ٹیگ کے محفوظات: سنبھالے

یاد سے محو ہوئے چاہنے والے کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
پڑ گئے ذہن پہ نسیان کے تالے کیا کیا
یاد سے محو ہوئے چاہنے والے کیا کیا
رسیاں اُن کے لئے جیسے فلک بھیجے گا
ہاتھ لہراتے رہے ڈوبنے والے کیا کیا
کب کوئی سانپ دبا لے، کوئی شاہیں آلے
چونچ پر پڑنے لگے خوف کے چھالے کیا کیا
جانے والے، ہیں بس اتنے سا پتہ چھوڑ گئے
دیکھ لے بند کواڑوں پہ ہیں جالے کیا کیا
چاہتیں وقفِ غرض، نیّتیں نفرت والی
تخت ہم نے بھی وراثت میں سنبھالے کیا کیا
کب سے شہباز ہیں جو، محو اسی فکر میں ہیں
چیونٹیوں نے بھی یہاں، پَر ہیں نکالے کیا کیا
سَر اُٹھانے کی ہوئی جب بھی جسارت ہم سے
ہم پہ ماجدؔ نہ تنے طیش کے بھالے کیا کیا
ماجد صدیقی

آخر ہیں تری آنکھوں کے ہم دیکھنے والے

دیوان اول غزل 480
کس طور ہمیں کوئی فریبندہ لبھالے
آخر ہیں تری آنکھوں کے ہم دیکھنے والے
سو ظلم اٹھائے تو کبھو دور سے دیکھا
ہرگز نہ ہوا یہ کہ ہمیں پاس بلا لے
اس شوخ کی سرتیز پلک ہیں کہ وہ کانٹا
گڑ جائے اگر آنکھ میں سر دل سے نکالے
عشق ان کو ہے جو یار کو اپنے دم رفتن
کرتے نہیں غیرت سے خدا کے بھی حوالے
وے دن گئے جو ضبط کی طاقت تھی ہمیں بھی
اب دیدئہ خوں بار نہیں جاتے سنبھالے
احوال بہت تنگ ہے اے کاش محبت
اب دست تلطف کو مرے سر سے اٹھالے
دعواے قیامت کا مرے خوف اسے کیا
اک لطف میں وہ مجھ سے تنک رو کو منالے
کہتے ہیں حجاب رخ دلدار ہے ہستی
دیکھیں گے اگر یوں ہے بھلا جان بھی جا لے
میر اس سے نہ مل آہ کہ ڈرتے ہیں مبادا
بیباک ہے وہ شوخ کہیں مار نہ ڈالے
میر تقی میر

یادوں کا تعویذ ہمیشہ گلے میں ڈالے رکھتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 97
وقت کی ہر آفت کو اپنے سر سے ٹالے رکھتا ہوں
یادوں کا تعویذ ہمیشہ گلے میں ڈالے رکھتا ہوں
خواب کے روزن سے در آئی روشنیوں کا کیا کہنا
گھور اندھیرے میں بھی اپنے پاس اُجالے رکھتا ہوں
ہر مایوسی سہہ لیتا ہوں شاید اس کی برکت سے
یہ جو انہونی کا سپنا دل میں پالے رکھتا ہوں
کیا معلوم کہ جانے والا سمت شناس فردا ہو
تھوڑی دُور تو ہر مرکب کی باگ سنبھالے رکھتا ہوں
اپنے اس انکار کے باعث دین کا ہوں نہ ہی دنیا کا
ہر خواہش کو پاؤں کی ٹھوکر پہ اچھالے رکھتا ہوں
زہر کا پیالہ، سوکھا دریا اور صلیب و دار و رسن
میں بھی اپنے ہونے کے دو چار حوالے رکھتا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 178
ہم تو زنجیر سفر شوق میں ڈالے ہوئے ہیں
ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں
جان و تن عشق میں جل جائیں گے‘ جل جانے دو
ہم اسی آگ سے گھر اپنا اجالے ہوئے ہیں
کب سے مژگاں نہیں کھولے مرے ہشیاروں نے
کتنی آسانی سے طوفان کو ٹالے ہوئے ہیں
اجنبی جان کے کیا نام و نشاں پوچھتے ہو
بھائی‘ ہم بھی اسی بستی کے نکالے ہوئے ہیں
ہم نے کیا کیا تجھے چاہا ہے انہیں کیا معلوم
لوگ ابھی کل سے ترے چاہنے والے ہوئے ہیں
کہیں وحشت نہیں دیکھی تری آنکھوں جیسی
یہ ہرن کون سے صحراؤں کے پالے ہوئے ہیں
دل کا کیا ٹھیک ہے آنا ہے تو آجا کہ ابھی
ہم یہ گرتی ہوئی دیوار سنبھالے ہوئے ہیں
عرفان صدیقی

اندھے نگر میں دیکھنے والے ہوئے تو ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 372
ہم واں نہیں وہاں سے نکالے ہوئے تو ہیں
اندھے نگر میں دیکھنے والے ہوئے تو ہیں
آنسو تمام شہر نے افلاک کی طرف
دستِ دعا پہ رکھ کے اچھالے ہوئے تو ہیں
اس میں کوئی مکان جلا ہے تو کیا ہوا
دوچار دن گلی میں اجالے ہوئے تو ہیں
یادیں بھی یادگاریں بھی لوٹانے کا ہے حکم
تصویریں اور خطوط سنبھالے ہوئے تو ہیں
سچ کہہ رہی ہے صبح کی زر خیزروشنی
ہم لوگ آسمان کے پالے ہوئے تو ہیں
آخر کبھی تو شامِ ملاقات آئے گی
ڈیرے کسی کے شہر میں ڈالے ہوئے تو ہیں
منصور کب وہاں پہ پہنچتے ہیں کیاکہیں
کچھ برگِ گل ہواکے حوالے ہوئے تو ہیں
منصور آفاق