ٹیگ کے محفوظات: سنیں

رہا نہ دل ہی سلامت تو کیوں رہیں آنکھیں

بلا سے گر شبِ ہجراں میں جل بجھیں آنکھیں
رہا نہ دل ہی سلامت تو کیوں رہیں آنکھیں
یہ ربطِ تارِ نگہ تو بہت ہی بودا ہے
نجانے ہم سے وہ کس وقت پھیر لیں آنکھیں
بجا کہ نظریں ہی ٹھہری ہیں اب زباں لیکن
وہ سامنے ہی نہ آئیں تو کیا کریں آنکھیں
اُتر گئی ہیں رگ وپے میں یوں تِری نظریں
کوئی بھی نقش بنانے لگوں بنیں آنکھیں
لگی ہے آنکھ ہماری ترے تصور میں
تری ہی شکل مقابل ہو جب کھلیں آنکھیں
یہ معجزہ بھی دکھاتی ہے جستجو اکثر
کہ کان دیکھنے لگ جائیں اور سنیں آنکھیں
تمام عمر بھی گر ڈھونڈتے پھرو باصرِؔ
کہاں ملیں گی جو ہیں اپنے دھیان میں آنکھیں
باصر کاظمی