ٹیگ کے محفوظات: سونے

شجر پہ پات تھے جتنے وہ زرد ہونے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 63
تھے جتنے ذائقے وہ اپنا لطف کھونے لگے
شجر پہ پات تھے جتنے وہ زرد ہونے لگے
وہی جو کھینچ کے لائے تھے کشتیوں سے ہمیں
بھنور کے بیچ وہ ناؤ ہیں اب ڈبونے لگے
کٹے ہیں جن کے بھی رشتے کہ تھے جو جزو بدن
سکوں کی نیند بھلا وہ کہاں ہیں سونے لگے
ہیں جتنے دل بھی غرض کی تپش سے بنجرہیں
یہ ہم کہاں ہیں محبت کے بیج بونے لگے
یہ واقعہ ہے کہ وہ حبسِدم سے ہو آزاد
بحال کرب کوئی، جب بھی کھُل کے رونے لگے
ملے جو شاہ بھی تقلیلِ رزقِ خلق سے وُہ
رگوں میں جبر کے نشتر نئے چبھونے لگے
ترے یہ حرف کہ جگنو ہیں ا شک ہیں ماجد
ہیں سانس سانس میں، کیا کیا گہر پرونے لگے
ماجد صدیقی

شجر پہ پات تھے جتنے ، وہ زرد ہونے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
تھے جتنے ذائقے وہ اپنا لطف کھونے لگے
شجر پہ پات تھے جتنے ، وہ زرد ہونے لگے
وہی جو کھینچ کے لائے تھے کشتیوں سے ہمیں
بھنور کے بیچ وہ ناؤ ہیں اب ڈبونے لگے
کٹے ہیں جن کے بھی رشتے، کہ تھے جو جزوِ بدن
سکوں کی نیند بھلا، وہ کہاں ہیں سونے لگے
ہیں جتنے دل بھی غرض کی تپش سے بنجر ہیں
یہ ہم کہاں ہیں محبت کے بیج بونے لگے
یہ واقعہ ہے کہ وہ حبسِ دم سے ہو آزاد
بحالِ کرب کوئی، جب بھی کھُل کے رونے لگے
ملے جو شاہ بھی ، تقلیلِ رزقِ خلق سے وُہ
رگوں میں جبر کے نشتر نئے چبھونے لگے
ترے یہ حرف کہ جگنو ہیں ، ا شک ہیں ماجد
ہیں سانس سانس میں، کیا کیا گہر پرونے لگے
ماجد صدیقی

شہر کی بھیڑ میں کھونے نہیں دیتا کوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 210
ہم سے رُخصت ہمیں ہونے نہیں دیتا کوئی
شہر کی بھیڑ میں کھونے نہیں دیتا کوئی
ہر طرف پرسشِ غم، پرسشِ غم پرسشِ غم
چین سے بوجھ بھی ڈھونے نہیں دیتا کوئی
لوگ دَریا میں اُترنے سے ڈراتے ہیں بہت
جسم پانی میں ڈبونے نہیں دیتا کوئی
یہ گزرگاہ کا سناٹا، یہ پُرشور ہوا
کھڑکیاں کھول کے سونے نہیں دیتا کوئی
باغ میں سبزۂ شاداب بہت ہے لیکن
اَوس سے پاؤں بھگونے نہیں دیتا کوئی
عرفان صدیقی

مجھے بیدار طالع قبر میں سونے کہاں دے گا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 75
کرم اسمِ محمدﷺ کا فنا ہونے کہاں دے گا
مجھے بیدار طالع قبر میں سونے کہاں دے گا
اگرچہ ہوں ابھی بچپن کی کچی نیند میں لیکن
مرے اندر چھپا بوڑھا مجھے رونے کہاں دے گا
وہ جس کو خوف ہے دوزخ کہیں خالی نہ رہ جائے
وہی اشکِ ندامت سے گنہ دھونے کہاں دے گا
جسے اپنی دھڑکتی زندگی سے خوف آتا ہے
وہی ،دل سینۂ مہتاب میں بونے کہاں دے گا
جمالِ اسم اعظم کے بہشت آباد میں منصور
وصالِ یار کا دوزخ مجھے کھونے کہاں دے گا
منصور آفاق

بہت روئے مگر رونے نہ پائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 188
وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے
بہت روئے مگر رونے نہ پائے
کچھ اتنا شور تھا شہر سبا میں
مسافر رات بھر سونے نہ پائے
جہاں تھی حادثہ ہر بات باقیؔ
وہیں کچھ حادثے ہونے نہ پائے
باقی صدیقی