ٹیگ کے محفوظات: سپارہ

ہمیں اب تو خدایا نیند آئے

نینا عادل ۔ غزل نمبر 19
تھمے یہ شور سارا نیند آئے
ہمیں اب تو خدایا نیند آئے
صداؤں کے گھنے جنگل سے نکلوں
کروں خود میں بسیرا، نیند آئے
نہ دیکھوں خواب میں کوئی دوبارہ
اگر مجھ کو دوبارہ نیند آئے
سناؤ نا کوئی جھوٹی کہانی
بنے کوئی بہانہ نیند آئے
مری بنتی نہیں اپنے خدا سے
پڑھوں جب بھی سپارہ نیند آئے
کہاں ڈھونڈوں بھلا دو پل سکوں کے
ترے پہلو میں جب نہ نیند آئے
تھکن سے چور ہیں بے خواب لمحے
ملے کوئی اشارہ نیند آئے
نینا عادل