ٹیگ کے محفوظات: سوار

اُس نے اُتنا ہی مجھ کو خوار کیا

میں نے جتنا کسی سے پیار کیا
اُس نے اُتنا ہی مجھ کو خوار کیا
سَرسَری اُس نے کوئی کام کہا
ہم نے اعصاب پر سوار کیا
حاکمِ وقت ہی سہی باصرِؔ
وقت نے کس کا انتظار کیا
باصر کاظمی

اِتنا اوچھا بھی مجھ پہ وار نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
اپنے اِحساں جتا کے خوار نہ کر
اِتنا اوچھا بھی مجھ پہ وار نہ کر
ظلمتوں میں مجھ ایسے ذرّوں کے
جگمگانے کا انتظار نہ کر
مَیں کہ ہوں راندۂ ازل، مجھ پر
کر مگر اتنا اعتبار نہ کر
تو خُدا ہے، تو اپنے بندوں سا
لینے دینے کا کاروبار نہ کر
تُو کہ ابرِ کرم ہے، ربط کرم
چوٹیوں ہی سے استوار نہ کر
لے حقیقت کی کچھ خبر ماجدؔ
واہمے، ذہن پر سوار نہ کر
ماجد صدیقی

پڑے گا تا عُمر اَب یہی کاروبار کرنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
شجر سے گرتا ہر ایک پتّا شمار کرنا
پڑے گا تا عُمر اَب یہی کاروبار کرنا
قفس سے جاتی ہوئی ہواؤ، ستمگروں پر
ہماری حالت کُچھ اور بھی آشکار کرنا
یہی تأمّل کا درس ہے اُس کی کامرانی
عقاب سیکھے فضا میں رُک رُک کے وار کرنا
بنامِ خوبی جو ہم سے منسوب ہے، وفا کا
یہ دشت بھی ہے ہمیں اکیلے ہی پار کرنا
ہیں اِس پہ پہلے ہی کتنے احسان مُحسنوں کے
نظر کو ایسے میں اور کیا زیر بار کرنا
طلب اِسی زندگی میں جنّت کی ہے تو ماجدؔ
نہ خبط اعصاب پر کوئی بھی سوار کرنا
ماجد صدیقی

اُسی سے رشتہ مرا بھی کچھ دُور پار کا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 135
بہ کشتِ غیراں جو شوخ موسم بہار کا ہے
اُسی سے رشتہ مرا بھی کچھ دُور پار کا ہے
ہم اپنی شاخوں سے زمزمے جھاڑنے لگے ہیں
کہ اب تو کھٹکا تباہیٔ برگ و بار کا ہے
بھٹکنے والا اَڑا کے پیروں میں باگ اپنی
نجانے گھوڑا یہ کس لُٹے شہ سوار کا ہے
ہَوا بھی آئے تو کاٹنے سی لگے بدن کو
وہ خوف، زنداں میں تیغِ قاتل کی دھار کا ہے
بلا سے صیّاد راہ میں گر کماں بکف ہے
ہمیں تو اُڑنا ہے رُخ جدھر اپنی ڈار کا ہے
ہَوا پہ جیسی گرفت ماجدؔ حباب کو ہو
ہمیں بھی زعم اُس پہ بس وہی اختیار کا ہے
ماجد صدیقی

بیقراری قرار ہے اماں ہاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 87
جبر پُر اختیار ہے اماں ہاں
بیقراری قرار ہے اماں ہاں
ایزدِ ایزداں ہے تیرا انداز
اہرمن دل فگار ہے اماں ہاں
میرے آغوش میں جو ہے اُس کا
دَم بہ دَم انتظار ہے اماں ہاں
ہے رقیب اُس کا دوسرا عاشق
وہی اِک اپنا یار ہے اماں ہاں
یار زردی ہے رنگ پر اپنے
سو خزاں تو بہار ہے اماں ہاں
لب و پستان و ناف اس کے نہ پوچھ
ایک آشوبِ کار ہے اماں ہاں
سنگ در کے ہوں یا ہوں دار کے لوگ
سب پہ شہوت سوار ہے اماں ہاں
اب تو انساں کے معجزے ہیں عام
اور انسان خوار ہے اماں ہاں
جون ایلیا

یاد تھے یادگار تھے ہم تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 64
آپ اپنا غبار تھے ہم تو
یاد تھے یادگار تھے ہم تو
پردگی! ہم سے کیوں رکھا پردہ
تیرے ہی پردہ دار تھے ہم تو
وقت کی دھوپ میں تمہارے لیے
شجرِ سایہ دار تھے ہم تو
اُڑتے جاتے ہیں دُھول کے مانند
آندھیوں پر سوار تھے ہم تو
ہم نے کیوں خود پہ اعتبار کیا
سخت بے اعتبار تھے ہم تو
شرم ہے اپنی بار باری کی
بے سبب بار بار تھے ہم تو
کیوں ہمیں کر دیا گیا مجبور
خود ہی بے اختیار تھے ہم تو
تم نے کیسے بُلا دیا ہم کو
تم سے ہی مستعار تھے ہم تو
خوش نہ آیا ہمیں جیے جانا
لمحے لمحے پہ بار تھے ہم تو
سہہ بھی لیتے ہمارے طعنوں کو
جانِ من جاں نثار تھے ہم تو
خود کو دورانِ حال میں اپنے
بے طرح ناگوار تھے ہم تو
تم نے ہم کو بھی کر دیا برباد
نادرِ روزگار تھے ہم تو
ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا
جون یاروں کے یار تھے ہم تو
جون ایلیا

جیتوں نہ جیت سے کبھی ہاروں نہ ہار سے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 101
اِس درجہ ہو گیا ہوں سبک غم کے بار سے
جیتوں نہ جیت سے کبھی ہاروں نہ ہار سے
جب چاہے جس کو پھینک دے، منہ زور ہے بہت
وہ دیکھو! زین ہو گئی خالی سوار سے
خوش ہوں کہ تجھ سے ایک تعلق بنا رہا
ٹوٹا کبھی نہ ربط مرا انتظار سے
بیکار ہی سہی ولے شعروں کے شغل نے
مجھ کو بچا لیا ہے مرے انتشار سے
قربت کے ساتھ خواہشِ دیگر بھی چاہئے
باہر ہے لطفِ لمس مرے اختیار سے
خوشبوئیں لڑکیوں کی طرح گھومتی پھریں
کیا مشورہ ہے، آؤ نا پوچھیں بہار سے
آفتاب اقبال شمیم

آنکھوں سے گرپڑے کئی نیلم کے آبشار

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 7
میں جا رہا تھا دیکھنے فرودسِ بے کنار
آنکھوں سے گرپڑے کئی نیلم کے آبشار
شادابیوں کی آخری حد، وادئ گریز
پاؤں کے انتظار میں صدیوں سے اشکبار
ہلمت کی بے پناہ بلندی پہ تیز آب
پھرتا ہے بادلوں کے دریچوں میں بے قرار
لاکھوں برس قدیم گھنے جنگلوں کا کیل
اور اس کے بیچ زندگی باردو کا شکار
کیوں صحنِ شاردا میں ہوئی بدھ کی آتما
کتنے کروڑ لوگوں کے اشکوں سے داغدار
معصوم داؤکھن کی مقدس سفیدیاں
اک دورِ جاھلاں میں رسولوں میں انتظار
شمشہ بری کے پیچھے چناروں کا سرخ روپ
بادل بھری شعاعوں کامقتل پسِ بہار
اڑتے ہیں دھیر کوٹ کی گلیوں میں برگ و بار
جیسے بدلنے لگتی ہے تہذیبِ برف زار
شبنم کے موتیوں سے بھرا راولہ کا کوٹ
ہر سنگ میں دکھاتا ہے اک چشمِ آب دار
بنجوسہ جیسے آب درختوں کے تھال میں
بس گھومتی ہے روح میں خاموش سی پکار
دریائے تند سو گئے منگلا کی گود میں
منصور ڈھونڈتا رہا کشمیر کے سوار
منصور آفاق