ٹیگ کے محفوظات: سماوات

چلتی ہے کتنے پہر کسی ذات کی گھڑی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 460
کچھ کہہ رہی ہے مجھ سے ترے ہاتھ کی گھڑی
چلتی ہے کتنے پہر کسی ذات کی گھڑی
لیکن میں روک سکتانہیں رات کی گھڑی
دیوار پر لگادی ہے اوقات کی گھڑی
باہر سے لوٹ جائے وہ مہتاب کی کرن
اب ختم ہوچکی ہے ملاقات کی گھڑی
اچھی ہیں یار کی متلون مزاجیاں
ممکن ہے پھر وہ آئے مدارات کی گھڑی
بہتا ہے میرے سینے میں اک چشمۂ دعا
ٹھہری ہوئی ہے مجھ میں مناجات کی گھڑی
یہ اور بات دیکھ کے پہچانتے نہیں
آتی ہے روز، روزِ مکافات کی گھڑی
دیکھو ازل نژاد ہے چلتی ہوئی ہوا
سمجھو ابد خرام ہے آیات کی گھڑی
اب ختم ہورہی ہے مشقت نصیب کی
چلنے پہ آگئی ہے حوالات کی گھڑی
گھڑیال مسجدوں کے بتاتے ہیں اور وقت
کچھ اور کہہ رہی ہے سماوات کی گھڑی
اعمال دیکھ کر مرے آقائے لوح نے
امت سے چھین لی ہے فتوحات کی گھڑی
منصور بہہ رہا ہے مرے وقت سے لہو
چلتی سدا ہے زخم میں حالات کی گھڑی
منصور آفاق

اٹھ گئے ہم کہ کوئی بات تھی ہونے والی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 455
اک تعلق کی شروعات تھی ہونے والی
اٹھ گئے ہم کہ کوئی بات تھی ہونے والی
لوح پر دیکھ لیا مشرق و مغرب کا نصیب
بس کہیں صبح ، کہیں رات تھی ہونے والی
دیکھنے والا تھا، پھر مڑکے، کوئی ایک نظر
کیا ہوا ، دید کی خیرات تھی ہونے والی
اپنے قہوے کا سماوار ابھی ٹھنڈا تھا
اور مسجد میں مناجات تھی ہونے والی
لینے آئے ہوئے تھے رومی و اقبال ہمیں
اپنی باہو سے ملاقات تھی ہونے والی
کیا ہوا ، وقت بدلنے کی خبر آئی تھی
وا کہیں چشمِ سماوات تھی ہونے والی
تم نہ ملتے تو یہاں سے بھی ہمیں جانا تھا
ایسی کچھ صورتِ حالات تھی ہونے والی
اب جہاں دھوپ نکل آئی ہے کنجِ لب سے
کچھ ہی پہلے یہاں برسات تھی ہونے والی
اس کے کہنے پہ بدل آئے ہیں رستہ اپنا
جب محبت میں اسے مات تھی ہونے والی
ہم چلے آئے ہیں اُس حسن کے دستر خواں سے
جب ہماری بھی مدارات تھی ہونے والی
قتل نامہ تھا کہ جلاد نے ڈھاڑیں ماریں
کیسی اک مرگِ مفاجات تھی ہونے والی
ارتقاء آخری منزل پہ تھا میرا اُس وقت
خلق جب جنسِجمادات تھی ہونے والی
میں پلٹ آیا ہوں منصور ’’مقامِ ہو‘‘ سے
اک عجب بات مرے ساتھ تھی ہونے والی
منصور آفاق