ٹیگ کے محفوظات: سودائی

بیوگاں سی گُنگ تنہائی لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
لب بہ لب جو ہر کہیں چھائی لگے
بیوگاں سی گُنگ تنہائی لگے
ناتواں کی سمت میزائل کی کاٹ
جابروں کو صَوتِ شہنائی لگے
اسلحہ چھینے نوالے خلق کے
اور روزافزوں یہ مہنگائی لگے
سُو بہ سُو پھیلے ہیں پھندے حرص کے
ہر قدم پر سامنے کھائی لگے
امن کی جانب توجّہ چاہتی
جو صدا بھی ہے وُہ بھرّائی لگے
ہم سخن کی سلطنت کے شاہ ہیں
ہاں ہمیں زیبا یہ دارائی لگے
گُم شدہ محمل جو ڈھونڈے دشت میں
اپنا ماجِد بھی وُہ سَودائی لگے
ماجد صدیقی

آخر اس اوباش نے مارا رہتی نہیں ہے آئی ہوئی

دیوان چہارم غزل 1506
کب وعدے کی رات وہ آئی جو آپس میں نہ لڑائی ہوئی
آخر اس اوباش نے مارا رہتی نہیں ہے آئی ہوئی
چاہ میں اس بے الفت کی گھبراہٹ دل ہی کو تو نہیں
سارے حواسوں میں ہے تشتت جان بھی ہے گھبرائی ہوئی
گرچہ نظر ہے پشت پا پر لیکن قہر قیامت ہے
گڑ جاتی ہے دل میں ہمارے آنکھ اس کی شرمائی ہوئی
جنگل جنگل شوق کے مارے ناقہ سوار پھرا کی ہے
مجنوں جو صحرائی ہوا تو لیلیٰ بھی سودائی ہوئی
دود دل سوزان محبت محو جو ہو تو عرش پہ ہو
یعنی دور بجھے گی جا کر عشق کی آگ لگائی ہوئی
چتون کے انداز سے ظالم ترک مروت پیدا ہے
اہل نظر سے چھپتی نہیں ہے آنکھ کسو کی چھپائی ہوئی
میر کا حال نہ پوچھو کچھ تم کہنہ رباط سے پیری میں
رقص کناں بازار تک آئے عالم میں رسوائی ہوئی
میر تقی میر

یار گیا مجلس سے دیکھیں کس کس کی اب آئی ہے

دیوان چہارم غزل 1495
حال نہیں ہے دل میں مطلق شور و فغاں رسوائی ہے
یار گیا مجلس سے دیکھیں کس کس کی اب آئی ہے
آنکھیں مل کر کھولیں ان نے عالم میں آشوب اٹھا
بال کھلے دکھلائی دیا سو ہر کوئی سودائی ہے
ڈول بیاں کیا کوئی کرے اس وعدہ خلاف کی دیہی کا
ڈھال کے سانچے میں صانع نے وہ ترکیب بنائی ہے
نسبت کیا ان لوگوں سے ہم کو شہری ہیں دیوانے ہم
ہے فرہاد اک آدم کوہی مجنوں اک صحرائی ہے
ہے پتھر سا چھاتی میں میری کثرت غم کی حیرت سے
کیا کہیے پہلو سے دل کے سخت اذیت پائی ہے
باغ میں جاکر ہم جور ہے سو اور دماغ آشفتہ ہوا
کیا کیا سر پہ ہمارے آ کر بلبل شب چلائی ہے
کیسا کیسا عجز ہے اپنا کیسے خاک میں ملتے ہیں
کیا کیا ناز و غرور اس کو ہے کیا کیا بے پروائی ہے
قصہ ہم غربت زدگاں کا کہنے کے شائستہ نہیں
بے صبری کم پائی ہے پھر دور اس سے تنہائی ہے
چشمک چتون نیچی نگاہیں چاہ کی تیری مشعر ہیں
میر عبث مکرے ہے ہم سے آنکھ کہیں تو لگائی ہے
میر تقی میر

آسماں سے زمین نپوائی

دیوان سوم غزل 1310
بات کیا آدمی کی بن آئی
آسماں سے زمین نپوائی
چرخ زن اس کے واسطے ہے مدام
ہو گیا دن تمام رات آئی
ماہ و خورشید و ابر و باد سبھی
اس کی خاطر ہوئے ہیں سودائی
کیسے کیسے کیے تردد جب
رنگ رنگ اس کو چیز پہنچائی
اس کو ترجیح سب کے اوپر دی
لطف حق نے کی عزت افزائی
حیرت آتی ہے اس کی باتیں دیکھ
خودسری خودستائی خودرائی
شکر کے سجدوں میں یہ واجب تھا
یہ بھی کرتا سدا جبیں سائی
سو تو اس کی طبیعت سرکش
سر نہ لائی فرو کہ ٹک لائی
میر ناچیز مشت خاک اللہ
ان نے یہ کبریا کہاں پائی
میر تقی میر

جنگل میں نکل آئے کچھ واں بھی نہ بن آئی

دیوان سوم غزل 1252
تدبیر غم دل کی بستی میں نہ ٹھہرائی
جنگل میں نکل آئے کچھ واں بھی نہ بن آئی
خواہش ہو جسے دل کی دل دوں اسے اور سر بھی
میں نے تو اسی دل سے تصدیع بہت پائی
بے پردہ نہ ہونا تھا اسرار محبت کو
عاشق کشی ہے جب سے ہے عشق کی رسوائی
گھر دل کا بہت چھوٹا پر جاے تعجب ہے
عالم کو تمام اس میں کس طرح ہے گنجائی
گھر بار لٹایا جب تب وہ سہی قد آیا
مفلوک ہوئے اب ہم کر خرچ یہ بالائی
خوبی سے ندان اس کی سب صورتیں یاں بگڑیں
وہ زلف بنی دیکھی سب بن گئے سودائی
کیا عہدہ برآئی ہو اس گل کی دورنگی سے
ہر لحظہ ہے خودرائی ہر آن ہے رعنائی
عاشق کی جسے ہووے کچھ قدر نہیں پیدا
جیتا نہ رہا اب تک مجنوں ہی کو موت آئی
آزار بہت کھینچے اب میر توکل ہے
کھینچی نہ گئی ہم سے ہر ایک کی مرزائی
میر تقی میر

اے مری موت تو بھلی آئی

دیوان اول غزل 452
ہو گئی شہر شہر رسوائی
اے مری موت تو بھلی آئی
یک بیاباں برنگ صوت جرس
مجھ پہ ہے بیکسی و تنہائی
نہ کھنچے تجھ سے ایک جا نقاش
اس کی تصویر وہ ہے ہرجائی
سر رکھوں اس کے پائوں پر لیکن
دست قدرت یہ میں کہاں پائی
میر جب سے گیا ہے دل تب سے
میں تو کچھ ہو گیا ہوں سودائی
میر تقی میر

ہر گلی شہر کی یاں کوچۂ رسوائی تھا

دیوان اول غزل 53
یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھا
ہر گلی شہر کی یاں کوچۂ رسوائی تھا
اتنی گذری جو ترے ہجر میں سو اس کے سبب
صبر مرحوم عجب مونس تنہائی تھا
تیرے جلوے کا مگر رو تھا سحر گلشن میں
نرگس اک دیدئہ حیران تماشائی تھا
یہی زلفوں کی تری بات تھی یا کاکل کی
میر کو خوب کیا سیر تو سودائی تھا
میر تقی میر