ٹیگ کے محفوظات: سلیمان

میں میزبان تھا مجھے مہمان کر دیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 27
اُس کی نوازشوں نے تو حیران کر دیا
میں میزبان تھا مجھے مہمان کر دیا
اک نو بہار ناز کے ہلکے سے لمس نے
میرے تو سارے جسم کو گلدان کر دیا
کل اک نگار شہر سبا نے بہ لطف خاص
مجھ سے فقیر کو بھی سلیمان کر دیا
جینے سے اس قدر بھی لگاؤ نہ تھا مجھے
تو نے تو زندگی کو، میری جان کر دیا
نا آشنائے لُطف تصادم کو کیا خبر
میں نے ہوا کی زد پہ رکھا جان کر دیا
اتنے سکوں کے دن کبھی دیکھے نہ تھے فراز
آسودگی نے مجھ کو پریشان کر دیا
احمد فراز

اس عیش کے لیے سر و سامان چاہیے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 354
وحشت کے ساتھ دشت مری جان چاہیے
اس عیش کے لیے سر و سامان چاہیے
کچھ عشق کے نصاب میں کمزور ہم بھی ہیں
کچھ پرچۂ سوال بھی آسان چاہیے
تجھ کو سپردگی میں سمٹنا بھی ہے ضرور
سچا ہے کاروبار تو نقصان چاہیے
اب تک کس انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں لوگ
امید کے لیے کوئی امکان چاہیے
ہو گا یہاں نہ دست و گریباں کا فیصلہ
اس کے لیے تو حشر کا میدان چاہیے
آخر ہے اعتبارِ تماشا بھی کوئی چیز
انسان تھوڑی دیر کو حیران چاہیے
جاری ہیں پائے شوق کی ایذا رسانیاں
اب کچھ نہیں تو سیرِ بیابان چاہیے
سب شاعراں خریدۂ دربار ہو گئے
یہ واقعہ تو داخلِ دیوان چاہیے
ملکِ سخن میں یوں نہیں آنے کا انقلاب
دو چار بار نون کا اعلان چاہیے
اپنا بھی مدتوں سے ہے رقعہ لگا ہوا
بلقیس شاعری کو سلیمان چاہیے
عرفان صدیقی