ٹیگ کے محفوظات: سنانے

سُبکیاں ہی ہاتھ آئیں حالِ دل سُنانے میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
دوسروں کے دروازے جا کے کھٹکھٹانے میں
سُبکیاں ہی ہاتھ آئیں حالِ دل سُنانے میں
سو تو مَیں گیا لیکن دشت کی عطا کردہ
سب تھکن اُتر آئی ہاتھ کے سرہانے میں
اِک لُغت نگل بیٹھا ناقبول لفظوں کی
میں جِسے تعّرض تھا کنکری چبانے میں
صَرف ہو گئیں کیا کیا سِیٹیوں کی آوازیں
سعد کو سُلانے میں چور کو جگانے میں
قربتوں کی لذّت تھی جو بھی، پر نکلنے پر
کھیت کھیت جا بکھری روزیاں کمانے میں
تیر پر قضا کے بھی دشت میں نظر رکھنا
ندّیاں لگا لیں گی اپنے گنگنانے میں
تذکرے وفاؤں کے کر کے، یار لوگوں کو
لے چلا ہے تُو ماجدؔ کون سے زمانے میں
ماجد صدیقی

کوئی نمو کا بھی رُخ دیجیے زمانے کو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
کشید خاک سے آتش تو کی جلانے کو
کوئی نمو کا بھی رُخ دیجیے زمانے کو
لگے بھی ہاتھ تو کس کے ستم کشانِ جہاں
سجا رہا ہے جو کولہو میں دانے دانے کو
لہو میں لتھڑے ہوئے پاؤں لے کے دھرتی سے
چلا ہے چاند پہ انساں قدم جمانے کو
کسی بھی عہد میں وحشت کا تھا نہ یہ انداز
ہر ایک ہاتھ میں کب جال تھے بچھانے کو
ہر ایک شخص سے ہر ایک شخص بیگانہ
یہ کیا ہوا ہے یکایک مرے زمانے کو
وُہ سُن کے زخم بھی ماجدؔ ترے کُریدیں گے
جنہیں چلا ہے حکایاتِ غم سُنانے کو
ماجد صدیقی

فراز اور اسے حال دل سنانے جا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 5
کہا تھا کس نے تجھے آبرو گنوانے جا
فراز اور اسے حال دل سنانے جا
کل اک فقیر نے کس سادگی سے مجھ سے کہا
تری جبیں کو بھی ترسیں گے آستانے جا
اسے بھی ہم نے گنوایا تری خوشی کے لئے
تجھے بھی دیکھ لیا ہے ارے زمانے جا
بہت ہے دولت پندار پھر بھی دیوانے
جو تجھ سے روٹھ چکا ہے اسے منانے جا
سنا ہے اس نے سوئمبر کی رسم تازہ کی
فراز تو بھی مقدر کو آزمانے جا
احمد فراز

مجھے سیدھیاں وہ سنانے لگا

دیوان دوم غزل 727
کجی اس کی جو میں جتانے لگا
مجھے سیدھیاں وہ سنانے لگا
تحمل نہ تھا جس کو ٹک سو وہ میں
ستم کیسے کیسے اٹھانے لگا
رندھے عشق میں کوئی یوں کب تلک
جگر آہ منھ تک تو آنے لگا
پریشاں ہیں اس وقت میں نیک و بد
موا جو کوئی وہ ٹھکانے لگا
کروں یاد اسے ہوں جو میں آپ میں
سو یاں جی ہی اب بھول جانے لگا
پس از عمر اودھر گئی تھی نگاہ
سو آنکھیں وہ مجھ کو دکھانے لگا
نہیں رہتے عاقل علاقے بغیر
کہیں میر دل کو دوانے لگا
میر تقی میر

قریب ان کے آنے کے دن آرہے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 42
نصیب آزمانے کے دن آرہے ہیں
قریب ان کے آنے کے دن آرہے ہیں
جو دل سے کہا ہے، جو دل سے سنا ہے
سب ان کو سنانے کے دن آرہے ہیں
ابھی سے دل و جاں سر راہ رکھ دو
کہ لٹنے لٹانے کے دن آرہے ہیں
ٹپکنے لگی ان نگاہوں سے مستی
نگاہیں چرانے کے دن آرہے ہیں
صبا پھر ہمیں پوچھتی پھر رہی ہے
چمن کو سجانے کے دن آرہے ہیں
چلو فیض پھر سے کہیں دل لگائیں
سنا ہے ٹھکانے کے دن آرہے ہیں
فیض احمد فیض

بتا یہ اپنے لہو میں نہانے والا کون

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 107
سراب دشت تجھے آزمانے والا کون
بتا یہ اپنے لہو میں نہانے والا کون
سواد شام یہ شہزادگان صبح کہاں
سیاہ شب میں یہ سورج اُگانے والا کون
یہ ریگزار میں کس حرف لازوال کی چھاؤں
شجر یہ دشت زیاں میں لگانے والا کون
یہ کون راستہ روکے ہوئے کھڑا تھا ابھی
اور اب یہ راہ کے پتھر ہٹانے والا کون
یہ کون ہے کہ جو تنہائی پر بھی راضی ہے
یہ قتل گاہ سے واپس نہ جانے والا کون
بدن کے نقرئی ٹکڑے لہو کی اشرفیاں
اِدھر سے گزرا ہے ایسے خزانے والا کون
یہ کس کے نام پہ تیغ جفا نکلتی ہوئی
یہ کس کے خیمے، یہ خیمے جلانے والا کون
اُبھرتے ڈوبتے منظر میں کس کی روشنیاں
کلام حق سر نیزہ سنانے والا کون
ملی ہے جان تو اس پر نثار کیوں نہ کروں
تو اے بدن مرے رستے میں آنے والا کون
عرفان صدیقی

کس لیے روٹھ گئے ہم سے زمانے والے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 554
کچھ خبر بھی ہے تجھے آنکھ چرانے والے
کس لیے روٹھ گئے ہم سے زمانے والے
ہم نے خوابوں کے دریچوں سے یونہی جھانکا تھا
تم تھے فنکار فقط گیت سنانے والے
روٹھنے والے ہمیں اب تو اجازت دے دے
اور مل جائیں گے تجھ کو تو منانے والے
بجھ گئے درد کی پلکوں پہ سسکتے دیپک
ہو گئی دیر بہت دیر سے آنے والے
ہم تو ہاتھوں کی لکیروں کو بھی پڑھ لیتے ہیں
یہ تجھے علم نہ تھا ہاتھ ملانے والے
راس آئے نہیں منصور کو پھر دار و رسن
تم جو زندہ تھے ہمیں چھوڑ کے جانے والے
منصور آفاق