی خوش نگاہی مرا ایک ایک لفظ
لکھتا رہا ترے ہی قیصدے اے آفتاب
کرتا رہا ضیاہی مرا ایک ایک لفظ
تجھ سے ملا تو پھول بھی خوشبو بھی بن گیا
بادِ صبا تو تھا ہی مرا ایک ایک لفظ
تہذیبِ حسن باطنی مری غزل ہوئی
حیرت بھری صراحی مرا ایک ایک لفظ
منصور کی بھی بڑ یہی سرمد کا دھڑ یہی
تسلیم !خانقاہی مرا ایک ایک لفظ
منصور آفاق