ٹیگ کے محفوظات: سنگ

ہَوا میں جذب ہوں ، خوشبو کے انگ انگ میں ہوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 55
سما کے ابر میں ، برسات کی اُمنگ میں ہُوں
ہَوا میں جذب ہوں ، خوشبو کے انگ انگ میں ہوں
فضا میں تیر رہی ہوں ، صدا کے رنگ میں ہوں
لہو سے پوچھ رہی ہوں ، یہ کس ترنگ میں ہوں
دھنک اُترتی نہیں میرے خون میں جب تک
میں اپنے جسم کی نیلی رگوں سے جنگ میں ہوں
بہار نے مِری آنکھوں پہ پُھول باندھ دیئے!
رہائی پاؤں تو کیسے ، حصارِ رنگ میں ہوں
کُھلی فضا ہے ، کُھلاآسماں بھی سامنے ہے
مگر یہ ڈر نہیں جاتا ، ابھی سرنگ میں ہوں
ہوا گزیدہ بنفشے کے پھول کی مانند
پناہِ رنگ سے بچ کر ، پناہِ سنگ میں ہوں
صدف میں اُتروں تو پھرمیں گُہر بھی بن جاؤں
صدف سے پہلے ابھی حلقہ ءِ نہنگ میں ہوں
پروین شاکر

رنگ طپیدن کی شوخی سے منھ پر میرے رنگ نہیں

دیوان چہارم غزل 1456
جی مارا بیتابی دل نے اب کچھ اچھا ڈھنگ نہیں
رنگ طپیدن کی شوخی سے منھ پر میرے رنگ نہیں
وہ جو خرام ناز کرے ہے ٹھوکر دل کو لگتی ہے
چوٹ کے اوپر چوٹ پڑے ہے دل ہے میرا سنگ نہیں
ہم بھی عالم فقر میں ہیں پر ہم سے جو مانگے کوئی فقیر
ایک سوال میں دو عالم دیں اتنے دل کے تنگ نہیں
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے ہو گے کیا میرے طور شتابی ہو
بیٹھا ہوں کھڑے پائوں میں کچھ چلنے میں تو درنگ نہیں
شعرمیر بھی پڑھتا ہے تو اور کسو کا لے کر نام
کیوں کر کہیے اس ناداں کو نام سے میرے ننگ نہیں
میر تقی میر

اک جمع لڑکوں کا بھی لے لے کے سنگ آیا

دیوان سوم غزل 1058
کرتا جنوں جہاں میں بے نام و ننگ آیا
اک جمع لڑکوں کا بھی لے لے کے سنگ آیا
شب شمع کی بھی جھپکی مجلس میں لگ گئی تھی
سرگرم شوق مردن جس دم پتنگ آیا
فتنے فساد اٹھیں گے گھر گھر میں خون ہوں گے
گر شہر میں خراماں وہ خانہ جنگ آیا
ہر سر نہیں ہے شایاں شور قلندری کا
گو شیخ شہر باندھے زنجیر و زنگ آیا
چسپاں ہے اس بدن سے پیراہن حریری
اتنی بھی تنگ پوشی جی اب تو تنگ آیا
باتیں ہماری ساری بے ڈھنگیاں ہیں وے ہی
بوڑھے ہوئے پہ ہم کو اب تک نہ ڈھنگ آیا
بشرے کی اپنے رونق اے میر عارضی ہے
جب دل کو خوں کیا تو چہرے پہ رنگ آیا
میر تقی میر

دل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے

دیوان اول غزل 602
جاں گداز اتنی کہاں آوازعود و چنگ ہے
دل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے
رو و خال و زلف ہی ہیں سنبل و سبزہ و گل
آنکھیں ہوں تو یہ چمن آئینۂ نیرنگ ہے
بے ستوں کھودے سے کیا آخر ہوئے سب کار عشق
بعد ازاں اے کوہکن سر ہے ترا اور سنگ ہے
آہ ان خوش قامتوں کو کیونکے بر میں لایئے
جن کے ہاتھوں سے قیامت پر بھی عرصہ تنگ ہے
عشق میں وہ گھر ہے اپنا جس میں سے مجنوں یہ ایک
ناخلف سارے قبیلے کا ہمارے ننگ ہے
چشم کم سے دیکھ مت قمری تو اس خوش قد کو ٹک
آہ بھی سرو گلستان شکست رنگ ہے
ہم سے تو جایا نہیں جاتا کہ یکسر دل میں واں
دو قدم اس کی گلی کی راہ سو فرسنگ ہے
ایک بوسے پر تو کی ہے صلح پر اے زود رنج
تجھ کو مجھ کو اتنی اتنی بات اوپر جنگ ہے
پائوں میں چوٹ آنے کے پیارے بہانے جانے دے
پیش رفت آگے ہمارے کب یہ عذرلنگ ہے
فکر کو نازک خیالوں کے کہاں پہنچے ہیں یار
ورنہ ہر مصرع یہاں معشوق شوخ و شنگ ہے
سرسری کچھ سن لیا پھر واہ وا کر اٹھ گئے
شعر یہ کم فہم سمجھے ہیں خیال بنگ ہے
صبر بھی کریے بلا پر میر صاحب جی کبھو
جب نہ تب رونا ہی کڑھنا یہ بھی کوئی ڈھنگ ہے
میر تقی میر

ہمارے چہرے کے اوپر بھی رنگ تھا آگے

دیوان اول غزل 532
قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگے
ہمارے چہرے کے اوپر بھی رنگ تھا آگے
اٹھائیں تیرے لیے بد زبانیاں ان کی
جنھوں کی ہم کو خوشامد سے ننگ تھا آگے
ہماری آہوں سے سینے پہ ہو گیا بازار
ہر ایک زخم کا کوچہ جو تنگ تھا آگے
رہا تھا شمع سے مجلس میں دوش کتنا فرق
کہ جل بجھے تھے یہ ہم پر پتنگ تھا آگے
کیا خراب تغافل نے اس کے ورنہ میر
ہر ایک بات پہ دشنام و سنگ تھا آگے
میر تقی میر

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

دیوان اول غزل 28
شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا
آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا
کثرت میں درد و غم کی نہ نکلی کوئی طپش
کوچہ جگر کے زخم کا شاید کہ تنگ تھا
لایا مرے مزار پہ اس کو یہ جذب عشق
جس بے وفا کو نام سے بھی میرے ننگ تھا
دیکھا ہے صید گہ میں ترے صید کا جگر
باآنکہ چھن رہا تھا پہ ذوق خدنگ تھا
دل سے مرے لگا نہ ترا دل ہزار حیف
یہ شیشہ ایک عمر سے مشتاق سنگ تھا
مت کر عجب جو میر ترے غم میں مر گیا
جینے کا اس مریض کے کوئی بھی ڈھنگ تھا
میر تقی میر

سارے نشیب جن کی اُٹھانوں پہ دنگ ہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 42
یہ پیڑ، یہ پہاڑ زمیں کی اُمنگ ہیں
سارے نشیب جن کی اُٹھانوں پہ دنگ ہیں
باہر ہو جس، پھر بھی دریچہ کھلا رکھوں
یہ خود تسلیاں میرے جینے کا ڈھنگ ہیں
ڈھونڈوں کہ انتہا کی مجھے انتہا ملے
یہ شش جہات میری تمنا پہ تنگ ہیں
اک عمر اک مکان کی تعمیر میں لگے
ایام سے زیادہ گراں خشت و سنگ ہیں
چہکے ہزار صوت میں یہ طائر نظر
کرنوں کے پاس یوں تو یہی سات رنگ ہیں
ویسے ہمیں ندامت بے چہرگی نہیں
ہرچند تیرے شہر میں بے نام و ننگ ہیں
آفتاب اقبال شمیم

ہمارے ساتھ اَبھی نام و ننگ سا کچھ ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 334
شکستہ پیرہنوں میں بھی رنگ سا کچھ ہے
ہمارے ساتھ اَبھی نام و ننگ سا کچھ ہے
حریف تو سپر اَنداز ہو چکا کب کا
درونِ ذات مگر محوِ جنگ سا کچھ ہے
کہیں کسی کے بدن سے بدن نہ چھو جائے
اِس احتیاط میں خواہش کا ڈھنگ سا کچھ ہے
جو دیکھئے تو نہ تیغِ جفا نہ میرا ہاتھ
جو سوچئے تو کہیں زیرِ سنگ سا کچھ ہے
وہ میری مصلحتوں کو بگاڑنے والا
ہنوز مجھ میں وہی بے درنگ سا کچھ ہے
چلو زمیں نہ سہی آسمان ہی ہو گا
محبتوں پہ بہرحال تنگ سا کچھ ہے
عرفان صدیقی

جو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 70
اس کارگہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا
جو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیا
تصویر کو تصویر دکھائی نہیں جاتی
اس آئنہ خانے میں نظر دنگ نہیں کیا
ہے حلقہ جاں اپنی وفاؤں کا تصور
اس داغ سے آگے کوئی فرسنگ نہیں کیا
ہر بات پہ ہم دیتے ہیں غیروں کا حوالہ
اپنا کوئی آہنگ کوئی رنگ نہیں کیا
بخشے ہوئے اک گھونٹ پہ ہم جھوم رہے ہیں
اب مانگ کے پینا بھی کوئی ننگ نہیں کیا
زخم دل بیتاب ہے ہاتھوں میں نوالہ
اس بات پہ دنیا سے مری جنگ نہیں کیا
وہ رنگ نہیں شعلہ احساس میں باقیؔ
ہم ساز تمنا سے ہم آہنگ نہیں کیا
باقی صدیقی

ماجدُ بناں بیان دے، فکراں دا کیہ رنگ سی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 114
ہوٹھاں دے وچکار تے اکو چُپ دا زنگ سی
ماجدُ بناں بیان دے، فکراں دا کیہ رنگ سی
اک اک پرت سی یاد دا، جویں دوپٹہ لہریا
ہیٹھ سرہانے مہکدی، اوہدی اک اک ونگ سی
وانگ سودائیاں شہر وچ، دل دا حال وِچاریا
کنّاں نال نہ ٹھاکیا، دَسیا تے لاہ لنگ سی
اکو جثہ آپنا، نئیں سی اگ چ، ساڑیا
سچی گل اے روح وی، ہن تے مینتھوں تنگ سی
چار چفیرے روشنی، نھیرے مینوں ولہٹیا
ستی سوں گئی سوچ وی، وہماں دا اوہ سنگ سی
اوہ وی ہے سی ماجداُ، وگدی وا بسنت دی
دل وی ادوں آپنا، جیئوں بِن ڈور پتنگ سی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)