ٹیگ کے محفوظات: سمجھایا

سوچتا ہوں کون کون آیا گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 30
ڈھونڈنے پر بھی نہ دل پایا گیا
سوچتا ہوں کون کون آیا گیا
بت کے میں مدتوں کھائے فریب
بارہا کعبہ میں بہکایا گیا
ناصحا میں یہ نا سمجھا آج تک
کیا سمجھ کر مجھ کو سمجھایا گیا
قمر جلالوی

اک کھلا پھول، ایک مرجھایا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 4
حسن گلشن میں فرق کیا آیا
اک کھلا پھول، ایک مرجھایا
اس قدر برہمی شکایت پر
چھوڑئیے ہم نے مدعا پایا
اور بھی تنگ ہو گئی دنیا
دل کو دنیا کا جب خیال آیا
ڈوب کر دل میں جب نظر نکلی
ایک عالم کو آشنا پایا
گمرہی سی ہے گمرہی باقیؔ
جس نے دیکھا اسی نے سمجھایا
باقی صدیقی

آپ کی برہمی کا وقت آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 3
دل نے اظہار غم پہ اکسایا
آپ کی برہمی کا وقت آیا
کون سے راستے پہ چل نکلے
جس نے دیکھا اسی نے سمجھایا
اور بھی تلخ ہو گیا جینا
وضعداری کا جب خیال آیا
ہر تمنا سے بے نیاز ہوئے
یوں بھی دامان زیست پھیلایا
جانے کس غم میں سوئے تھے باقیؔ
آنکھ کھلتے ہی کوئی یاد آیا
باقی صدیقی