ٹیگ کے محفوظات: سویرے

ہم دونوں میں رنجش تھی اور بچے گھر میں سہمے تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
ناداری کی لعنت سے ہم عید کے دن بھی الجھے تھے
ہم دونوں میں رنجش تھی اور بچے گھر میں سہمے تھے
چاند ہنسی کا کُہرِ الم میں، چاند سحر کا ٹھہرا تھا
کیا بتلائیں راہ میں اپنی راحت کے کیا رخنے تھے
گرد، ہَوا، خاشاک اور خس کے وہم نے سارے بند کئے
شوخ اور شنگ رُتوں تک جو بھی جانے والے رستے تھے
جوڑ کے شاخ پہ امیدوں کی تنکا تنکا کاوش کا
چڑیوں جیسے خواب سہانے ہم نے بھی کیا دیکھے تھے
سر سے سُورج کے ڈھلنے تک لطف تھے سب ٹھہراؤ کے
پھر تو جانبِ ظلمت بڑھتے ہر خواہش کے سائے تھے
جیون کے وہ سارے موڑ ہی رہ گئے ماجدؔ! دور بہت
آنکھ میں جب کلیوں کی صورت کھلتے سانجھ سویرے
ماجد صدیقی

سوز و درد و داغ و الم سب جی کو گھیرے پھرتے ہیں

دیوان سوم غزل 1177
عشق نے خوار و ذلیل کیا ہم سر کو بکھیرے پھرتے ہیں
سوز و درد و داغ و الم سب جی کو گھیرے پھرتے ہیں
ہر شب ہوں سرگشتہ و نالاں اس بن کوچہ و برزن میں
یاس نہیں ہے اب بھی دیکھوں کب دن میرے پھرتے ہیں
دل لشکر میں ایک سپاہی زادے نے ہم سے چھین لیا
ہم درویش طلب میں اس کی ڈیرے ڈیرے پھرتے ہیں
بے خود اس کی زلف و رخ کے کاہے کو آپ میں پھر آئے
ہم کہتے ہیں تسلی دل کو سانجھ سویرے پھرتے ہیں
نقش کسو کا درون سینہ گرم طلب ہیں ویسے رنگ
جیسی خیالی پاس لیے تصویر چتیرے پھرتے ہیں
برسے اگر شمشیر سروں پر منھ موڑیں زنہار نہیں
سیدھے جانے والے ادھر کے کس کے پھیرے پھرتے ہیں
پاے نگار آلودہ کہیں سانجھ کو میر نے دیکھے تھے
صبح تک اب بھی آنکھوں میں اس کی پائوں تیرے پھرتے ہیں
میر تقی میر

تیرے میرے ملن دے موقعے، حالیں ہَین بتیرے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 97
موتے مینتھوں بچ کے رہئو، میں ہتھ نئیں آونا تیرے
تیرے میرے ملن دے موقعے، حالیں ہَین بتیرے
ٹُر جانا ایں اکھ مٹکاّ لا کے، راہ دیاں راہیاں
وسدے رہن گے اِنج ائی سجناں، تیرے بَن بنیرے
بھانویں لمیاں پندھاں کولوں، لکھ ڈرا توں سانوں
اسّاں نہ جھُگی پا کے بہنا، تک لئیں سانجھ سویرے
ہک دے زور تے، ہتھ اُٹھا کے، لہوئیے وچ مداناں
لوک تے پِڑکوڈی وچ تکدے، شملے اچ اچیرے
نال میرے ایس کھیتی چوں، من بھاؤندا حاصل لبھ لَے
مان نہ کر توں ساہواں دا، ایہہ نہ تیرے نہ میرے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)