ٹیگ کے محفوظات: سلیپر

تیرے بن باسیوں کا یہ گھر تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 81
ہجر تھل ریت کا سمندر تھا
تیرے بن باسیوں کا یہ گھر تھا
آدھے حصے میں رنگ تھے موجود
آدھا خالی گلی کا منظر تھا
چھت بھی بیٹھی ہوئی تھی کمرے کی
اور دل کا گرا ہوا در تھا
اک سلگتی سڑک پہ بچے کے
پاؤں میں ایک ہی سلیپر تھا
مملکت کی خراب حالت تھی
میں اکیلا وہاں قلندر تھا
وہ تھی یونان کی کوئی دیوی
اور قسمت کا میں سکندر تھا
ایک بس وہ خدا نہ تھا منصور
ورنہ ہر چیز پہ وہ قادر تھا
منصور آفاق