ٹیگ کے محفوظات: سنسناہٹ

دلہنیں فرش گل پر چلیں ، دور تک اُن کی آہٹ گئی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 68
سو بہ سو زرد رنگوں کی پھیلی ہوئی تیرگی چھٹ گئی
دلہنیں فرش گل پر چلیں ، دور تک اُن کی آہٹ گئی
کون جانے کہ ہم راہ پر ہیں کہ گم کردۂ راہ ہیں
منزلوں کے دئیے کیا بجھے آنکھ میں روشنی گھٹ گئی
سانس نے چھو لیا کس کی سانسوں کی بھیگی ہوئی آگ کو
فرش سے لے کے پاتال تک جسم میں سنسناہٹ گئی
تھا شکنجے میں سارا بدن، حادثہ رونما نہ ہوا
ایک پل کے گزرنے میں ایسے لگا اک صدی کٹ گئی
آنکھ پر سوچ کے اَن گنت ماخذوں کی شعاعیں پڑیں
راستوں سے نکلتے ہوئے راستوں میں نظر بٹ گئی
کیوں پرِ کاہ کے زور سے جبر کے کوہ اُڑنے لگے
کیا ذرا سی انا آمرِ وقت کے سامنے ڈٹ گئی
آفتاب اقبال شمیم

بے تحاشا فائروں کی سنسناہٹ سے ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 71
خوف پیدا جشن ہائے چودہراہٹ سے ہوا
بے تحاشا فائروں کی سنسناہٹ سے ہوا
شمع کا شعلہ ہوا کی تھرتھراہٹ سے ہوا
اک غضب کی چیز اپنی مسکراہٹ سے ہوا
موسمِ گل کے دھڑکتے موسموں کا سلسلہ
اک دوپٹے کی ذراسی سرسراہٹ سے ہوا
راستے میں رک گئی ہے کیوں یہ چلتی روشنی
میں پریشاں کچھ زیادہ ہچکچاہٹ سے ہوا
اس قدر منصور موسم یخ ہوا ہے روح کا
سرد آتش دان میری کپکپاہٹ سے ہوا
منصور آفاق