ٹیگ کے محفوظات: سمجھنا

وُہ زلفیں وُہ چنچل چہرہ بھوُل گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
شام کنارے چاند اُبھرتا بھُول گئے
وُہ زلفیں وُہ چنچل چہرہ بھوُل گئے
دشت میں دیکھی وُہ اُفتاد غزالوں نے
بچ نِکلے تو گھر کا رستہ بھُول گئے
آن گئے پر، جان گنوانا مشکل تھا
ہم تم بھی تو مسجدِ اقصیٰ بھول گئے
لاش دبانے میں تو رہے محتاط بہت
رہزن آلۂ قتل اُٹھانا بھُول گئے
مکڑا دھاگے کیوں ماجدؔ ہر آن بُنے
ہم اتنی سی بات سمجھنا بھول گئے
ماجد صدیقی

میں فائل بند کرنا چاہتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 281
زمانے سے بچھڑنا چاہتا ہوں
میں فائل بند کرنا چاہتا ہوں
مقام صفر سے ملنے کی خاطر
کسی ٹاور سے گرنا چاہتا ہوں
لہومیں کالے کتے بھونکتے ہیں
کسی کے ساتھ سونا چاہتا ہوں
یہ کیوں پستی سے کرتا ہے محبت
میں پانی کو سمجھنا چاہتا ہوں
کبھی وحشی مسائل سے نکل کر
تجھے کچھ دیر رونا چاہتا ہوں
ذرا اونچی کرو آواز اس کی
ہوا کی بات سننا چاہتا ہوں
میں ہلکی ہلکی نیلی روشنی میں
بدن کا بورڈ پڑھنا چاہتا ہوں
پڑا ہوں بند اپنی ڈائری میں
کہیں پہ میں بھی کھلنا چاہتا ہوں
ازل سے پاؤں میں ہے ریل گاڑی
کہیں منصور رکنا چاہتا ہوں
منصور آفاق