ٹیگ کے محفوظات: سناتے

یہ عشق چاک گھماتے ہوئے نہیں ڈرتا

نئے چراغ بناتے ہوئے نہیں ڈرتا
یہ عشق چاک گھماتے ہوئے نہیں ڈرتا
مرے وسیلے سے جتنے بھی پیڑ روئے ہیں
انہیں میں ہِیر سناتے ہوئے نہیں ڈرتا
حضور! آپ ہی روکیں کہ میں تو پاگل ہوں
کسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے نہیں ڈرتا
ہزار بار بتایا کہ بد شگونی ہے!
مگر وہ ہونٹ چباتے ہوئے نہیں ڈرتا
میں پیٹ کاٹ کے زندہ ہوں اور ڈرتا ہوں
تُو فن کو بیچ کے کھاتے ہوئے نہیں ڈرتا؟
عجیب شوقِ طبیعت ہے افتخار فلکؔ
کوئی بھی آنکھ لڑاتے ہوئے نہیں ڈرتا
افتخار فلک

رسم یہ منصوری ہے اِسے دُہراتے رہنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 97
حق سمجھو جو بات زباں پر لاتے رہنا
رسم یہ منصوری ہے اِسے دُہراتے رہنا
برگ اور بار جھڑے تو کیا ہے، باغ کے پیڑو!
آنگن میں اُمید کے تم اِٹھلاتے رہنا
اِس کی شہ پر کاہے کو جی میلا کیجے
موسم کی تو خُو ہے یہی، گدراتے رہنا
سُن ہو جاؤگے للکار ستم کی سنتے
عزم کا جادو اپنے لہو میں جگاتے رہنا
ظلم کو سخت دلی کی آنچ سے ہی پیش آنا
اپنے کیے پر پھر چاہے پچھتاتے رہنا
دیکھنا وقت لگے زخموں کو مٹا ہی نہ ڈالے
رنج کی شدّت اِس شاطر کو جتاتے رہنا
لاکھ زباں پر جبر کے پہرے لگتے رہیں پر
ماجدؔ دل کا حال ہمیں ہے سناتے رہنا
ماجد صدیقی

باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 41
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی
نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں
کیا کہا؟، پھر تو کہو، “ہم نہیں سنتے تیری“
نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے
تجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں
دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا
کون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں
ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں
جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں
زیست سے تنگ ہو اے داغ تو کیوں جیتے ہو؟
جان پیاری بھی نہیں، جان سے جاتے بھی نہیں
داغ دہلوی

پھر برسوں تئیں پیارے جی سے نہیں جاتے ہو

دیوان دوم غزل 918
برسوں میں کبھو ایدھر تم ناز سے آتے ہو
پھر برسوں تئیں پیارے جی سے نہیں جاتے ہو
آتے ہو کبھو یاں تو ہم لطف نہیں پاتے
سو آفتیں لاتے ہو سو فتنے اٹھاتے ہو
رہتے ہو تم آنکھوں میں پھرتے ہو تمھیں دل میں
مدت سے اگرچہ یاں آتے ہو نہ جاتے ہو
ایسی ہی زباں ہے تو کیا عہدہ برآ ہوں گے
ہم ایک نہیں کہتے تم لاکھ سناتے ہو
خوش کرنے سے ٹک ایسے ناخوش ہی رکھا کریے
ہنستے ہو گھڑی بھر تو پہروں ہی رلاتے ہو
اک خلق تلاشی ہے تم ہاتھ نہیں لگتے
لڑکے تو ہو پر سب کو ٹالے ہی بتاتے ہو
مدت سے تمھارا کب ایدھر کو تہ دل ہے
کاہے کو تصنع سے یہ باتیں بناتے ہو
کچھ عزت کفر آخر اے دیر کے باشندو
مجھ سہل سے کو کیوں تم زنار بندھاتے ہو
آوارہ اسے پھرتے پھر برسوں گذرتے ہیں
تم جس کسو کو اپنے ٹک پاس بٹھاتے ہو
دل کھول کے مل چلیے جو میر سے ملنا ہے
آنکھیں بھی دکھاتے ہو پھر منھ بھی چھپاتے ہو
میر تقی میر

پھر عمر چاہیے گی اس کو بحال آتے

دیوان اول غزل 494
تجھ سے دوچار ہو گا جو کوئی راہ جاتے
پھر عمر چاہیے گی اس کو بحال آتے
گر دل کی بے قراری ہوتی یہی جو اب ہے
تو ہم ستم رسیدہ کاہے کو جینے پاتے
وے دن گئے کہ اٹھ کر جاتے تھے اس گلی میں
اب سعی چاہیے ہے بالیں سے سر اٹھاتے
کب تھی ہمیں تمنا اے ضعف یہ کہ تڑپیں
پر زیر تیغ اس کی ہم ٹک تو سر ہلاتے
گر جانتے کہ یوں ہی برباد جائیں گے تو
کاہے کو خاک میں ہم اپنے تئیں ملاتے
شاید کہ خون دل کا پہنچا ہے وقت آخر
تھم جاتے ہیں کچھ آنسو راتوں کو آتے آتے
اس سمت کو پلٹتی تیری نگہ تو ساقی
حال خراب مجلس ہم شیخ کو دکھاتے
جی دینا دل دہی سے بہتر تھا صدمراتب
اے کاش جان دیتے ہم بھی نہ دل لگاتے
شب کوتہ اور قصہ ان کا دراز ورنہ
احوال میر صاحب ہم تجھ کو سب سناتے
میر تقی میر

گو رقیباں کچھ اور گاتے ہیں

دیوان اول غزل 325
ہم تو مطرب پسرکے جاتے ہیں
گو رقیباں کچھ اور گاتے ہیں
خاک میں لوٹتے تھے کل تجھ بن
آج لوہو میں ہم نہاتے ہیں
اے عدم ہونے والو تم تو چلو
ہم بھی اب کوئی دم میں آتے ہیں
ایک کہتا ہوں میں تو منھ پہ رقیب
تیری پشتی سے سو سناتے ہیں
دیدہ و دل کا کیا کیا تھا میں
روز آفت جو مجھ پہ لاتے ہیں
کوئی رووے ہے کوئی تڑپے ہے
کیا کروں میرے گھر سے آتے ہیں
ورنہ میں میر ہوں مرے آگے
دشت غم بھی نہ ٹکنے پاتے ہیں
کھود گاڑوں زمیں میں دونوں کو
گرچہ یہ آسماں پہ جاتے ہیں
دیدہ و دل شتاب گم ہوں میر
سر پہ آفت ہمیشہ لاتے ہیں
میر تقی میر