ٹیگ کے محفوظات: سلے

اس کو ڈھونڈیں تو وہ ملے بھی کہاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 88
خود سے ہم اک نفس ہلے بھی کہاں
اس کو ڈھونڈیں تو وہ ملے بھی کہاں
غم نہ ہوتا جو کھل کے مرجھاتے
غم تو یہ ہے کہ ہم کھلے بھی کہاں
خوش ہو سینے کی ان خراشوں پر
پھر تنفس کے یہ صلے بھی کہاں
آگہی نے کیا ہو چاک جسے
وہ گریباں بھلا سلے بھی کہاں
اب تامل نہ کر دلِ خود کام
روٹھ لے ، پھر یہ سلسلے بھی کہاں
آو، آپس میں کچھ گلے کر لیں
ورنہ یوں ہے کہ پھر گلے بھی کہاں
جون ایلیا

سِل گئے ہونٹ ، کوئی زخم سِلے یا نہ سلے

فیض احمد فیض ۔ قطعہ
آگئی فصلِ سکُوں چاک گریباں والو
سِل گئے ہونٹ ، کوئی زخم سِلے یا نہ سلے
دوستوں بزم سجاؤ کہ بہار آئی ہے
کِھل گئے زخم ، کوئی پھول کِھلے یا نہ کھلے
فیض احمد فیض