ٹیگ کے محفوظات: سِلے

بھُلا ہی دیں گے اگر دل میں کچھ گِلے ہوئے بھی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 62
اب آ بھی جاؤ ، بہت دن ہوئے مِلے ہوئے بھی
بھُلا ہی دیں گے اگر دل میں کچھ گِلے ہوئے بھی
ہماری راہ الگ ہے، ہمارے خواب جُدا
ہم اُن کے ساتھ نہ ہوں گے، جو قافلے ہوئے بھی
ہجومِ شہرِ خرد میں بھی ہم سے اہلِ جنوں
الگ دِکھیں گے، گریباں جو ہوں سِلے ہوئے بھی
ہمیں نہ یاد دلاؤ ہمارے خوابِ سخن
کہ ایک عُمر ہوئے ہونٹ تک ہِلے ہوئے بھی
نظر کی، اور مناظر کی بات اپنی جگہ
ہمارے دل کے کہاں اب، جو سلسلے ہوئے بھی
یہاں ہے چاکِ قفس سے اُدھر اک اور قفس
سو ہم کو کیا، جو چمن میں ہوں گُل کھِلے ہوئے بھی
ہمیں تو اپنے اُصولوں کی جنگ جیتنی ہے
کسے غرض، جو کوئی فتح کے صِلے ہوئے بھی
عرفان ستار

شکستِ خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 66
بجا کہ آنکھوں میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں
شکستِ خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیں
نہیں نہیں ! یہ خبر دشمنوں نے دی ہو گی
وہ آئے! آکے چلے بھی گئے، ملے بھی نہیں
یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں
ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں
ابھی سے میرے رفوگر کے ہاتھ تھکنے لگے
ابھی تو چاک مرے زخم کے سِلے بھی نہیں
خفا اگرچہ ہمیشہ ہُوئے مگر اب
وہ برہمی ہے کہ ہم سے انہیں گِلے بھی نہیں
پروین شاکر