ٹیگ کے محفوظات: سوچنا

کیا اور نجانے دیکھنا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
ہر سمت ہی حشر اِک بپا ہے
کیا اور نجانے دیکھنا ہے
نِت اپنی جھلک دکھانے آئے
وُہ بُوم کہ بام پر بسا ہے
اِک اور کی ڈور سے وُہ دیکھو
اِک اور پتنگ لُٹ چلا ہے
جارِح کو گئے تھے جو دکھانے
وُہ زخم تو پھر بھی اَن سِلا ہے
گر دِل نہ رکاوٹوں کو مانے
مشکل ہو کوئی بھی سو وُہ کیا ہے
دِن کتنے ہیں اور کام کتنے
ماجِد تُجھے یہ بھی سوچنا ہے
ماجد صدیقی

نقشِ پا اپنے کہیں پر کھوجنا بے فائدہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 418
اپنے بارے میں کسی سے پوچھنا بے فائدہ
نقشِ پا اپنے کہیں پر کھوجنا بے فائدہ
جا کہیں دفنا دے گزرے موسموں کی میتیں
دیکھ مردہ مسئلوں پر سوچنا بے فائدہ
جب نظر میں صبحِ دوشیزہ کا ہو حسنِ خرام
چاند کی گردن میں باہیں ڈالنا بے فائدہ
کیا تعلق کی لحد پر فاتحہ خوانی کروں
ایک پتھر کے بدن سے بولنا بے فائدہ
اب یہی بہتر ہے دونوں بھول جائیں گزرے دن
اب کہیں کچھ دیر مل کر بیٹھنا بے فائدہ
ہیر کو منصور کھیڑے لے گئے ہیں اپنے ساتھ
آنسوئوں سے اب ستارے ڈھالنا بے فائدہ
تیری خوشبوئے بدن سے ساونی کے رنگ ہیں
تُو نہ ہو تو بارشوں میں بھیگنا بے فائدہ
صبح کے یخ بستہ خالی صحن میں تیرے بغیر
نرم و نازک دھوپ کے پر کھولنا بے فائدہ
جز ترے کیا موجِ دریا، جز ترے کیابادِ شام
تُو نہ ہو تو ساحلوں پر گھومنابے فائدہ
تیرے بن کیا عکس اپنا، تیرے بن تمثال کیا
تُو نہیں تو پانیوں میں دیکھنا بے فائدہ
تیرے ہونے سے یہ گندم کی سنہری بالیاں
ورنہ بیجوں کا تہوں سے پھوٹنا بے فائدہ
تُو نہ ہو توکیا درختوں سے ہوا کی گفتگو
شاخِ گل پہ کونپلوں کا جاگنا بے فائدہ
تُونہ ہو تو راستوں میں بھولنے کا لطف کیا
اب مرا پگڈنڈیوں کو ناپنا بے فائدہ
جز ترے سندر رتیں بے کار ،بے مصرف تمام
تُو نہیں تو موسموں کا سامنا بے فائدہ
منصور آفاق