ٹیگ کے محفوظات: سوا

ارماں پسِ چشم جو رُکا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
ہر آن بدن پہ بوجھ سا ہے
ارماں پسِ چشم جو رُکا ہے
جس میں نیا رنج روز اُترے
دِل ایسا ہی فرد آئنہ ہے
ہر سمت شروع میں سفر کے
دیکھا ہے جِدھر بھنور نیا ہے
رفعت کا ہے جو بھی اگلا زینہ
لاریب وُہ قوّت آزما ہے
اعصاب پڑے ہیں ماند جب سے
ہر تازہ سفر کٹھن سَوا ہے
بارش کو ترستا مُرغِ گِریاں
ماجِد! ترا حرفِ مُدّعا ہے
ماجد صدیقی

جو ناروا ہے تم اُس کو بھی اَب روا کہنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 132
بنے نہ بات تو بندوں کو بھی خُدا کہنا
جو ناروا ہے تم اُس کو بھی اَب روا کہنا
نہیں ہے کچھ بھی کسی پر گر آسماں ٹوٹے
جو اپنی جان پہ گزرے اُسے سَوا کہنا
کوئی طبیب ہو رکھتا ہے وہ عزیز ہمیں
کہ آ گیا ہے ہمیں درد کو دوا کہنا
نہیں نصیب میں جب حرف کے پذیرائی
تو دل میں کرب ہے جو بھی کسی سے کیا کہنا
کسی کا درد ہو آئے نظر وُہ سوتیلا
ہے آشنا کو بھی مشکل اب آشنا کہنا
ہے حرفِ حق کا تقاضا کہ دل میں ہو تو اُسے
کھلِے گلاب کی مانند برملا کہنا
تمیز، فہم سے اَب یہ اُٹھا ہی دو ماجدؔ!
کہ جو بُرا ہے اُسے بھی نہیں بُرا کہنا
ماجد صدیقی

وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 107
یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے
یہ کن نظروں سے تو نے آج دیکھا
کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے
ہمیشہ کے لئے مجھ سے بچھڑ جا
یہ منظر بار ہا دیکھا نہ جائے
غلط ہے جو سنا، پر آزما کر
تجھے اے بے وفا دیکھا نہ جائے
یہ محرومی نہیں پاسِ وفا ہے
کوئی تیرے سوا دیکھا نہ جائے
یہی تو آشنا بنتے ہیں آخر
کوئی نا آشنا دیکھا نہ جائے
فراز اپنے سوا ہے کون تیرا
تجھے تجھ سے جدا دیکھا نہ جائے
احمد فراز

جانِ من حُسن کی بات اپنی جگہ، مسئلہ کوئی اس کے سوا بھی تو ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 87
تجھ کو چشمِ تحیّر سے تکتا ہوا، صرف میں ہی نہیں آئنہ بھی تو ہے
جانِ من حُسن کی بات اپنی جگہ، مسئلہ کوئی اس کے سوا بھی تو ہے
دشتِ فرقت کی اس تشنگی تک نہیں، آزمائش فقط ہجر ہی تک نہیں
اس سے آگے تمنا کے اظہار کا، ایک دشوار تر مرحلہ بھی تو ہے
میرا لہجہ تعلق سے بھرپور تھا، اور چہرہ تاثر سے معمور تھا
خال و خد سے اُدھر لفظ سے ماورا، ایک احوالِ بے ماجرا بھی تو ہے
حُسن تیرا بہت جاں فزا ہی سہی، روح پرور سہی خوش ادا ہی سہی
سن مگر دل رُبا تیرا نغمہ سرا، دیکھتا ہی نہیں سوچتا بھی تو ہے
حرف کی جستجو میں پگھلتا رہا، شاعرِ خوش نوا روز جلتا رہا
تُو سنے تو سنے ورنہ ہر بات کا، سننے والا کہیں اک خدا بھی تو ہے
کس قدر خوش نفس، کس قدر خوش ادا، یاد کے پھول کھلتے ہوئے جا بہ جا
عشق کی راہ میں غم اگر ہیں تو کیا، عشق کے دم سے ایسی فضا بھی تو ہے
وہ توقع پہ پورا اترتا نہیں، میں اگر چپ رہوں تو سمجھتا نہیں
یوں تو کہنے کو ہے وہ مرا ہم نوا، اک سخن کا مگر فاصلہ بھی تو ہے
وہ نہیں تو سخن کی ضرورت نہیں، مجھ کو سب سے تکلّم کی عادت نہیں
ہجر سے کچھ سوا ہے مرا واقعہ، حرف کی موت کا سانحہ بھی تو ہے
عرفان ستار

کس کو معلوم کہ باہر بھی ہوا ہے کہ نہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 50
خانۂ دل کی طرح ساری فضا ہے کہ نہیں
کس کو معلوم کہ باہر بھی ہوا ہے کہ نہیں
جشن برپا تو ہوا تھا دمِ رخصت لیکن
وہی ہنگامہ مرے بعد بپا ہے کہ نہیں
پوچھتا ہے یہ ہر اک خار سرِ دشتِ طلب
آنے والا بھی کوئی آبلہ پا ہے کہ نہیں
دیکھ تو جا کہ مسیحائے غمِ عشق اُسے
ہاتھ اب تک یونہی سینے پہ دھرا ہے کہ نہیں
دل کے تاریک در و بام سے اکثر ترا غم
پوچھتا ہے کہ کوئی میرے سوا ہے کہ نہیں
میں کہیں ہوں کہ نہیں ہوں، وہ کبھی تھا کہ نہ تھا
خود ہی کہہ دے یہ سخن بے سر و پا ہے کہ نہیں
فیصلہ لوٹ کے جانے کا ہے دشوار بہت
کس سے پوچھوں وہ مجھے بھول چکا ہے کہ نہیں
میں تو وارفتگیٔ شوق میں جاتا ہوں اُدھر
نہیں معلوم وہ آغوش بھی وا ہے کہ نہیں
جانے کیا رنگ چمن کا ہے دمِ صبحِ فراق
گُل کھلے ہیں کہ نہیں بادِ صبا ہے کہ نہیں
اے شبِ ہجر ذرا دیر کو بہلے تو یہ دل
دیکھ عرفانؔ کہیں نغمہ سرا ہے کہ نہیں
عرفان ستار

یہ ترا واہمہ نہیں، میں ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 31
رفتگاں کی صدا نہیں، میں ہوں
یہ ترا واہمہ نہیں، میں ہوں
تیرے ماضی کے ساتھ دفن کہیں
میرا اک واقعہ نہیں، میں ہوں
کیا ملا انتہا پسندی سے؟
کیا میں تیرے سوا نہیں، میں ہوں
ایک مدت میں جا کے مجھ پہ کھلا
چاند حسرت زدہ نہیں، میں ہوں
اس نے مجھ کو محال جان لیا
میں یہ کہتا رہا نہیں، میں ہوں
میں ہی عجلت میں آ گیا تھا ادھر
یہ زمانہ نیا نہیں، میں ہوں
میری وحشت سے ڈر گئے شاید
یار بادِ فنا نہیں، میں ہوں
میں ترے ساتھ رہ گیا ہوں کہیں
وقت ٹھہرا ہوا نہیں، میں ہوں
گاہے گاہے سخن ضروری ہے
سامنے آئنہ نہیں، میں ہوں
سرسری کیوں گزارتا ہے مجھے
یہ مرا ماجرا نہیں، میں ہوں
اس نے پوچھا کہاں گیا وہ شخص
کیا بتاتا کہ تھا نہیں، میں ہوں
یہ کسے دیکھتا ہے مجھ سے اُدھر
تیرے آگے خلا نہیں، میں ہوں
عرفان ستار

ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 23
جنوں کے دم سے آخر مرتبہ کیسا ملا مجھ کو
ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو
کسی صورت بھی رد ہوتا نہیں یہ فیصلہ دل کا
نظر آتا نہیں کوئی بھی تجھ سا دوسرا مجھ کو
سرِ کنجِ تمنا پھر خوشی سے گنگنائوں گا
اگر وہ لوٹ کر آئے تو پھر تم دیکھنا مجھ کو
نہ جانے رشک سے، غصے سے، غم سے یا رقابت سے
یہ کس انداز سے تکتا ہے تیرا آئنہ مجھ کو
کھلے تو سب زمانوں کے خزانے ہاتھ آ جائیں
درِ اقلیمِ صد عالم ہے وہ بندِ قبا مجھ کو
گماں میں بھی گماں لگتی ہے اب تو زندگی میری
نظر آتا ہے اب وہ خواب میں بھی خواب سا مجھ کو
کثافت بار پا سکتی نہیں ایسی لطافت میں
کرم اُس کا کہ بخشا دل کے بدلے آئنہ مجھ کو
صبا میری قدم بوسی سے پہلے گُل نہ دیکھے گی
اگر وحشت نے کچھ دن باغ میں رہنے دیا مجھ کو
نہ نکلی آج گر کوئی یہاں یکجائی کی صورت
تو کل سے ڈھونڈتے پھرنا جہاں میں جا بہ جا مجھ کو
گزر گاہِ نفس میں ہوں مثالِ برگِ آوارہ
کوئی دم میں اڑا لے جائے گی بادِ فنا مجھ کو
وہ دل آویز آنکھیں، وہ لب و رخسار، وہ زلفیں
نہیں اب دیکھنا کچھ بھی نہیں اس کے سوا مجھ کو
ازل سے تا ابد، دنیا سے لے کر آسمانوں تک
نظر آتا ہے تیری ہی نظر کا سلسلہ مجھ کو
مرے ہونے سے ہی کچھ اعتبار اس کا بھی قائم ہے
جنوں تم سے نمٹ لے گا جو دیوانہ کہا مجھ کو
کوئی عرفانؔ مجھ میں سے مجھے آواز دیتا ہے
ارے تُو سوچتا کیا ہے کبھی کچھ تو بتا مجھ کو
عرفان ستار

تو میرے پاس سے اس وقت جا نئیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 95
مرا یہ مشورہ ہے، التجا نئیں
تو میرے پاس سے اس وقت جا نئیں
کوئی دم چین پڑ جاتا مجھے بھی
مگر میں خود سے دم بھر کو جدا نئیں
میں خود سے کچھ بھی کیوں منوا رہا ہوں
میں یاں اپنی طرف بھیجا ہوا نئیں
پتا ہے جانے کس کا نام میرا
مرا کوئی پتا میرا پتا نئیں
سفر درپیش ہے اک بے مسافت
مسافت ہو تو کوئی فاصلہ نئیں
ذرا بھی مجھ سے تم غافل نہ رہیو
میں بے ہوشی میں بھی بے ماجرا نئیں
دکھ اس کے ہجر کا اب کیا بتاؤں
کہ جس کا وصل بھی تو بے گلہ نئیں
ہیں اس قامت سوا بھی کتنے قامت
پر اک حالت ہے جو اس کے سوا نئیں
محبت کچھ نہ تھی جز بد حواسی
کہ وہ بندِ قبا ہم سے کھلا نئیں
وہ خوشبو مجھ سے بچھڑی تھی یہ کہہ کر
منانا سب کو پر اب روٹھنا نئیں
جون ایلیا

گلہ کرو کے گلہ بھی نہیں رہا اب تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 63
کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو
گلہ کرو کے گلہ بھی نہیں رہا اب تو
شکستِ ذات کا اقرار اور کیا ہو گا
کہ اداِ محبت بھی نہیں رہا اب تو
چنے ہوئے ہیں لبوں پر تیرے ہزار جواب
شکایتوں کا مزا بھی نہیں رہا اب تو
ہوں مبتلاِ یقین ، میری مشکلیں مت پوچھ
گماں اقدا کش بھی نہیں رہا اب تو
میرے وجود کا اب کیا سوال ہے یعنی
میرے اپنے حق میں برا بھی نہیں رہا اب تو
یہی عطیہء صبح شبِ وصال ہے کیا
کے شہرِ ناز بھی نہیں رہا اب تو
یقین کر جو تیری آرزو میں تھا پہلے
وہ لطف تیرے سوا بھی نہیں رہا اب تو
وہ سکھ وہاں کے خدا کی ہیں بخشیشیں کیا کیا
یہاں یہ دکھ کہ خدا بھی نہیں رہا اب تو
جون ایلیا

یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 269
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے
پُر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجا
اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
گو سمجھتا نہیں پر حسنِ تلافی دیکھو
شکوۂ جور سے سر گرمِ جفا ہوتا ہے
عشق کی راہ میں ہے چرخِ مکوکب کی وہ چال
سست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
کیوں نہ ٹھہریں ہدفِ ناوکِ بیداد کہ ہم
آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب
لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
خامہ میرا کہ وہ ہے باربُدِ بزمِ سخن
شاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
اے شہنشاہِ کواکب سپہ و مہرِ علم
تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجے
تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال
آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
میں جو گستاخ ہوں آئینِ غزل خوانی میں
یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

تم ہو بیداد سے خوش، اس سے سوا اور سہی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 200
میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی
تم ہو بیداد سے خوش، اس سے سوا اور سہی
غیر کی مرگ کا غم کس لئے، اے غیرتِ ماہ!
ہیں ہوس پیشہ بہت، وہ نہ ہُوا، اور سہی
تم ہو بت، پھر تمھیں پندارِ خُدائی کیوں ہے؟
تم خداوند ہی کہلاؤ، خدا اور سہی
حُسن میں حُور سے بڑھ کر نہیں ہونے کی کبھی
آپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی
تیرے کوچے کا ہے مائل دلِ مضطر میرا
کعبہ اک اور سہی، قبلہ نما اور سہی
کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے، واعظ!
خلد بھی باغ ہے، خیر آب و ہوا اور سہی
کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں، یا رب
سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی
مجھ کو وہ دو، کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں
زہر کچھ اور سہی، آبِ بقا اور سہی
مجھ سے غالب یہ علائی نے غزل لکھوائی
ایک بیداد گرِ رنج فزا اور سہی
مرزا اسد اللہ خان غالب

کیا ہے جھمک کفک کی رنگ حنا تو دیکھو

دیوان دوم غزل 914
گل برگ سے ہیں نازک خوبی پا تو دیکھو
کیا ہے جھمک کفک کی رنگ حنا تو دیکھو
ہر بات پر خشونت طرزجفا تو دیکھو
ہر لمحہ بے ادائی اس کی ادا تو دیکھو
سائے میں ہر پلک کے خوابیدہ ہے قیامت
اس فتنۂ زماں کو کوئی جگا تو دیکھو
بلبل بھی گل گئے پر مرکر چمن سے نکلی
اس مرغ شوق کش کی ٹک تم وفا تو دیکھو
طنزیں عبث کرو ہو غش رہنے پر ہمارے
دو چار دن کسو سے دل کو لگا تو دیکھو
ہونا پڑے ہے دشمن ہر گام اپنی جاں کا
کوچے میں دوستی کے ہر کوئی آ تو دیکھو
پیری میں مول لے ہے منعم حویلیوں کو
ڈھہتا پھرے ہے آپھی اس پر بنا تو دیکھو
ڈوبی ہے کشتی میری بحر عمیق غم میں
بیگانے سے کھڑے ہو تم آشنا تو دیکھو
آئے جو ہم تو ان نے آنکھوں میں ہم کو رکھا
اہل ہوس سے کوئی اودھر کو جا تو دیکھو
ہے اس چمن میں وہ گل صد رنگ محو جلوہ
دیکھو جہاں وہی ہے کچھ اس سوا تو دیکھو
اشعار میر پر ہے اب ہائے وائے ہر سو
کچھ سحر تو نہیں ہے لیکن ہوا تو دیکھو
میر تقی میر

رقص کرتے ہوئے بوئے گل نے کہا، ہر کوئی ناچتا ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 32
صحن گلشن میں گونجی صدائے صبا، ہر کوئی ناچتا ہے
رقص کرتے ہوئے بوئے گل نے کہا، ہر کوئی ناچتا ہے
کچھ گھڑی پیشتر حبس ہی حبس تھا، پھر اچانک ہوا کا
نعرۂ مست بستی میں اونچا ہوا، ہر کوئی ناچتا ہے
پھر بپا ہو گیا ایک جشن کہن قریۂ پُر فضا میں
پھر قبیلۂ نخلاں ہے نغمہ سرا، ہر کوئی ناچتا ہے
آبجوئے سرِ شہر نے لہر میں آ کے سرگوشیاں کیں
خود میں ٹھہرے ہوئے جوہڑوں کے سوا ہر کوئی ناچتا ہے
ایک پردے کا ہے فاصلہ زاہد و زہد کے درمیاں بھی
کوئی مانے نہ مانے درونِ قبا، ہر کوئی ناچتا ہے
پھر بدن کا لہو وجد میں آ گیا، دیکھ کر اُس حسیں کو
دھڑکنوں نے کہا دھڑکنوں نے سنا، ہر کوئی ناچتا ہے
عرش و ابر و ستارہ و مہتاب سب، ڈگمگانے لگے جب
سمفنی چھیڑ دے نغمہ گر بحر کا، ہر کوئی ناچتا ہے
ژن ژن تھیاؤ کی خالق محترمہ تائے آوے لیان کی نذر
آفتاب اقبال شمیم

سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 41
قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم
سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم
کچھ امتحانِ دستِ جفا کر چکے ہیں ہم
کچھ اُن کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم
اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی
قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم
دیکھیں ہے کون کون، ضرورت نہیں رہی
کوئے ستم میں سب کو خفا کر چکے ہیں ہم
اب اپنا اختیار ہے چاہیں جہاں چلیں
رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم
ان کی نظر میں، کیا کریں پھیکا ہے اب بھی رنگ
جتنا لہو تھا صرفِ قبا کر چکے ہیں ہم
کچھ اپنے دل کی خو کا بھی شکرانہ چاہیے
سو بار اُن کی خُو کا گِلا کر چکے ہیں ہم
فیض احمد فیض

آؤ کہ اجر کار رسالت ادا کریں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 154
جاں نذر دے کے نصرت آل عبا کریں
آؤ کہ اجر کار رسالت ادا کریں
برپا کریں تو حشر کریں کربلا کے بعد
روشن اگر کریں تو چراغ عزا کریں
صدیوں سے سینہ زن ہے بدن میں لہو کی لہر
آج اس کو پیش تیغ ستم گر رہا کریں
صرف ایک سر ملا تھا سو نذرانہ کر دیا
اب ناصران معرکۂ صبر کیا کریں
صحرا میں شور کرتی ہیں موجیں فرات کی
زنداں میں جیسے اہل سلاسل صدا کریں
اس شاہ بے کساں پہ دل و روح و جاں نثار
مقدور ہو تو نذر کچھ اس سے سوا کریں
یاد آوران تشنہ دہانان کربلا
اس تشنگی کو چشمۂ آب بقا کریں
گریہ نشان جاں ہے مگر اس کے باوجود
مقتل مقام صبر و رضا ہے رضا کریں
تیرا قلم ولا کا علم ہے سو مجرئ
عباس تجھ کو ظل حمایت عطا کریں
عرفان صدیقی

وَرنہ ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں بچا کچھ بھی نہ تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 54
ایک ضد تھی مرا پندارِ وفا کچھ بھی نہ تھا
وَرنہ ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں بچا کچھ بھی نہ تھا
تھا بہت کچھ جو کوئی دیکھنے والا ہوتا
یوں کسی شخص کے چہرے پہ لکھا کچھ بھی نہ تھا
اَب بھی چپ رہتے تو مجرم نظر آتے وَرنہ
سچ تو یہ ہے کہ ہمیں شوقِ نوا کچھ بھی نہ تھا
یاد آتا ہے کئی دوستیوں سے بھی سوا
اِک تعلق جو تکلف کے سوا کچھ بھی نہ تھا
سب تری دین ہے، یہ رنگ، یہ خوشبو، یہ غبار
میرے دَامن میں تو اَے موجِ ہوا کچھ بھی نہ تھا
اور کیا مجھ کو مرے دیس کی دَھرتی دیتی
ماں کا سرمایہ بجز حرفِ دُعا کچھ بھی نہ تھا
لوگ خود جان گنوا دینے پہ آمادہ تھے
اِس میں تیرا ہنر اَے دستِ جفا کچھ بھی نہ تھا
سبز موسم میں ترا کیا تھا، ہوا نے پوچھا
اُڑ کے سوکھے ہوئے پتّے نے کہا کچھ بھی نہ تھا
عرفان صدیقی

ہے لام حرکتِ لا ، لا الہ الا اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 424
الف ہے حرفِ الہ، لا الہ الا اللہ
ہے لام حرکتِ لا ، لا الہ الا اللہ
یہ میم ،میمِ محمد رسول اللہ ہے
یہی خدا نے کہا،لا الہ الا اللہ
یہی ہے برقِ تجلی،یہی چراغ طور
یہی زمیں کی صدا،لا الہ الا اللہ
کرن کرن میں مچلتی ہے خوشبوئے لولاک
خرامِ بادصبا،لا الہ الا اللہ
نگارِ قوسِ قزح کے جمیل رنگوں سے
وہ بادلوں نے لکھا،لا الہ الا اللہ
سنائی دے یہی غنچوں کے بھی چٹکنے سے
کھلے ہیں دستِ دعا،لا الہ الا اللہ
وہی وجودہے واحد،وہی اکیلا ہے
کوئی نہ اُس کے سوا ،لا الہ الا اللہ
وہ کس کے قربِ مقدس کی دلربائی تھی
تھاکنکروں نے پڑھا ،لا الہ الا اللہ
ہر ایک دل کے غلافِ مہین پر منصور
کشید کس نے کیا ، لا الہ الا اللہ
منصور آفاق

دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 33
صبح دم شہرِ مدنیہ کی ہوا احمد رضا
دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا
حمد کی بہتی کرن وہ نعت کی اجلی شعاع
مدحتوں کے باغ کی بادِصبا احمد رضا
زندہ و جاوید رکھتا ہے انہیں عشقِ رسول
عشق کی بابت فنا نا آشنا احمد رضا
یہ سرِ فہرست عشاقِ محمدمیں ہے کون ؟
پوچھنے والے نے پھر خود ہی کہا احمد رضا
خانہ ء تاریک میں بھر دے اجالے لفظ سے
فیض کا سر چشمۂ صدق و صفا احمد رضا
کنزالایماں سے منور صحنِ اردو ہو گیا
آیتوں کا اختتامِ ترجمہ احمد رضا
روک دیتے ہیں بہارِ حکمت و عرفان سے
بد عقیدہ موسموں کا سلسلہ احمد رضا
آسماں کی بے کراں چھاتی پہ روز حشر تک
صبح نے کرنوں سے اپنی، لکھ دیا، احمد رضا
جل اٹھے ان سے سبھی علمِ عقائد کے چراغ
راستی کا روشنی کا راستہ احمد رضا
صاحبِ علم الکلام و حاملِ علم شعور
حاصلِ عہد علومِ فلسفہ احمد رضا
عالمِ علم لدنی ، عاملِ تسخیرِ ذات
روح و جاں میں قربِ احساسِ خدا احمد رضا
وہ صفاتِ حرف کی رو سے مخارج کے امیں
محرمِ احکامِ تجوید و نوا احمد رضا
بابتِ تفسیر قرآں جانتے تھے ایک ایک
معنی و تفہیمِ الہامِ الہ احمد رضا
وہ روایت اور درایت آشنا شیخ الحدیث
علمِ احوالِ نبی کے نابغہ احمد رضا
مالکی وشافعی ہوں یا کہ حنفی حنبلی
فقہ اربعہ پہ حرف انتہا احمد رضا
علمِ استخراجیہ ہویا کہ استقرائیہ
دیدہ ء منطق میں ہے چہرہ نما احمد رضا
علم ہندسہ و ریاضی کے نئے ادوار میں
موئے اقلیدس کی اشکال و ادا احمد رضا
علم جامع و جفر کی ہر ریاضت گاہ میں
جو ہرِ اعداد کی صوت و صدا احمد رضا
وہ بروج فلکیہ میں انتقال شمس ہیں
صاحبِعلمِ نجوم و زائچہ احمد رضا
وقت کی تاریخ ان کے ہاتھ پر تحریر ہے
جانتے ہیں سرگزشتِ ماجرا احمد رضا
روشنی علمِ تصوف کی انہی کی ذات سے
کثرتِ جاں میں لبِ وحدت سرا احمد رضا
حرفِ آخر تھے وہی عربی ادب پر ہند میں
والی ء تختِ علوم عربیہ احمد رضا
علمِ جاں ، علمِ فضائلِ علمِ لغت ،علم سیر
در علومِ خیرتجسیمِ ضیا احمد رضا
آسمانِ معرفت ، علمِ سلوک وکشف میں
منظرِبدرالدجیٰ ، شمس الضحیٰ احمد رضا
صبحِ عرفانِ الہی ، عابد شب زندہ دار
مسجدِ یاد خدا و مصطفی احمد رضا
عجز کا پندار ہے میرے قلم کی آنکھ میں
جو کچھ لکھا میں نے، کہیں اُس سے سوا احمد رضا
ٹوٹے پھوٹے لفظ تیری بارگاہ میں پیش ہیں
گرقبول افتدزہے عزوعطا احمد رضا
اعلی حضرت اہلِ سنت کے امام و پیشوا
اک نگہ مجھ پہ کرم کی اک نگہ احمد رضا
منصور آفاق

دل ترے درد کے سوا کیا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 248
کیا بتاؤں کہ مدعا کیا ہے
دل ترے درد کے سوا کیا ہے
دور تاروں کی انجمن جیسے
زندگی دیکھنے میں کیا کیا ہے
ہر قدم پر نیا تماشا ہو
اور دنیا کا مدعا کیا ہے
کوئی لائے پیام فصل بہار
ہم نہیں جانتے صبا کیا ہے
درد کی انتہا نہیں کوئی
ورنہ عمر گریز پا کیا ہے
آپ بیٹھے ہیں درمیاں ورنہ
مرگ و ہستی میں فاصلہ کیا ہے
نہ رہا جب خلوص ہی باقیؔ
پھر روا کیا ہے ناروا کیا ہے
باقی صدیقی

ایک طوفاں کی ابتدا ہو جائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 187
موج ساحل سے جب جدا ہو جائے
ایک طوفاں کی ابتدا ہو جائے
لاکھ مجبوریاں سہی لیکن
آپ چاہیں تو کیا سے کیا ہو جائے
ہم کہیں جو روا نہیں لیکن
تم کہو جو وہی روا ہو جائے
تیری رحمت پہ اس قدر ہے یقین
جب خیال آئے اک خطا ہو جائے
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ
جب بجھے روشنی سوا ہو جائے
باقی صدیقی

ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 169
موج ساحل سے جب جدا ہو گی
ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی
مجھ سے پوچھو نہ داستاں میری
میری ہر بات ناروا ہو گی
مدعا خامشی تک آ پہنچا
اب نگاہوں سے بات کیا ہو گی
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ
بجھ کے بھی روشنی سوا ہو گی
باقی صدیقی

انے نقش کف پا کیا دیکھیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 119
زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے
رونق شہر سبا کیا دیکھیں
کھوکھلے قہقہے پھیکی باتیں
زیست کو زیست نما کیا دیکھیں
زخم آواز ہی آئینہ ہے
صورت نغمہ سرا کیا دیکھیں
قہر دریا کا تقاضا معلوم
ہم حبابوں کے سوا کیا دیکھیں
سانس کلیوں کا رکا جاتا ہے
شوخی موج صبا کیا دیکھیں
دل ہے دیوار، نظر ہے پردہ
دیکھنے والے بھلا کیا دیکھیں
ایک عالم ہے غبار آلودہ
جانے والے کی ادا کیا دیکھیں
زندگی بھاگ رہی ہے باقیؔ
شوق کو آبلہ پا کیا دیکھیں
باقی صدیقی

دل کا حق ادا ہوا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 39
غم کا باب وا ہوا
دل کا حق ادا ہوا
دل بنا، دوا ہوا
درد کیا سے کیا ہوا
تم مٹے کہ ہم مٹے
جو ہوا برا ہوا
میرا تذکرہ ہی کیا
میں تو بیوفا ہوا
یہ کرم بجا مگر
وہ غرور کیا ہوا
ہم کہیں بھی کچھ تو کیا
تو نے جو کہا ہوا
باقیؔ ان سے مل کے درد
اور بھی سوا ہوا
باقی صدیقی