ٹیگ کے محفوظات: سماج

نہیں رقیب تو رہ میں مری سماج سہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
مجھے ہی ضبطِ تمنّائے دل کی لاج سی
نہیں رقیب تو رہ میں مری سماج سہی
زبان سے بھی کہو بات جو نگاہ میں ہے
جو حشر دل پہ گزرنا ہے کل وُہ آج سہی
کسی کے نام تو ہونا ہے اِس ریاست کو
خُدا کے بعد تمہارا ہی دل پہ راج سہی
ستم کا نام نہ دیں ہم کسی ستم کو بھی
یہ اہتمام بھی اَب شہر کا رواج سہی
کرو نہ شاخِ بدن سے سروں کے پھُول جُدا
سدا بہار تمہارے ہی سر کا تاج سہی
ہلا نہ لب بھی ستم گرکے سامنے ماجدؔ
جہاں ہیں اور وہاں یہ بھی ایک باج سہی
ماجد صدیقی

بخار بستہ بدن کا مساج کیسا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 600
وہ پور پورہے کیسی، علاج کیسا ہے
بخار بستہ بدن کا مساج کیسا ہے
مثالِ دانہ ء گندم غذائیں کیسی ہیں
کسی بہشت کا تازہ اناج کیسا ہے
کیا اب بھی ذہن کشادہ ہے آنکھیں روشن ہیں
گزر ہے کیسی بتا ، کام کاج کیسا ہے
عجب جلوس نکالے ہیں دھڑکنیں مجھ میں
یہ تیز ہوتا ہوا احتجاج کیسا ہے
ہمیشگی کیلئے موت کیوں ضروری ہے
اے آسمان یہ تیرا رواج کیسا ہے
مٹھاس بھی ہے نشہ بھی ہے اس کے پہلو میں
شراب و شہد کا وہ امتزاج کیسا ہے
دھمال ڈالنی ماتم کی تال پر ہے مجھے
یہ رسم کیسی ہے غم کی ، رواج کیسا ہے
گلے میں کھوپڑیوں کی قدیم مالا سی
ہر ایک شخص ہے کاہن ، سماج کیسا ہے
نظر سنا نہیں سکتی لہو کی آوازیں
بدن سے پوچھ بدن کا مزاج کیسا ہے
یہ پوچھتی ہے مسافت بھری ہوئی گاڑی
مرے فلیٹ کا خالی گیراج کیسا ہے
گذشتہ شب کی اداسی نکال دے گھر سے
بس اتنا ذہن میں رکھ تیرا آج کیسا ہے
میں رو پڑا ہوں اسے سوچ کر کہاں منصور
یہ بزمِغیر میں غم کا خراج کیسا ہے
منصور آفاق