ٹیگ کے محفوظات: سنبھل

وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے

دمِ صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے
وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے
نئے ساتھیوں کی دُھن میں تیری دوستی کو چھوڑا
کوئی تجھ سا بھی نہ پایا تِرے شہر سے نکل کے
وہی رسمِ کم نگاہی وہی رات کی سیاہی
مرے شہر کے چراغو یہاں کیا کرو گے جل کے
نئے خواب میری منزل تہِ آب میرا ساحل
تمہیں کیا ملے گا یارو مرے ساتھ ساتھ چل کے
سرِ شام آج کوئی مرے دل سے کہہ رہا ہے
کوئی چاند بھی تو نکلے کوئی جام بھی تو چھلکے
یہ جو گھر لٹا لٹا ہے یہ جو دل بجھا بجھا ہے
اِسی دل میں رہ گئے ہیں کئی آفتاب ڈھل کے
یہ مشاہدہ ہے میرا رہِ زندگی میں باصرِؔ
وہی منہ کے بَل گرا ہے جو چلا سنبھل سنبھل کے
باصر کاظمی

وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے
وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے
اُس کی غرض تو بس سانسیں پی جانے تک ہے
جس کو نگلے دریا اُسے، اُگل جاتا ہے
گود کھلاتی خاک بھی کھسکے پَیروں تلے سے
سرپر ٹھہرا بپھرا امبر بھی ڈھل جاتا ہے
پانی پر لہروں کے نقش کہاں ٹھہرے ہیں
منظر آتی جاتی پل میں بدل جاتا ہے
دُشمن میں یہ نقص ہے جب بھی دکھائی دے تو
رگ رگ میں اِک تُند الاؤ جل جاتا ہے
جس کا تخت ہِلا ہے ذرا سا اپنی جگہ سے
آج نہیں جاتا وہ شخص تو کل جاتا ہے
اِس جانب سے ماجد اُس جانب کے افق تک
ساکن چاند بھی چُپ چُپ دُور نکل جاتا ہے
ماجد صدیقی

مجھے گماں بھی نہ ہو اور تم بدل جانا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 13
جو چل سکو تو کوئی ایسی چال چل جانا
مجھے گماں بھی نہ ہو اور تم بدل جانا
یہ شعلگی ہو بدن کی تو کیا کیا جائے
سو لازمی تھا ترے پیرہن کا جل جانا
تمہیں کرو کوئی درماں، یہ وقت آ پہنچا
کہ اب تو چارہ گروں کو بھی ہاتھ مل جانا
ابھی ابھی تو جدائی کی شام آئی تھی
ہمیں عجیب لگا زندگی کا ڈھل جانا
سجی سجائی ہوئی موت زندگی تو نہیں
مورّخوں نے مقابر کو بھی محل جانا
یہ کیا کہ تو بھی اسی ساعتِ زوال میں ہے
کہ جس طرح ہے سبھی سورجوں کو ڈھل جانا
ہر ایک عشق کے بعد اور اس کے عشق کے بعد
فراز اتنا بھی آساں نہ تھا سنبھل جانا
احمد فراز

مُٹھی میں آ نہ پائے کہ جگنوں نِکل گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 93
چُھونے سے قبل رنگ کے پیکر پگھل گئے
مُٹھی میں آ نہ پائے کہ جگنوں نِکل گئے
پھیلے ہُوئے تھے جاگتی نیندوں کے سِلسلے
آنکھیں کھلیں تو رات کے منظر بدل گئے
کب حدّتِ گلاب پہ حرف آنے پائے گا
تِتلی کے پَر اُڑان کی گرمی سے جل گئے
آگے تو صرف ریت کے دریا دکھائی دیں
کن بستیوں کی سمت مسافر نکل گئے
پھر چاندنی کے دام میں آنے کو تھے گلاب
صد شکر نیند کھونے سے پہلے سنبھل گئے
پروین شاکر

یہ نشیمن تو ہے کیا طور بھی جل جاتا ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 135
باغباں برق کا جب طور بدل جاتا ہے
یہ نشیمن تو ہے کیا طور بھی جل جاتا ہے
کچھ وہ کہہ دیتے ہیں بیمار سنبھل جاتا ہے
وقت کا ٹالنے والا ہو تو ٹل جاتا ہے
عشق اور حسن سے مانوس یہ کیسے مانیں
شمع کو دیکھ کہ پروانہ تو جل جاتا ہے
کون ساحل پہ دعا مانگ رہا ہے یا رب
بچ کے طوفان مری کشتی سے نکل جاتا ہے
اب بھی سنبھلا نہیں او ٹھوکریں کھانے والے
ٹھوکریں کھا کہ تو انسان سنبھل جاتا ہے
ہجر کی رات ہے وہ رات کہ یا رب توبہ
شام سے صبح تک انسان بدل جاتا ہے
یاس و امید کا عالم ہے یہ شامِ وعدہ
کبھی بجھتا ہے چراغ اور کبھی جل جاتا ہے
عہد کرتے ہیں کہ اب ان سے ملیں گے نہ قمر
کیا کریں دیکھ کہ دل ان کو مچل جاتا ہے
قمر جلالوی

ارمان عدو کا بھی نکل جائے تو اچھا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 24
جی داغِ غمِ رشک سے جل جائے تو اچھا
ارمان عدو کا بھی نکل جائے تو اچھا
پروانہ بنا میرے جلانے کو وفادار
محفل میں کوئی شمع بدل جائے تو اچھا
کس چین سے نظارۂ ہر دم ہو میسر
دل کوچۂ دشمن میں بہل جائے تو اچھا
تم غیر کے قابو سے نکل آؤ تو بہتر
حسرت یہ مرے دل کی نکل جائے تو اچھا
سودا زدہ کہتے ہیں، ہوا شیفتہ افسوس
تھا دوست ہمارا بھی، سنبھل جائے تو اچھا
مصطفٰی خان شیفتہ

کاشکے آہوچشم اپنا آنکھوں کو پائوں سے مل جاتا

دیوان پنجم غزل 1568
ایک نہ خواہش بر آئی تا جی کا غبار نکل جاتا
کاشکے آہوچشم اپنا آنکھوں کو پائوں سے مل جاتا
آتش دل کی لپٹوں کا ہے یارو کچھ عالم ہی جدا
لائحہ کوئی کھینچتا سر تو سارا عالم جل جاتا
نعرہ کرنا عاشق کا ہے ساتھ اک ہیبت کے یعنی
سن آواز اس شیرنر کی سیل بلا سے دہل جاتا
اہل زمیں تو کیا ہیں ان کا سہل تھا راہ سے لے جانا
چرخ پہ ہوتا وہ جو چھلاوا خیل ملک کو چھل جاتا
کشتی زبردستوں کی اس سے پاک ہوئی تو کیا ہے عجب
رستم سامنے ہوجاتا تو راہ بچا کر ٹل جاتا
غم سے ہو گر زرد سراسر صورت ساری خزاں کی سی
آن نکلتے سوے چمن تو رنگ ہوا کا بدل جاتا
ڈھلتے ڈھلتے ضعف سے آئے میر سو ان نے منھ پھیرا
یاقوتی سے بوسۂ لب کی جی شاید کہ سنبھل جاتا
میر تقی میر

کل درد دل کہا سو مرا منھ ابل گیا

دیوان چہارم غزل 1325
شاید جگر حرارت عشقی سے جل گیا
کل درد دل کہا سو مرا منھ ابل گیا
بے یار حیف باغ میں دل ٹک بہل گیا
دے گل کو آگ چار طرف میں نہ جل گیا
اس آہوے رمیدہ کی شوخی کہیں سو کیا
دکھلائی دے گیا تو چھلاوا سا چھل گیا
دن رات خوں کیا ہی کیے ہم جگر کو پھر
گر پھول گل سے کوئی گھڑی جی بہل گیا
تیور بدلنے سے تو نہیں اس کے بے حواس
اندیشہ یہ ہے طور ہی اس کا بدل گیا
ہرچند میں نے شوق کو پنہاں کیا ولے
ایک آدھ حرف پیار کا منھ سے نکل گیا
کرتے ہیں نذر ہم کہ نہ الفت کریں کہیں
گر دل ضعیف اب کے ہمارا سنبھل گیا
چلنے لگے تھے راہ طلب پر ہزار شکر
پہلے قدم ہی پائوں ہمارا بچل گیا
میں دہ دلا تو آگے ہی تھا فرط شوق سے
طور اس کا دیکھ اور بھی کچھ دل دہل گیا
سر اب لگے جھکانے بہت خاک کی طرف
شاید کہ میرجی کا دماغی خلل گیا
میر تقی میر

کیا جی تدرو کا جو ترے آگے چل سکے

دیوان اول غزل 586
تیرا خرام دیکھے تو جا سے نہ ہل سکے
کیا جی تدرو کا جو ترے آگے چل سکے
اس دل جلے کی تاب کے لانے کو عشق ہے
فانوس کی سی شمع جو پردے میں جل سکے
کہتا ہے کون تجھ کو کہ اے سینہ رک نہ جا
اتنا تو ہو کہ آہ جگر سے نکل سکے
گر دوپہر کو اس کو نکلنے دے نازکی
حیرت سے آفتاب کی پھر دن نہ ڈھل سکے
کیا اس غریب کو ہو سرسایۂ ہما
جو اپنی بے دماغی سے مکھی نہ جھل سکے
ہے جاے حیف بزم جہاں مل لے اے پتنگ
اپنے اپر جو کوئی گھڑی ہاتھ مل سکے
ہے وہ بلاے عشق کہ آئے سو آئے ہے
کلول نہیں ہے ایسی محبت کہ ٹل سکے
کس کو ہے آرزوے افاقت فراق میں
ایسا تو ہو کہ کوئی گھڑی جی سنبھل سکے
مت ابر چشم کم سے مری چشم تر کو دیکھ
چشمہ ہے یہ وہ جس سے کہ دریا ابل سکے
کہتا ہے وہ تو ایک کی دس میر کم سخن
اس کی زباں کے عہدے سے کیونکر نکل سکے
تغئیرقافیہ سے یہ طرحی غزل کہوں
تا جس میں زور کچھ تو طبیعت کا چل سکے
میر تقی میر

راتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیا

دیوان اول غزل 39
گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا
راتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیا
ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج تر
تیوری چڑھائی تونے کہ یاں جی نکل گیا
گرمی عشق مانع نشوونما ہوئی
میں وہ نہال تھا کہ اگا اور جل گیا
مستی میں چھوڑ دیر کو کعبے چلا تھا میں
لغزش بڑی ہوئی تھی ولیکن سنبھل گیا
ساقی نشے میں تجھ سے لنڈھا شیشۂ شراب
چل اب کہ دخت تاک کا جوبن تو ڈھل گیا
ہر ذرہ خاک تیری گلی کی ہے بے قرار
یاں کون سا ستم زدہ ماٹی میں رل گیا
عریاں تنی کی شوخی سے دیوانگی میں میر
مجنوں کے دشت خار کا داماں بھی چل گیا
میر تقی میر

نکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا

دیوان اول غزل 21
مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا
نکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا
پیدا ہے کہ پنہاں تھی آتش نفسی میری
میں ضبط نہ کرتا تو سب شہر یہ جل جاتا
میں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہ
اک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا
بن پوچھے کرم سے وہ جو بخش نہ دیتا تو
پرسش میں ہماری ہی دن حشر کا ڈھل جاتا
استادہ جہاں میں تھا میدان محبت میں
واں رستم اگر آتا تو دیکھ کے ٹل جاتا
وہ سیر کا وادی کے مائل نہ ہوا ورنہ
آنکھوں کو غزالوں کی پائوں تلے مل جاتا
بے تاب و تواں یوں میں کا ہے کو تلف ہوتا
یاقوتی ترے لب کی ملتی تو سنبھل جاتا
اس سیم بدن کو تھی کب تاب تعب اتنی
وہ چاندنی میں شب کی ہوتا تو پگھل جاتا
مارا گیا تب گذرا بوسے سے ترے لب کے
کیا میر بھی لڑکا تھا باتوں میں بہل جاتا
میر تقی میر

کوچۂ بند باہر تو نکل کر دیکھیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 41
کثرتِ جلوۂ امکان کو چل کر دیکھیں
کوچۂ بند باہر تو نکل کر دیکھیں
اپنی پس ماندگیاں ، راحتیں لگتی ہیں جنہیں
تکیۂ عادت تکرار بدل کر دیکھیں
جنبشِ لطف سے دستار نہ گر جائے کہیں
بام سے منظر دنیا کو سنبھل کر دیکھیں
پا فتادہ سرِ دریا ہوں کھڑا برسوں سے
اور لہریں مجھے دریا سے اُچھل کر دیکھیں
گرمیِٔ مے سے ہوں شفاف یہ سیسہ آنکھیں
آؤ اِس شعلۂ شب تاب میں جل کر دیکھیں
زندگی کوئی کلیشے تو نہیں جینے کا
اسکی صد زاویہ راہوں میں نکل کر دیکھیں
عمرِ کوتاہ گزرنے کو ہے آؤ! آؤ!
اسکے ہر نور میں ہر نار میں ڈھل کر دیکھیں
آفتاب اقبال شمیم

دل کی حالت سنبھل چلی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 9
بات بس سے نکل چلی ہے
دل کی حالت سنبھل چلی ہے
اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے
اب طبیعت بہل چلی ہے
اشک خونناب ہو چلے ہیں
غم کی رنگت بدل چلی ہے
یا یونہی، بجھ رہی ہیں شمعیں
یا شبِ ہجر ٹل چلی ہے
لاکھ پیغام ہو گئے ہیں
جب صبا ایک پل چلی ہے
جاو اب سو رہو ستارو
درد کی رات ڈھل چلی ہے
فیض احمد فیض

دل تھا کہ پھر بہل گیا، جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 5
شامِ فراق، اب نہ پوچھ، آئی اور آکے ٹل گئی
دل تھا کہ پھر بہل گیا، جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی
بزمِ خیال میں ترے حسن کی شمع جل گئی
درد کا چاند بجھ گیا، ہجر کی رات ڈھل گئی
جب تجھے یاد کرلیا، صبح مہک مہک اٹھی
جب ترا غم جگا لیا، رات مچل مچل گئی
دل سے تو ہر معاملہ کرکے چلے تھے صاف ہم
کہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی
آخرِ شب کے ہمسفر فیض نجانے کیا ہوئے
رہ گئی کس جگہ صبا، صبح کدھر نکل گئی
جناح ہسپتال کراچی
فیض احمد فیض

پھر اس کے بعد زمانوں کو روند چل چل کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 580
تُو پہلے لوح پہ لکھا ہوا بدل چل کے
پھر اس کے بعد زمانوں کو روند چل چل کے
اکیلا دیکھ کے تالاب کے کنارے پر
تسلی دینے مجھے آ گیا کنول چل کے
مجھے دکھا نہ دہکتے ہوئے پہر کا جلال
جا اپنی شام کی عبرت سرا میں ڈھل چل کے
صداؤں سے وہ سفینہ پلٹ نہیں سکتا
اِسی جزیرہ وحشت میں ہاتھ مل چل کے
نکال دشتِ تعلق سے اپنی تنہائی
کسی حبیب کے گھر جا، ذرا سنبھل چل کے
وہ سنگ زاد پگھلتا نہیں مگر پھر بھی
اسے سنا کوئی جلتی ہوئی غزل چل کے
طلوعِ حسن کی ساعت پہ تبصرہ کیا ہو
نکل رہا ہے کوئی آسماں کے بل چل کے
مزاجِ خانہء درویش کو خراب نہ کر
چراغ! اپنے حریمِ حرم میں جل چل کے
فسادِ خلقِ خدا پہ امید صبحوں کی
بغاوتوں کی کرن ہیں تماشے ہلچل کے
رکی ہے چرخ کی چرخی کسی خرابی سے
نکال وقت کے پہیے سے اب خلل چل کے
مثالِ تیر لپکتے ہوئے تعاقب میں
ابد میں ہو گیا پیوست خود ازل چل کے
اب اس کے بعد کہانی ترے کرم کی ہے
خود آ گیا ہے یہاں تک تو بے عمل چل کے
ندی کی پیاس بجھا ریت کے سمندر سے
کسی پہاڑ کی چوٹی سے پھر ابل چل کے
سنا ہے کھڑکیاں کھلتی ہیں چاند راتوں میں
کسی کو دیکھ مرے دل، کہیں مچل چل کے
مجھے بھی آتے دنوں کا شعور حاصل ہو
پڑھوں کہیں پہ گذشتہ کا ماحصل چل کے
بس ایک فون کی گھنٹی، بس ایک ڈور کی بیل
کسی کی آگ میں پتھر بدن !پگھل چل کے
عجب ہے حسنِ تناسب کی داستاں منصور
بنا ہے ‘ تاج محل‘ موت کا محل چل کے
منصور آفاق

یہ کہاں تک آ گئے ہیں ساتھ چل کے آئینے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 568
دیکھتا ہوں خواب میں تیرے محل کے آئینے
یہ کہاں تک آ گئے ہیں ساتھ چل کے آئینے
میں نے دیواروں پہ تیری شکل کیا تصویر کی
آ گئے کمرے میں آنکھوں سے نکل کے آئینے
آدمی نے اپنی صورت پر تراشے دیوتا
آپ اپنی ہی عبادت کی، بدل کے آئینے
ساڑھی کے شیشوں میں میرا لمسِ تازہ دیکھ کر
تیرے شانوں سے نظر کے ساتھ ڈھلکے آئینے
آخری نقطے تلک دیکھا تھا اپنی آنکھ میں
اور پھر دھندلا گئے تھے ہلکے ہلکے آئینے
ایک سورج ہے ترے مد مقابل آج رات
دیکھ اس کو دیکھ لیکن کچھ سنبھل کے آئینے
سینہء شب میں حرارت تھی کچھ اتنی چاند کی
پارہ پارہ ہو گئے ہیں دو پگھل کے آئینے
پھر برہنہ شخصیت ہونے لگی دونوں طرف
جب شرابوں سے بھرے کچھ دیر چھلکے آئینے
منصور آفاق

بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 131
اشکوں میں خیال ڈھل رہے ہیں
بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں
آداب چمن بھی سیکھ لیں گے
زنداں سے ابھی نکل رہے ہیں
پھولوں کو شرار کہنے والو
کانٹوں پہ بھی لوگ چل رہے ہیں
ہے جھوٹ کہ سچ کسے خبر ہے
سنتے ہیں کہ ہم سنبھل رہے ہیں
آرام کریں کہاں مسافر
سائے بھی شرر اگل رہے ہیں
حالات سے بے نیاز ہو کر
حالات کا رُخ بدل رہے ہیں
کہتے ہیں اسے نصیب باقیؔ
پانی سے چراغ جل رہے ہیں
باقی صدیقی