ٹیگ کے محفوظات: سمانا

یادوں میں کسی نے پھر کہرام مچانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
کچھ دیر میں چندا کو جب بام پہ آنا ہے
یادوں میں کسی نے پھر کہرام مچانا ہے
پوچھے گا مروّت سے کب حال ہمارا وہ
پتھر ہے جو سینے پر کب اس نے ہٹانا ہے
اِس حبس کے موسم میں، ہر حرف تمنّا کا
گرحلق سے ابھرا بھی، خوں ہی میں سمانا ہے
ہے وقت کے کِیسے میں جتنا زرِ ناخالص
حصے میں ہمارے ہی آخر کو وہ آنا ہے
قابیل سے ملتا ہے جس کا بھی کوئی رشتہ
ہابیل پہ اُس نے ہی رعب اپنا جمانا ہے
ابجد نہ جنہیں آئے الفاظ کی ندرت کا
کہتے ہیں وُہ ماجدؔ کا انداز پرانا ہے
ماجد صدیقی

لُہو میں اِک تلاطم نِت اُٹھانا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
مچلنا، مُسکرانا، رُوٹھ جانا
لُہو میں اِک تلاطم نِت اُٹھانا
وُہی جس کی ہمیں پیہم لپک ہے
وُہی منظر نگاہوں سے چھپانا
ترستی ہے جسے اپنی سماعت
وُہی اک حرف ہونٹوں پر نہ لانا
تمہیں آتا ہے مرغِ آرزُو کے
پروں کو نوچ کر ہر سُو اڑانا
ٹھِٹھکنا قُرب سے فرمائشوں کی
سلیقے بُعد کے ہم کو سکھانا
جو کھنچنا تو رُتوں کو مات کرنا
قریب آنا تو رَگ رَگ میں سمانا
پتہ دیتا ہے ماجدؔ کو ترا ہی
یہ مرغانِ نفس کا چہچہانا
ماجد صدیقی