ٹیگ کے محفوظات: سنبل

صبح کی بائو سے لگ لگنے نہ دیتی گل کو

دیوان دوم غزل 934
ہوتی کچھ عشق کی غیرت بھی اگر بلبل کو
صبح کی بائو سے لگ لگنے نہ دیتی گل کو
میں نے سر اپنا دھنا تھا تبھی اس شوخ نے جب
پگڑی کے پیچ سے باندھا تھا اٹھا کاکل کو
مستی ان آنکھوں سے نکلے ہے اگر دیکھو خوب
خلق بدنام عبث کرتی ہے جام مل کو
جیسے ہوتی ہے کتاب ایک ورق بن ناقص
نسبت تام اسی طور ہے جز سے کل کو
ایک لحظے ہی میں بل سارے نکل جاتے میر
پیچ اس زلف کے دینے تھے دکھا سنبل کو
میر تقی میر

سنبل

سنبل اُجلے شانوں والی کومل تتلی

پیڑوں کی شاخوں سے ہاتھ چھڑا کے یوں نکلی ہے جیسے

برف کے گالے

رات کی خوابیدہ پلکوں پر

بے آواز اُتر آتے ہیں

جھونکوں کے رتھ پر سے دنیا

کیسی سندر دِکھتی ہے

کھیتوں کے یہ ہرے سمندر

شیتل جھرنے

کھَن کھَن کرتے پیتل کی چمکیلی

گاگر جیسی دھرتی

پر دیکھو یہ جگمگ سونے جیسی دھرتی

مٹی کے بے صورت لَوندوں

خاک کے بے مایہ تودوں سے

اٹی پڑی ہے

سنبل

اُجلے شانوں والی کومل تتلی

کل تک جو آوارہ جھونکوں کی باہوں میں

ڈول رہی تھی

اب اس سڑک کنارے خاک سے اٹی پڑی ہے

سنبل ریشم کی شہزادی

میرے دل میں

دو کومل لچکیلے ہاتھوں

کا اِک لمس جگا جاتی ہے

پر یہ گدلے ، بے مایہ، بے صورت لَوندے

پر یہ میرے تن کی خاک اُڑاتی دھرتی …

گلناز کوثر