ٹیگ کے محفوظات: سِلا

وہ کسی خوابِ گریزاں میں مِلا ہے سو کہاں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 58
دشتِ افسُردہ میں اک پھول کھلا ہے سو کہاں
وہ کسی خوابِ گریزاں میں مِلا ہے سو کہاں
ہم نے مدت سے کوئی ہجو نہ واسوخت کہی
وہ سمجھتے ہیں ہمیں اُن سے گلہ ہے سو کہاں
ہم تیری بزم سے اُٹھے بھی تو خالی دامن
لوگ کہتے ہیں کہ ہر دُ کھ کا صلہ ہے سو کہاں
آنکھ اسی طور برستی ہے تو دل رستا ہے
یوں تو ہر زخم قرینے سے سِلا ہے سو کہاں
بارہا کوچۂ جاناں سے بھی ہو آئے ہیں
ہم نے مانا کہیں جنت بھی دلا ہے سو کہاں
جلوۂ دوست بھی دُھندلا گیا آخر کو فراز
ورنہ کہنے کو تو غم، دل کی جلا ہے سو کہاں
احمد فراز

اب میں لبِ زخمِ بے گِلہ ہوں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 91
خود مست ہوں خود سے آملا ہوں
اب میں لبِ زخمِ بے گِلہ ہوں
میں ہمسفروں کی گرد کے بیچ
اک خود سفری کا قافلہ ہوں
خوشبو کے بدن میں تیرا ملبوس
دم لے کہ ابھی نہیں سِلا ہوں
میں نشہء ذات میں نہتا
احباب سے اپنے آ مِلا ہوں
میں صر صرِ لفظ میں ہوں معنی
پس اپنی جگہ سے کب ہِلا ہوں
جون ایلیا