ٹیگ کے محفوظات: سوال

شاطِر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف

کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف
شاطِر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف
تیرے یہ سارے شعبدے میرے لیے نہیں نئے
کر کے دکھا کبھی مجھے کوئی کمال مختلف
لگتے ہیں یہ جو کامیاب ہیں جیسے آب پر حباب
پیشِ نگہ انہیں نہ رکھ ڈھونڈ مثال مختلف
جن کو ملیں بلندیاں دیکھیں اُنہوں نے پستیاں
ہوتی ہے ہر دفعہ مگر وجہِ زوال مختلف
تو نے کہی سُنی سُنائی مجھ سے سُنی سُنائی سُن
چاہے اگر نئے جواب پوچھ سوال مختلف
میری بہار اور خزاں میرے لہو میں ہے نہاں
مریخ و ارض سے مرے ہیں ماہ و سال مختلف
ایسی چلی دمِ سحر شام تلک کیا نہال
بادِ صبا سے تھی بہت موجِ خیال مختلف
باصر کاظمی

دل ابھی پائمال مت کریو

وقفِ رنج و ملال مت کریو
دل ابھی پائمال مت کریو!
زخم دامن سمیٹ لیتے ھیں
دیکھیو! تم دھمال مت کریو!
کریو دشمن کو لاجواب تو یوں
اس سے کوئی سوال مت کریو!
میں ابھی بزدلوں میں بیٹھا ہوں
میرا گریہ بحال مت کریو!
دھیرے دھیرے ہی چھوڑیو ھم کو
ایک دم انتقال مت کریو!!!
افتخار فلک

نظر میں تھا، پہ ترا ہی وہ اک جمال نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
نہیں کہ تجھ سے وفا کا ہمیں خیال نہ تھا
نظر میں تھا، پہ ترا ہی وہ اک جمال نہ تھا
لبوں میں جان تھی پھر بھی ہماری آنکھوں میں
ستمگروں سے بقا کا کوئی سوال نہ تھا
ٹھہر سکا نہ بہت تیغِ موج کے آگے
ہزار سخت سہی، جسم تھا یہ ڈھال نہ تھا
کوئی نہیں تھا شکایت نہ تھی جسے ہم سے
ہمیں تھے ایک، کسی سے جنہیں ملال نہ تھا
غضب تو یہ ہے کہ تازہ شکار کرنے تک
نظر میں گرگ کی، چنداں کوئی جلال نہ تھا
بہ کُنجِ عجز فقط گن ہی گن تھے پاس اپنے
یہاں کے اوج نشینوں سا کوئی مال نہ تھا
ہمیں ہی راس نہ ماجدؔ تھی مصلحت ورنہ
یہی وہ جنس تھی، جس کا نگر میں کال نہ تھا
ماجد صدیقی

مگر اک کٹھن سا سوال ہے تجھے دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
مری آرزو کا مآل ہے تجھے دیکھنا
مگر اک کٹھن سا سوال ہے تجھے دیکھنا
کبھی ابر میں ،کبھی چاند میں، کبھی پُھول میں
سرِگردش مہ و سال ہے تجھے دیکھنا
رگ و پے میں گرچہ ہے چاشنی ترے قرب کی
تو مہک ہے کارِ محال ہے تجھے دیکھنا
کوئی عید بھی ہو سعید ہے ، تری دید کی
پئے چشم، کسبِکمال ہے تجھے دیکھنا
تجھے کیوں نہ میں یہ کہوں صنم کہ سرِ نظر
کسی اور رُت کا جمال ہے تجھے دیکھنا
ماجد صدیقی

نظر میں تھا پہ ترا ہی، وُہ اک جمال نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
نہیں کہ تجھ سے وفا کا ہمیں، خیال نہ تھا
نظر میں تھا پہ ترا ہی، وُہ اک جمال نہ تھا
لبوں پہ جان تھی پھر بھی ہماری آنکھوں میں
ستم گروں سے بقا کا کوئی سوال نہ تھا
ٹھہر سکا نہ بہت تیغِ موج کے آگے
ہزار سخت سہی، جسم تھا یہ ڈھال نہ تھا
غضب تو یہ ہے کہ تازہ شکار کرنے تک
نظر میں گُرگ کی، چنداں کوئی جلال نہ تھا
یہ ہم کہ پست ہیں، گُن تھے بھی گر تو پاس اپنے
یہاں کے، اوج نشینوں سا کوئی مال نہ تھا
ہمیں ہی راس نہ ماجدؔ تھی مصلحت ورنہ
یہی وُہ جنس تھی، جِس کا نگر میں کال نہ تھا
ماجد صدیقی

مری اور اور محیط ہیں جو ریا کے جال نہ دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
میں قفس میں ہوں کہ سرِچمن مرے ماہ و سال نہ دیکھنا
مری اور اور محیط ہیں جو ریا کے جال نہ دیکھنا
یہی سوچنا کہ شکست میں مری اپنی کم نظری تھی کیا
وُہ کہ محھ سے ہے جو چلی گئی وُہی ایک چال نہ دیکھنا
مرے ہونٹ سی کے جواب میں وُہی کچھ کہو کہ جو دل میں ہے
مری آنکھ میں جو رُکا ہوا ہے وُہی سوال نہ دیکھنا
جو رہیں تو زیبِ لب و زباں مرے جرم، میرے عیوب ہی
وُہ کہ خاص ہے مری ذات سے کوئی اک کمال نہ دیکھنا
یہی فرض کر کے مگن رہو کہ مری ہی سرخیٔ خوں ہے یہ
یہ جو ضرب ضرب لہو ہوئے کبھی میرے گال نہ دیکھنا
کوئی حرف آئے توکس لئے کسی رُت پہ ماجدِؔ خوش گماں
یہ تنی ہے جو سرِ ہر شجر کبھی خشک چھال نہ دیکھنا
ماجد صدیقی

ہاتھوں میں جس کے تیر، سرِ دوش جال تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
وہ شخص ہی تو دشت میں صاحب کمال تھا
ہاتھوں میں جس کے تیر، سرِ دوش جال تھا
پائے کسی بھی کنج چمن میں نہ جو پنہ
یہ برگِ زرد بھی کبھی گلشن کی آل تھا
ننگی زمیں تھی اور ہَوا تھی تبر بہ دست
میں تھا اور اِک یہ میرا بدن جو کہ ڈھال تھا
خاکِ وطن پہ گود میں بچّہ تھا ماں کی اور
بیروت کی زمیں پہ برستا جلال تھا
آیا نہ کوئی حرفِ لجاجت بھی اُس کے کام
جس ذہن میں بقا کا سلگتا سوال تھا
جاتا میں جان سے کہ خیال اُس کا چھوڑتا
ماجدؔ یہی تو فیصلہ کرنا محال تھا
ماجد صدیقی

وہی سہم سا وہی خوف سا ہے خیال میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
دمِ صید فرق پڑے جو پائے غزال میں
وہی سہم سا وہی خوف سا ہے خیال میں
بڑی بے نیاز رعونتوں کا شکار ہیں
وہ نزاکتیں کہ دبی ہیں اپنے سوال میں
اِسے کس صلابتِ عزم کی میں عطا کہوں
یہ جو تازگی سی ہے آرزو کے جمال میں
وہ تو اُڑ گیا کہ پناہ جس کو بہم ہوئی
پہ لگا جو تیر، لگا درخت کی چھال میں
وہ نشہ کہ بعدِ شکار آئے پلنگ کو
وہی رم امڈنے لگا ہے فکرِ مآل میں
تجھے کیا خیال ہے یہ بھی ماجدِبے خبر!
کہ گھری ہوئی تری جاں بھی ہے کسی جال میں
ماجد صدیقی

دل کے شیشے میں جتنے بال آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 122
جی جلانے نہ اِتنے سال آئے
دل کے شیشے میں جتنے بال آئے
دشت میں کچھ رہا نہیں شاید
رات بستی میں پھر شغال آئے
کس پہ برسیں جُز اپنے پیکر کے
بُلبلوں کو گر اشتعال آئے
اے غمِ جاں! ترے کہے پر ہم
آج دل کا کہا بھی ٹال آئے
جن سے ہوتی تھی برہمی اُن کو
پھر نہ ہونٹوں پہ وہ سوال آئے
سانپ بھی تو لگے مہذّب ہی
زہر دانتوں سے جب نکال آئے
جس کے بس میں ہو کچھ ضرر ماجدؔ
ہاتھ اُسی کے ہی اب کمال آئے
ماجد صدیقی

لہو میں تلخیٔ شیریں دمِ وصال کی تھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
نظر میں تازگی عُریانیٔ جمال کی تھی
لہو میں تلخیٔ شیریں دمِ وصال کی تھی
طلوع میں بھی مرے شوخیاں تو تھیں لیکن
مزہ تھا اُس میں جو ساعت مرے زوال کی تھی
وگرنہ تجھ سا طرحدار مانتا کب تھا
جو تھی تو اس میں کرامت مرے سوال کی تھی
بدستِ شوق فقط میں ہی تیغِ تیز نہ تھا
حیا کے ہاتھ میں صُورت تری بھی ڈھال کی تھی
فروِغ نُور تھا جس سے شبِ طلُوعِ بدن
سرِ چراغ وُہ سُرخی ترے ہی گال کی تھی
کنارِ شوق تلک شغلِ کسبِ لُطف گیا
کوئی بھی فکر نہ جیسے ہمیں مآل کی تھی
نہ جس سے تھی کبھی درکار مخلصی ماجدؔ
گرفت مجھ پہ وہ کرنوں کے نرم جال کی تھی
ماجد صدیقی

چَپک کے رہ گئے ہونٹوں سے سب سوال اپنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
نظر میں رنج ہے سہلا رہا ہوں گال اپنے
چَپک کے رہ گئے ہونٹوں سے سب سوال اپنے
اجُڑ گئے کسی بیوہ کے گیسوؤں کی طرح
وہ جن پہ ناز تھا، ہاں ہاں وہ ماہ و سال اپنے
ہوا کی کاٹ بھی دیکھ اور اپنی جان بھی دیکھ
جنوں کے مُرغ! نہ تو بال و پر پر نکال اپنے
اِدھر تو کاہِ نشیمن نہ چونچ تک پہنچا
اُٹھا کے دوش پہ نکلے اُدھر وہ جال اپنے
اُڑان ہی سے تھے فیضان سارے وابستہ
پروں کے ساتھ سمٹتے گئے کمال اپنے
دبا نہ اور ابھی تُو گلوئے ہم جِنساں
یہ سارے بوجھ خلاؤں میں اب اُچھال اپنے
بہ شاخِ نطق ہیں پہرے اگر یہی ماجدؔ
کوئی خیال نہ لفظوں میں تو بھی ڈھال اپنے
ماجد صدیقی

ملے جو ہم تو لبوں پر سوال کیا کیا تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
نظر میں واہمے، دل میں خیال کیا کیا تھے
ملے جو ہم تو لبوں پر سوال کیا کیا تھے
وُہ کرکے وار چلے تو غرور سے لیکن
قدم اُنہیں بھی اُٹھانے محال کیا کیا تھے
زمیں اجاڑ، فضا پُر شرر، فلک عریاں
پئے عذاب نظر کو وبال کیا کیا تھے
مہک ہماری لگی بھی تو ہاتھ صرصر کے
کسے جتائیں کہ اپنے کمال کیا کیا تھے
چٹک گلوں کی کہیں دُھول کا سکوت کہیں
رُتوں کے رنگ سجے ڈال ڈال کیا کیا تھے
بہ شکلِ خواب تھا امکانِ وصلِ یار سدا
عُروج کیا تھے ہمارے زوال کیا کیا تھے
رُتوں نے عہد سبھی محو کر دئیے، ورنہ
حروفِ ربط لکھے چھال چھال کیا کیا تھے
تھا ابتدا سے یہی حبس، ہے جو اَب ماجدؔ
نہ پوچھ مجھ سے مرے ماہ وسال کیا کیا تھے
ماجد صدیقی

پہنچا ہے اُس کا ذکر ہر اک بُک سٹال پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
فن سے مرے کہ ہے جو فرازِ کمال پر
پہنچا ہے اُس کا ذکر ہر اک بُک سٹال پر
ہونٹوں پہ رقص میں وُہی رنگینی نگاہ
محفل جمی ہوئی کسی ٹیبل کی تال پر
شیشے کے اِک فریم میں کچھ نقش قید تھے
میری نظر لگی تھی کسی کے جمال پر
ساڑھی کی سبز ڈال میں لپٹی ہوئی بہار
کیا کچھ شباب تھا نہ سکوٹر کی چال پر
ہنستی تھی وہ تو شوخیِ خوں تھی کُچھ اس طرح
جگنو سا جیسے بلب دمکتا ہو گال پر
رکھا بٹن پہ ہاتھ تو گھنٹی بجی اُدھر
در کھُل کے بھنچ گیا ہے مگر کس سوال پر
میک اَپ اُتر گیا تو کھنڈر سی وہ رہ گئی
جیسے سحر کا چاند ہو ماجدؔ زوال پر
ماجد صدیقی

کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 140
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے
کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے
ہم کہ دونوں کے گرفتار رہے، جانتے ہیں
دامِ دنیا سے کہیں زلف کا جال اچھا ہے
میں نے پوچھا تھا کہ آخر یہ تغافل کب تک؟
مسکراتے ہوئے بولے کہ سوال اچھا ہے
دل نہ مانے بھی تو ایسا ہے کہ گاہے گاہے
یارِ بے فیض سے ہلکا سا ملال اچھا ہے
لذتیں قرب و جدائی کی ہیں اپنی اپنی
مستقل ہجر ہی اچھا نہ وصال اچھا ہے
رہروانِ رہِ اُلفت کا مقدر معلوم
ان کا آغاز ہی اچھا نہ مال اچھا ہے
دوستی اپنی جگہ، پر یہ حقیقت ہے فراز
تیری غزلوں سے کہیں تیرا غزال اچھا ہے
احمد فراز

وہ چارہ گر تو ہے اس کو خیال جو بھی ہو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 54
چلو اسی سے کہیں دل کا حال جو بھی ہو
وہ چارہ گر تو ہے اس کو خیال جو بھی ہو
اسی کے درد سے ملتے ہیں سلسلے جاں کے
اسی کے نام لگا دو ملال جو بھی ہو
مرے نہ ہار کے ہم قیس و کوہکن کی طرح
اب عاشقی میں ہماری مثال جو بھی ہو
یہ رہ گزر پہ جو شمعیں دمکتی جاتی ہیں
اسی کا قامتِ زیبا ہے، چال جو بھی ہو
فراز اس نے وفا کی یا بے وفائی کی
جوابدہ تو ہمیں ہیں سوال جو بھی ہو
احمد فراز

گزار دیں گے یونہی کیا یہ ماہ و سال مجھے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 73
ڈرا رہا ہے مسلسل یہی سوال مجھے
گزار دیں گے یونہی کیا یہ ماہ و سال مجھے
بچھڑتے وقت اضافہ نہ اپنے رنج میں کر
یہی سمجھ کہ ہوا ہے بہت ملال مجھے
وہ شہرِ ہجر عجب شہرِ پُر تحیر تھا
بہت دنوں میں تو آیا ترا خیال مجھے
تُو میرے خواب کو عجلت میں رائگاں نہ سمجھ
ابھی سخن گہِ امکاں سے مت نکال مجھے
کسے خبر کہ تہِ خاک آگ زندہ ہو
ذرا سی دیر ٹھہر ، اور دیکھ بھال مجھے
کہاں کا وصل کہ اس شہرِ پُر فشار میں اب
ترا فراق بھی لگنے لگا محال مجھے
اِسی کے دم سے تو قائم ابھی ہے تارِ نفس
یہ اک امید کہ رکھتی ہے پُر سوال مجھے
کہوں میں تازہ غزل اے ہوائے تازہ دلی
ذرا سی دیر کو رکھے جو تُو بحال مجھے
خرامِ عمر کسی شہرِ پُر ملال کو چل
کیے ہوئے ہے یہ آسودگی نڈھال مجھے
کہاں سے لائیں بھلا ہم جوازِ ہم سفری
تجھے عزیز ترے خواب، میرا حال مجھے
اُبھر رہا ہوں میں سطحِ عدم سے نقش بہ نقش
تری ہی جلوہ گری ہوں ذرا اُجال مجھے
یہاں تو حبس بہت ہے سو گردِ بادِ جنوں
مدارِ وقت سے باہر کہیں اچھال مجھے
پھر اس کے بعد نہ تُو ہے، نہ یہ چراغ، نہ میں
سحر کی پہلی کرن تک ذرا سنبھال مجھے
عرفان ستار

عمر کا کچھ احوال نہیں ہے اور مآل میں زندہ ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 32
ہونے کا اظہار نہیں ہے، صرف خیال میں زندہ ہوں
عمر کا کچھ احوال نہیں ہے اور مآل میں زندہ ہوں
ٹھیک ہے میرا ہونا تیرے ہونے سے مشروط نہیں
لیکن اتنا یاد رہے میں ایک ملال میں زندہ ہوں
اپنا دل برباد کیا تو پھر یہ گھر آباد ہوا
پہلے میں اک عرش نشیں تھا اب پاتال میں زندہ ہوں
اک امکان کی بے چینی سے ایک محال کی وحشت تک
میں کس حال میں زندہ تھا اور میں کس حال میں زندہ ہوں
دنیا میری ذات کو چاہے رد کر دے، تسلیم کرے
میں تو یوں بھی تیرے غم کے استدلال میں زندہ ہوں
کتنی جلدی سمٹا ہوں میں وسعت کی اس ہیبت سے
کل تک عشق میں زندہ تھا میں آج وصال میں زندہ ہوں
ایک فنا کی گردش ہے یہ ایک بقا کا محور ہے
ایک دلیل نے مار دیا ہے ایک سوال میں زندہ ہوں
عرفان ستار

وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی وہی میرا وقتِ زوال تھا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 23
اسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا
وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی وہی میرا وقتِ زوال تھا
کہاں جاؤ گےمجھے چھوڑ کے، میں یہ پوچھ پوچھ کے تھک گئی
وہ جواب مجھ کو دے نہ سکا وہ تو خود سراپا سوال تھا
وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی میرے لب پر کوئی گلہ نہ تھا
اسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو پر کمال تھا
پروین شاکر

جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 223
کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے
میں سکون پا سکوں گا یہ گماں بھی کیوں کیا تھا
ہے یہی ملال کیا کم کہ ملال اب نہیں ہے
نہ رہے اب اس کے دل میں خلشِ شکستِ وعدہ
کہ یہاں کوئی حسابِ مہ و سال اب نہیں ہے
یہ دیارِ دید کیا ہے گئے دشتِ دل سے بھی ہم
کہ ختن زمین میں بھی وہ غزال اب نہیں ہے
جو لیے لیے پھری ہے تجھے روز اک نگر میں
مرے دل ترے نگر میں وہ مثال اب نہیں ہے
لبِ پُرسوال لے کے ہمیں کُوبہ کُو ہے پِھرنا
ہو کوئی جواب برلب یہ سوال اب نہیں ہے
جون ایلیا

تیری مثال دے کے ہم تیری مثال ہو گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 170
نام ہی کیا نشاں ہی کیا خواب و خیال ہو گئے
تیری مثال دے کے ہم تیری مثال ہو گئے
سایہ ذات سے بھی رم، عکس صفات سے بھی رم
دشتِ غزل میں آ کے دیکھ ہم تو غزال ہو گئے
کتنے ہی نشہ ہائے ذوق، کتنے ہی جذبہ ہائے شوق
رسمِ تپاکِ یار سے رو بہ زوال ہو گئے
عشق ہے اپنا پائیدار، اس کی وفا ہے استوار
ہم تو ہلاک۔ ورزشِ فرض۔ محال ہو گئے
کیسے زمیں پرست تھے عہدِ وفا کے پاس دار
اڑ کے بلندیوں میں ہم، گرد ملال ہو گئے
قربِ جمال اور ہم، عیش و وصال اور ہم؟
ہاں یہ ہوا کہ ساکنِ شہرِ جمال ہو گئے
جادو شوق میں پڑا قحطِ غبارِ کارواں
واں کے شجر تو سر بہ سر دست سوال ہو گئے
کون سا قافلہ ہے یہ، جس کے جرس کا ہے یہ شور
میں تو نڈھال ہو گیا، ہم تو نڈھال ہو گئے
خار بہ خار گل بہ گل، فصلِ بہار آ گئی
فصلِ بہار آ گئی۔ زخم بحال ہو گئے
شور اٹھا مگر تجھے لذت گوش تو ملی
خون بہا مگر ترے ہاتھ تو لال ہو گئے
ہم نفسانِ وضع دار، مستعانِ بردبار
ہم تو تمہارے واسطے ایک وبال ہو گئے
جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
اب کئی ہجر ہو چکے، اب کئی سال ہو گئے
جون ایلیا

اُس کو خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 135
حال یہ ہے کہ خواہشِ پُرسشِ حال بھی نہیں
اُس کو خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں
اے شجرِ حیاتِ شوق، ایسی خزاں رسیدگی؟
پوششِ برگ و گُل تو کیا، جسم پہ چھال بھی نہیں
مُجھ میں وہ شخص ہو چکا جس کا کوئی حساب تھا
سُود ہی کیا، زیاں ہے کیا، اس کا سوال بھی نہیں
مست ہیں اپنے حال میں دل زدگان و دلبراں
صُلح و سلام تو کُجا، بحث و جدال بھی نہیں
تُو میرا حوصلہ تو دیکھ، داد تو دے کہ اب مجھے
شوقِ کمال بھی نہیں، خوفِ زوال بھی نہیں
خیمہ گہ نگاہ کو لوٹ لیا گیا ہے کیا؟
آج افق کے دوش پر گرد کی شال بھی نہیں
اف یہ فضا سے احتیاط تا کہیں اڑ نہ جائیں ہم
بادِ جنوب بھی نہیں، بادِ شمال بھی نہیں
وجہ معاشِ بے دلاں، یاس ہے اب مگر کہاں
اس کے درود کا گماں، فرضِ محال بھی نہیں
غارتِ روز و شب کو دیکھ، وقت کا یہ غضب تو دیکھ
کل تو نڈھال بھی تھا میں، آج نڈھال بھی نہیں
میرے زبان و ذات کا ہے یہ معاملہ کہ اب
صبحِ فراق بھی نہیں، شامِ وصال بھی نہیں
پہلے ہمارے ذہن میں حسن کی اک مثال تھی
اب تو ہمارے ذہن میں کوئی مثال بھی نہیں
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
جون ایلیا

بس ایک خیال چاہیے تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 33
کب اس کا وصال چاہیے تھا
بس ایک خیال چاہیے تھا
کب دل کو جواب سے غرض تھی
ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا
شوق ایک نفس تھا اور وفا کو
پاسِ مہ و سال چاہیے تھا
اک چہرۂِ سادہ تھا جو ہم کو
بے مثل و مثال چاہیے تھا
اک کرب میں ذات و زندگی ہیں
ممکن کو محال چاہیے تھا
میں کیا ہوں بس ملالِ ماضی
اس شخص کو حال چاہیے تھا
ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو
کچھ دن تو ملال چاہیے تھا
وہ جسم جمال تھا سراپا
اور مجھ کو جمال چاہیے تھا
وہ شوخِ رمیدہ مجھ کو اپنی
بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا
تھا وہ جو کمالِ شوقِ وصلت
خواہش کو زوال چاہیے تھا
جو لمحہ بہ لمحہ مل رہا ہے
وہ سال بہ سال چاہیے تھا
جون ایلیا

آئینہ بے مثال کِس کا تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 27
وہ خیالِ مُحال کِس کا تھا
آئینہ بے مثال کِس کا تھا
سفری اپنے آپ سے تھا میں
ہجر کِس کا۔۔وصال کِس کا تھا
میں تو خود میں کہیں نہ تھا موجود
میرے لب پر سوال کِس کا تھا
تھی مری ذات اک خیال آشوب
جانے میں ہم خیال کِس کا تھا
جب کہ میں ہر نفس تھا بے احوال
وہ جو تھا میرا حال کِس کا تھا
دوپہر! بادِ تُند! کوچہء یار!
وہ غبارِ ملال کِس کا تھا
جون ایلیا

اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 270
حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے
اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچّھا ہے
بے طلب دیں تو مزہ اس میں سوا ملتا ہے
وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچّھا ہے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے
دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے
ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا کہ@ کسی میں ہو کمال اچّھا ہے
قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے
کام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ مآل اچّھا ہے
خضر سلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سر سبز
شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے
ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچّھا ہے
@ نسخۂ مہر میں "جس طرح کا بھی”
مرزا اسد اللہ خان غالب

خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 252
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہ
دل فردِ جمع و خرچِ زباں ہائے لال ہے
کس پردے میں ہے آئینہ پرداز اے خدا
رحمت کہ عذر خواہ لبِ بے سوال ہے
ہے ہے خدا نہ خواستہ وہ اور دشمنی
اے شوقِ منفعل! یہ تجھے کیا خیال ہے
مشکیں لباسِ کعبہ علی کے قدم سے جان
نافِ زمین ہے نہ کہ نافِ غزال ہے
وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا
دریا زمین کو عرقِ انفعال ہے
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہم جو فقیر ہوئے تو ہم نے پہلے ترک سوال کیا

دیوان چہارم غزل 1337
خوب کیا جو اہل کرم کے جود کا کچھ نہ خیال کیا
ہم جو فقیر ہوئے تو ہم نے پہلے ترک سوال کیا
روند کے جور سے ان نے ہم کو پائوں حنائی اپنے کیے
خون ہمارا بسمل گہ میں کن رنگوں پامال کیا
نکلے ہے گر گھاس جلی بھی خاک سے الفت کشتوں کی
یہ بالیدہ سپہر پھرے ہے گویا ان نے نہال کیا
دل جو ہمارا خون ہوا تھا رنج و الم میں گذری ہمیں
یعنی ماتم اس رفتہ کا ہم نے ماہ و سال کیا
میر سدا بے حال رہو ہو مہر و وفا سب کرتے ہیں
تم نے عشق کیا سو صاحب کیا یہ اپنا حال کیا
میر تقی میر

دل کلیجا نکال لیتے ہیں

دیوان سوم غزل 1203
جس کا خوباں خیال لیتے ہیں
دل کلیجا نکال لیتے ہیں
کیا نظرگاہ ہے کہ شرم سے گل
سر گریباں میں ڈال لیتے ہیں
دیکھ اسے ہو ملک سے بھی لغزش
ہم تو دل کو سنبھال لیتے ہیں
کھول کر بال سادہ رو لڑکے
خلق کا کیوں وبال لیتے ہیں
تیغ کھینچے ہیں جب یہ خوش ظاہر
ماہ و خور منھ پہ ڈھال لیتے ہیں
دلبراں نقد دل کو عاشق کے
جان کر اپنا مال لیتے ہیں
ہیں گدا میر بھی ولے دوجہاں
کرکے اک ہی سوال لیتے ہیں
میر تقی میر

دل ہاتھ جو نہ آوے اس کا خیال کیا ہے

دیوان دوم غزل 1031
باریک وہ کمر ہے ایسی کہ بال کیا ہے
دل ہاتھ جو نہ آوے اس کا خیال کیا ہے
جو بے کلی ہے ایسی چاہت گلوں کی اتنی
کیا جانے ہم صفیرو تو اب کے سال کیا ہے
پہنچا بہم علاقہ اے عزلتی کسو سے
کرنا معاش اکیلے اتنا کمال کیا ہے
آغاز تو یہ ہے کچھ روتے ہیں خون ہر دم
کیا جانے عاشقی کا یارو مآل کیا ہے
پامال راہ اس کے کیا کیا عزیز دیکھے
آئی نہ جب سمجھ میں گردوں کی چال کیا ہے
وہ سیم تن ہو ننگا تو لطف تن پر اس کے
سوجی گئے تھے صدقے اک جان و مال کیا ہے
سرگرم جلوہ اس کو دیکھے کوئی سو جانے
طرز خرام کیا ہے حسن و جمال کیا ہے
میں بے نوا اڑا تھا بوسے کو ان لبوں کے
ہر دم صدا یہی تھی دے گذرو ٹال کیا ہے
پر چپ ہی لگ گئی جب ان نے کہا کہ کوئی
پوچھو تو شاہ جی سے ان کا سوال کیا ہے
گہ آپ میں نہیں ہو گہ منتظر کہیں ہو
کچھ میرجی تمھارا ان روزوں حال کیا ہے
میر تقی میر

سارے تیرا خیال رکھتے ہیں

دیوان اول غزل 316
وے جو حسن و جمال رکھتے ہیں
سارے تیرا خیال رکھتے ہیں
شب جو وہ مہ کبھو رہے ہے یاں
مدتوں یاد سال رکھتے ہیں
ان لبوں کا جواب دہ ہے لعل
ہم تجھی سے سوال رکھتے ہیں
گل ترے روزگار خوبی میں
منھ طمانچوں سے لال رکھتے ہیں
دہن تنگ کے ترے مشتاق
آرزوے محال رکھتے ہیں
خاک آدم ہی ہے تمام زمیں
پائوں کو ہم سنبھال رکھتے ہیں
یہ جو سر کھینچے تو قیامت ہے
دل کو ہم پائمال رکھتے ہیں
اہل دل چشم سب تری جانب
آئینے کی مثال رکھتے ہیں
گفتگو ناقصوں سے ہے ورنہ
میرجی بھی کمال رکھتے ہیں
میر تقی میر

خون ہو بہ سب آپھی گیا عشق حسن و جمال کیا

دیوان اول غزل 41
دل سمجھا نہ محبت کو کچھ ان نے کیا یہ خیال کیا
خون ہو بہ سب آپھی گیا عشق حسن و جمال کیا
آنکھیں کفک سے اس کی لگاکر خاک برابر ہم بھی ہوئے
مہندی کے رنگ ان پائوں نے تو بہتوں کو پامال کیا
یوں نکلے ہے فلک ایدھر سے نازکناں جو جاتے تو
خاک سے سبزہ میری اگاکر ان نے مجھ کو نہال کیا
آگے جواب سے ان لوگوں کے بارے معافی اپنی ہوئی
ہم بھی فقیر ہوئے تھے لیکن ہم نے ترک سوال کیا
حال نہیں ہے عشق سے مجھ میں کس سے میر ؔاب حال کہوں
آپھی چاہ کر اس ظالم کو یہ اپنا میں حال کیا
میر تقی میر

جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا

دیوان اول غزل 8
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا
جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا
فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر
برنگ سبزئہ نورستہ پائمال کیا
رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی
سو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا
مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدم
نہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا
بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو
چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا
جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف
کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تونے
جو کچھ کہ میر کا اس عاشقی نے حال کیا
میر تقی میر

تھے جیب میں جو سکّے، رستے میں اُچھال آئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 66
لو حسرت ناداری، ہم دل سے نکال آئے
تھے جیب میں جو سکّے، رستے میں اُچھال آئے
سر کہنیوں پر ٹیکے، بیٹھے ہیں پیا سے ہم
منہ بند شرابوں میں شاید کہ اُبال آئے
تاریک مناظر نے آنکھوں کے نگر لوٹے
ہم منزلِ خواہش سے بے نقد خیال آئے
برسیں مری آنکھوں پر جب ٹوٹ کے دوپہریں
شاید مرے اندر کے سایوں کو زوال آئے
ہم خوار ہوئے کتنے انکار کے صحرا میں
سوچوں میں بگولے سے بن بن کے سوال آئے
جو جان کے گوہر سے قیمت میں زیادہ تھی
لو طاقِ زیاں میں ہم وُہ چیز سنبھال آئے
آفتاب اقبال شمیم

شب و روزِ آشنائی مہ و سال تک نہ پہنچے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 13
کیے آرزو سے پیماں جو مآل تک نہ پہنچے
شب و روزِ آشنائی مہ و سال تک نہ پہنچے
وہ نظر بہم نہ پہنچی کہ محیطِ حسن کرتے
تری دید کے وسیلے خد و خال تک نہ پہنچے
وہی چشمہء بقا تھا جسے سب سراب سمجھے
وہی خواب معتبر تھے جو خیال تک نہ پہنچے
ترا لطف وجہِ تسکیں، نہ قرار شرحِ غم سے
کہ ہیں دل میں وہ گلے بھی جو ملال تک نہ پہنچے
کوئی یار جاں سے گزرا، کوئی ہوش سے نہ گزرا
یہ ندیم یک دو ساغر مرے حال تک نہ پہنچے
چلو فیض دل جلائیں کریں پھر سے عرضِ جاناں
وہ سخن جو لب تک آئے پہ سوال تک نہ پہنچے
فیض احمد فیض

بانوئے کشور جمال میرا سوال کچھ نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 197
موج ہوا سے خاک کو تاب وصال کچھ نہیں
بانوئے کشور جمال میرا سوال کچھ نہیں
اب بھی ملو تو لوٹ آئے ساعت ابتدائے عشق
یہ شب و روز کچھ نہیں، یہ مہہ و سال کچھ نہیں
منتظران لمس گل، آپ عجیب لوگ ہیں
دست رسا بڑھائیے، قرعۂ فال کچھ نہیں
عرفان صدیقی

یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 172
سخن میں رنگ تمہارے خیال ہی کے تو ہیں
یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں
کہا تھا تم نے کہ لاتا ہے کون عشق کی تاب
سو ہم جواب تمہارے سوال ہی کے تو ہیں
ذرا سی بات ہے دل میں اگر بیاں ہوجائے
تمام مسئلے اظہارِ حال ہی کے تو ہیں
یہاں بھی اس کے سوا اور کیا نصیب ہمیں
ختن میں رہ کے بھی چشمِ غزال ہی کے تو ہیں
جسارتِ سخنِ شاعراں سے ڈرنا کیا
غریب مشغلۂ قیل و قال ہی کے تو ہیں
ہوا کی زد پہ ہمارا سفر ہے کتنی دیر
چراغ ہم کسی شامِ زوال ہی کے تو ہیں
عرفان صدیقی

رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 50
تیرا سراپا میرا تماشا، کوئی تو برجِ زوال میں تھا
رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا
میری چشم تحیر آگے اور ہی نقش ہویدا تھے
چہرہ اپنے وہم میں تھا‘ آئینہ اپنے خیال میں تھا
عقدۂ جاں بھی رمزِ جفر ہے‘ جتنا جتنا غور کیا
جو بھی جواب تھا میرا پنہاں میرے حرف سوال میں تھا
تیر سہی‘ زنجیر سہی‘ پر ہوئے بیاباں کہتی ہے
اور بھی کچھ وحشت کے علاوہ شاید پائے غزال میں تھا
ورنہ ہم ابدال بھلا کب ترکِ قناعت کرتے ہیں
ایک تقاضا رنج سفر کا خواہش مال و منال میں تھا
تیغِ ستم کے گرد ہمارے خالی ہاتھ حمائل تھے
اب کے برس بھی ایک کرشمہ اپنے دستِ کمال میں تھا
عرفان صدیقی

آ انتظار کے اک اور سال بسم اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 425
پرانے غم کے نئے احتمال بسم اللہ
آ انتظار کے اک اور سال بسم اللہ
بس ایک تیری کمی تھی جنوں کے صحرا میں
خوش آمدید اے میرے غزال، بسم اللہ
آ دیکھ زخم ترو تازہ ہیں مہکتے ہیں
آ مجھ سے پوچھنے پرسانِ حال بسم اللہ
اندھیرے کروٹیں لیتے ہیں مجھ میں پہلے بھی
بہ سرو چشم شبِ ذوالجلال بسم اللہ
سنا ہے آج اکیلا ہے اپنے کمرے میں
چل اس کے پاس دلِ خوش خیال بسم اللہ
لگی تھی آنکھ ذرا ہجر کی تھکاوٹ سے
میں اٹھ گیا میرے دشتِ ملال بسم اللہ
یہ کیسے خانۂ درویش یاد آیا ہے
بچھاؤں آنکھیں ؟ اے خوابِ وصال بسم اللہ
پھر اپنے زخم چھپانے کی رُت پلٹ آئی
شجر نے اوڑھ لی پتوں کی شال بسم اللہ
کھنچا ہوا ترا ناوک نہ جان ضائع ہو
ہے جان پہلے بھی جاں کا وبال بسم اللہ
یہ تیرے وار تو تمغے ہیں میری چھاتی کے
لو میں نے پھینک دی خود آپ ڈھال بسم اللہ
یہ لگ رہا ہے کہ اپنے بھی بخت جاگے ہیں
کسی نے مجھ پہ بھی پھینکا ہے جال بسم اللہ
نہیں کچھ اور تو امید رکھ ہتھیلی پر
دراز ہے مرا دستِ سوال بسم اللہ
کسی فقیر کی انگلی سے میرے سینے پر
لکھا ہوا ہے فقید المثال بسم اللہ
منصور آفاق

ڈرائیں گی یہ غمِ ذوالجلال کی آنکھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 354
پلیز جمع کرومت ملال کی آنکھیں
ڈرائیں گی یہ غمِ ذوالجلال کی آنکھیں
جواب دو کہ فریضہ یہی تمہارا ہے
ہیں انتظار میں ، میرے سوال کی آنکھیں
بڑا ہے شوق مسافر نوازیوں کا انہیں
بچھا رہے ہیں شجر اپنی چھال کی آنکھیں
مرا خیال ہے تارے نہیں یہ آنکھیں ہیں
شبِ فراق میں صبحِ وصال کی آنکھیں
حنوط کرنا پڑے گا چراغِ شام مجھے
کھلی ہوئی افق پر زوال کی آنکھیں
کٹا ہوا یہ کوئی کیک تو نہیں منصور
پڑی ہیں تھال میں اک اور سال کی آنکھیں
منصور آفاق

یہ یاد آئے گا شاید ہزار سال کے بعد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 158
ہے تیرا سامنا کرنا، شبِ زوال کے بعد
یہ یاد آئے گا شاید ہزار سال کے بعد
ترے زمانے میں ہوتا تو عین ممکن تھا
کھڑا غلاموں میں ہوتا کہیں بلال کے بعد
عجب حصار سا کھینچا ہے اسم نے تیرے
خیال کوئی نہ آیا ترے خیال کے بعد
تجھے ملے تو ملاقاتیں سب ہوئیں منسوخ
ہوئی تلاش مکمل، ترے وصال کے بعد
فرشتے ٹانکتے پھرتے ہیں پھول شاخوں پر
خدا بدل گیا اس کی بس ایک کال کے بعد
وہ جس نے مجھ سے کہا آپ کون ہیں منصور
سوال بن گیا وہ آئینہ سوال کے بعد
منصور آفاق

طلب شکستہ کا آخر ملال ختم ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 68
فراق و رابطہ کا احتمال ختم ہوا
طلب شکستہ کا آخر ملال ختم ہوا
وہ بجھ گئی ہے تمناجو آگ رکھتی تھی
وہ ہجر راکھ ہوا، وہ وصال ختم ہوا
کوئی بھی اپنے مقاصد میں پیش رفت نہیں
یونہی حیات کا اک اور سال ختم ہوا
ہم اس کی سمت چلے وہ کسی کی سمت چلا
سوال کرنے سے پہلے سوال ختم ہوا
چلی تو جھونک گئی دھول ساری آنکھوں میں
رکی ہوا تو چمن کا جمال ختم ہوا
بجھی ہوئی ہے انگیٹھی سیہ دسمبر میں
اے چوبِ سوختہ تیرا کمال ختم ہوا
کسی کے واسطے افلاک پستیاں منصور
بلندیوں پہ کسی کا زوال ختم ہوا
منصور آفاق

چہرے کے ڈوبتے ہوئے فردوس کو اجال

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 10
اے میری نرم گرم بہشتِ جوان سال
چہرے کے ڈوبتے ہوئے فردوس کو اجال
ہنزہ کے نور سیبو ! دسمبر کی نرم دھوپ
نارنجی کر رہی ہے تمہارے سفید گال
کچھ فیض قربتوں کے بھی ہوتے تو ہیں مگر
ہے بند پارٹنر سے ابھی تک تو بول چال
لب پر ہیں قہقہے کسی ناکام ضبط کے
دل میں بھرا ہوا ہے قیامت کا اک ملال
ہر چند گفتگو ہے توسط سے فون کے
لیکن نگاہ میں ہیں خیالوں کے خدو خال
کیا کھولتی ہو پوٹلی ان پڑھ فقیر کی
بازار سے خرید کے لایا ہوں کچھ سوال
منصور احتیاط سے چاہت کے بول، بول
لڑکوں سے اس کے کام ہیں مردوں سے اس کے بال
منصور آفاق

ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 47
اچھے عیسیٰ ہو، مریضوں کا خیال اچھا ہے
ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے
تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سَو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے
دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بے تابی کو
ہجر اچھا، نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے
آگیا اس کا تصور، تو پکارا یہ شوق
دل میں جم جائے الہٰی، یہ خیال اچھا ہے
برق اگر گرمیِ رفتار میں اچھی ہے امیر
گرمیِ حسن میں وہ برق جمال اچھا ہے
امیر مینائی

بات جاتی رہی سوال کے ساتھ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 149
جھک گئی آنکھ عرض حال کے ساتھ
بات جاتی رہی سوال کے ساتھ
اے غم زیست اس پہ کیا گزری
اک تمنا بھی تھی خیال کے ساتھ
احتیاط غم حیات نہ پوچھ
چل دئیے ہم جہاں کی چال کے ساتھ
ایک الزام بن گئی باقیؔ
فکر فردا بھی ذکر حال کے ساتھ
باقی صدیقی

اک مجسم سوال ہیں ہم لوگ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 101
ہمہ تن عرض حال ہیں ہم لوگ
اک مجسم سوال ہیں ہم لوگ
اور کس پر یہ حادثے گزرے
آپ اپنی مثال ہیں ہم لوگ
وقت کا فیصلہ ہے چارہ گرو
زخم تم، اندمال ہیں ہم لوگ
موت اپنی نہ زندگی اپنی
کس گماں کا مآل ہیں ہم لوگ
آپ سمجھیں تو ایک حقیقت ہیں
ورنہ خواب و خیال ہیں ہم لوگ
لاکھ پردوں میں بھی نمایاں ہیں
وقت کے خدوخال ہیں ہم لوگ
چارہ سازوں کے سرد ماتھے پر
عرق انفعال ہیں ہم لوگ
زندگی کی بساط پر باقیؔ
موت کی ایک چال ہیں ہم لوگ
کام لیتا ہے اک جہاں باقیؔ
ہر مصیبت کی ڈھال ہیں ہم لوگ
باقی صدیقی

رہتے ہیں ترے خیال میں ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 81
ماضی میں ہیں اب نہ حال میں ہم
رہتے ہیں ترے خیال میں ہم
فروا ہے کوئی خیال جیسے
یوں مست ہیں اپنے حال میں ہم
کھو بیٹھے ہیں اعتبار اپنا
آ آ کے جہاں کی چال میں ہم
آئے نہ ادھر غم زمانہ
بیٹھے ہیں ترے خیال میں ہم
دیتے ہیں کوئی جواب باقیؔ
کھوئے ہیں ابھی سوال میں ہم
باقی صدیقی

اک نئے عم کی طرح ڈال گیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 71
جس طرف بھی ترا خیال گیا
اک نئے غم کی طرح ڈال گیا
زیست کس مرحلے پہ آ پہنچی
وضعداری کا بھی سوال گیا
غم دل پر غم جہاں کا گماں
چھوڑئیے لطف عرض حال گیا
ہر تمنا پہ غم کا پہرہ تھا
پھر بھی کس کس طرف خیال گیا
دل سے رہ رہ کے ہم الجھتے ہیں
کس مصیبت میں کوئی ڈال گیا
درد اٹھا کچھ اس طرح باقیؔ
دل کی سب حسرتیں نکال گیا
باقی صدیقی

لے آیا کہاں خیال تیرا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 33
ہم پوچھ سکے نہ حال تیرا
لے آیا کہاں خیال تیرا
جیسے کسی غیر کا تصور
یوں آتا ہے اب خیال تیرا
ہم دیکھتے رہ گئے جہاں کو
پوچھا تھا کسی نے حال تیرا
ٹوٹے ہیں تعلقات کیونکر
میرا تھا نہ یہ خیال تیرا
کس رنگ میں وہ ملے تھے باقیؔ
دل ہی میں رہا سوال تیرا
باقی صدیقی

نئی نئی ہے محبت، جواں جواں ہیں خیال

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 12
حسیں حسیں نظر آتے ہیں آرزوؤں کے جال
نئی نئی ہے محبت، جواں جواں ہیں خیال
کبھی پیام قضا ہے، کبھی نوید حیات
تمام عمر معمہ رہا تمہارا جمال
کیا جو غور محبت کے ماحصل پہ کبھی
تو دھندلے دھندلے نظر آئے حسن کے خدوخال
کس اعتماد پہ دعویٰ کریں محبت کا
بدل بھی جاتے ہیں اے دوست آدمی کے خیال
بس ایک ان کے اشارے کی دیر ہے باقیؔ
نفس نفس ہے تمنا، نظر نظر ہے سوال
باقی صدیقی

ورنہ کرتا ہے کون پرسش حال

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 11
دیکھ کر آ گیا ہے ان کو خیال
ورنہ کرتا ہے کون پرسش حال
آرزوئے سکون دل توبہ
آپ کی بزم تک گیا ہے خیال
اک مصیبت سے بچ گئے تو کیا
دل سلامت رہے ہزار وبال
لازمی ہے سماعت احساس
لوگ کرتے ہیں زیرلب بھی سوال
ہیں ابھی مرحلے بہت باقیؔ
خود فریبی تو ہے اک آخری چال
باقی صدیقی