ٹیگ کے محفوظات: سوئے

اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے
اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے
مِل اُن سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر
تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے
جو دن میں پھرا کرتے ہیں ہشیار و خبردار
وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے
ہم اُن کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل
رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے
اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام
اب ہم بھی یہ دیکھیں گے وہ کیسے نہیں ہوتے
ناکامی کی صورت میں مِلے طعنۂ نایافت
اب کام مرے اتنے بھی کچے نہیں ہوتے
شب اہلِ ہوس ایسے پریشان تھے باصرِؔ
جیسے مہ و انجم کبھی دیکھے نہیں ہوتے
باصر کاظمی

مگر اک غم ترا اے شوخ بے کس ہوکے روئے گا

دیوان اول غزل 146
نہیں ایسا کوئی میرا جو ماتم دار ہوئے گا
مگر اک غم ترا اے شوخ بے کس ہوکے روئے گا
اگر اگتے رہے اے ناامیدی داغ ایسے ہی
تو کاہے کو کوئی تخم تمنا دل میں بوئے گا
الٰہی وہ بھی دن ہو گا کہ جس میں ایک ساعت بھی
میں روئوں گا وہ اپنے ہاتھ میرے منھ کو دھوئے گا
جو ایسے شور سے روتا ہے دن کو میر تو شب کو
نہ سونے دے گا ہمسایوں کو نے یہ آپ سوئے گا
میر تقی میر