ٹیگ کے محفوظات: سمجھائے

تجھ سے میں شرماؤں یا تو مجھ سے شرمائے ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 134
دیکھو محشر میں کس کی بات رکھی جائے ہے
تجھ سے میں شرماؤں یا تو مجھ سے شرمائے ہے
ہجر سے تنگ آنے والے ایسا کیوں گھبرائے ہے
موت سے پہلے کیا تجھے موت آئی جائے ہے
تو نے تڑپایا مجھے دشمن تجھے تڑپائے ہے
میں تو یہ جانوں ہوں جو جیسے کرے ہے پائے ہے
میں کسی سے بولوں چالوں بھی تو ہے میری خطا
کیا بگاڑوں ہوں تری محفل کا کیوں اٹھوائے ہے
ناصحا مجھ سے نہ کہیو یار کے گھر کو نہ جا
میں تری سمجھوں ہوں باتیں کیوں مجھے سمجھائے ہے
غیر کے کہنے پہ مت آ، ٹک مری حالت تو دیکھ
کیا تری محفل سے اٹھوں دل تو بیٹھا جائے ہے
اور بھرنی ہیں تصور میں ابھی رنگینیاں
دردِ دل تھم جا کہ اب تصویر بگڑی جائے ہے
کِن خیالوں سے یہ کاٹے ہے قمر فرقت کی رات
روتا بھی جائے ہے اور تارے بھی گنتا جائے ہے
قمر جلالوی

یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 114
لحد اور حشر میں یہ فرق کم پائے نہیں جاتے
یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے
کسی محفل میں بھی ایسے چلن پائے نہیں جاتے
کہ بلوائے ہوئے مہماں اٹھوائے نہیں جاتے
زمیں پر پاؤں رکھنے دے انھیں اے نازِ یکتائی
کہ اب نقشِ قدم ان کے کہیں پائے نہیں جاتے
تجھے اے دیدہ فکر کیوں ہے دل کے زخموں کی
کہ بے شبنم کے بھی یہ پھول مرجھائے نہیں جاتے
جنوں والوں کو کیا سمجھاؤ گے یہ وہ زمانہ ہے
خِرد والے خِرد والوں سے سمجھائے نہیں جاتے
وقارِ عشق یوں بھی شمع کی نظروں میں کچھ کم ہے
پتنگے خود چلے آتے ہیں بلوائے نہیں جاتے
فضیلت ہے یہ انساں کی وہاں تک پہنچاتا ہے
فرشتے کیا فرشتوں کے جہاں سائے نہیں جاتے
بس اتنی بات پر چھینی گئی ہے رہبری ہم سے
کہ ہم سے کارواں منزل پہ لٹوائے نہیں جاتے
قمر کی صبح پوچھئے سورج کی کرنوں سے
ستارے تو گوآ ہی کے لیے آئے نہیں جاتے
قمر جلالوی

میرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 16
مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا
میرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا
ٹھہرو ٹھہرو مرے اصنامِ خیالی ٹھہرو
میرا دل گوشۂِ تنہائی میں گھبرائے گا
لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو
زخم گہرا ہی سہی، زخم ہے ، بھر جائے گا
عزم پختہ ہی سہی ترکِ وفا کا لیکن
منتظر ہوں کوئی آ کر مجھے سمجھائے گا
آنکھ جھپکے نہ کہیں، راہ اندھیری ہی سہی
آگے چل کر وہ کسی موڑ پہ مل جائے گا
دل سا انمول رتن کون خریدے گا شکیبؔ
جب بکے گا تو یہ بے دام ہی بک جائے گا
شکیب جلالی

جلتی شمع بجھائے کون

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 88
دل کی آس مٹائے کون
جلتی شمع بجھائے کون
ان کی بات پہ جائے کون
جھوٹی آس لگائے کون
دو اک ہوں تو بات کریں
دنیا کو سمجھائے کون
ہم حق پر ہی سہی لیکن
ان کی راہ میں آئے کون
وہ داتا تو ہیں باقیؔ
پر دامن پھیلائے کون
باقی صدیقی