ٹیگ کے محفوظات: سلسلے

بھُلا ہی دیں گے اگر دل میں کچھ گِلے ہوئے بھی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 62
اب آ بھی جاؤ ، بہت دن ہوئے مِلے ہوئے بھی
بھُلا ہی دیں گے اگر دل میں کچھ گِلے ہوئے بھی
ہماری راہ الگ ہے، ہمارے خواب جُدا
ہم اُن کے ساتھ نہ ہوں گے، جو قافلے ہوئے بھی
ہجومِ شہرِ خرد میں بھی ہم سے اہلِ جنوں
الگ دِکھیں گے، گریباں جو ہوں سِلے ہوئے بھی
ہمیں نہ یاد دلاؤ ہمارے خوابِ سخن
کہ ایک عُمر ہوئے ہونٹ تک ہِلے ہوئے بھی
نظر کی، اور مناظر کی بات اپنی جگہ
ہمارے دل کے کہاں اب، جو سلسلے ہوئے بھی
یہاں ہے چاکِ قفس سے اُدھر اک اور قفس
سو ہم کو کیا، جو چمن میں ہوں گُل کھِلے ہوئے بھی
ہمیں تو اپنے اُصولوں کی جنگ جیتنی ہے
کسے غرض، جو کوئی فتح کے صِلے ہوئے بھی
عرفان ستار

اس کو ڈھونڈیں تو وہ ملے بھی کہاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 88
خود سے ہم اک نفس ہلے بھی کہاں
اس کو ڈھونڈیں تو وہ ملے بھی کہاں
غم نہ ہوتا جو کھل کے مرجھاتے
غم تو یہ ہے کہ ہم کھلے بھی کہاں
خوش ہو سینے کی ان خراشوں پر
پھر تنفس کے یہ صلے بھی کہاں
آگہی نے کیا ہو چاک جسے
وہ گریباں بھلا سلے بھی کہاں
اب تامل نہ کر دلِ خود کام
روٹھ لے ، پھر یہ سلسلے بھی کہاں
آو، آپس میں کچھ گلے کر لیں
ورنہ یوں ہے کہ پھر گلے بھی کہاں
جون ایلیا

عرصہ گزر گیا ہے کسی سے ملے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 504
شاخِ بدن پہ کوئی تعلق کھلے ہوئے
عرصہ گزر گیا ہے کسی سے ملے ہوئے
میں کیا کروں کہ مجلسِ دل میں تمام رات
تیری شکایتیں ہوئیں تیرے گلے ہوئے
میں نے مقامِ طور پہ دیکھا خود اپنا نور
صبحِ شعورِ ذات کے کچھ سلسلے ہوئے
پہلے ہی کم تھیں قیس پہ صحرا کی وسعتیں
ہجراں کے مدرسے میں نئے داخلے ہوئے
منصور دو دلوں کی قرابت کے باوجود
اپنے گھروں کے بیچ بڑے فاصلے ہوئے
منصور آفاق

آنکھ میں گلستاں کھلے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 434
چاہتا ہوں کہیں ملے کوئی
آنکھ میں گلستاں کھلے کوئی
رکھ گیا ہاتھ کی لکیروں میں
راستوں کے یہ سلسلے کوئی
میرے دل کا بھی بوجھ ہلکا ہو
میرے بھی تو سنے گلے کوئی
اس لئے میں بھٹکتا پھرتا ہوں
مجھ کو گلیوں میں ڈھونڈھ لے کوئی
کیا کروں ہجر کے جزیرے میں
لے گیا ساتھ حوصلے کوئی
اس کے آنے کی صرف افواہ پر
دیکھتا دل کے ولولے کوئی
یار آتا میرے علاقے میں
خیمہ زن ہوتے قافلے کوئی
گرمیٔ لمس کے مجھے منصور
بخش دے پھر سے آ بلے کوئی
منصور آفاق

تری گلی سے جو نکلے تو پھر رہے نہ کہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 403
کسی کے جسم سے مل کر کبھی بہے نہ کہیں
تری گلی سے جو نکلے تو پھر رہے نہ کہیں
عجیب رابطہ اپنے وجود رکھتے تھے
نکل کے تجھ سے تو خود میں بھی ہم رہے نہ کہیں
اسے تو پردے کے پیچھے بھی خوف ہے کہ مری
نظر نقاب پہ چہرہ لکیر لے نہ کہیں
بس اس خیال سے منزل پہن لی پاؤں نے
ہمارے غم میں زمانہ سفر کرے نہ کہیں
تمام عمر نہ دیکھا بری نظر سے اسے
یہ سوچتے ہوئے دنیا برا کہے نہ کہیں
اے آسمان! ذرا دیکھنا کہ دوزخ میں
گرے پڑے ہوں زمیں کے مراسلے نہ کہیں
ڈرا دیا کسی خودکُش خیال نے اتنا
ٹکٹ خرید رکھے تھے مگر گئے نہ کہیں
کئی دنوں سے اداسی ہے اپنے پہلو میں
ہمارے بیچ چلے آئیں دوسرے نہ کہیں
ہر اک مقام پہ بہکی ضرور ہیں نظریں
تری گلی کے علاوہ قدم رکے نہ کہیں
ہم اپنی اپنی جگہ پر سہی اکائی ہیں
ندی کے دونوں کنارے کبھی ملے نہ کہیں
ترے جمال پہ حق ہی نہیں تھا سو ہم نے
کیے گلاب کے پھولوں پہ تبصرے نہ کہیں
کبھی کبھار ملاقات خود سے ہوتی ہے
تعلقات کے پہلے سے سلسلے نہ کہیں
ہر ایک آنکھ ہمیں کھینچتی تھی پانی میں
بھلا یہ کیسے تھا ممکن کہ ڈوبتے نہ کہیں
اداس چاندنی ہم سے کہیں زیادہ تھی
کھلے دریچے ترے انتظار کے نہ کہیں
بس ایک زندہ سخن کی ہمیں تمنا ہے
بنائے ہم نے کتابوں کے مقبرے نہ کہیں
بدن کو راس کچھ اتنی ہے بے گھری اپنی
کئی رہائشیں آئیں مگر رہے نہ کہیں
دھواں اتار بدن میں حشیش کا منصور
یہ غم کا بھیڑیا سینہ ہی چیر دے نہ کہیں
منصور آفاق

محبت کے ٹھہرے ہوئے سلسلے چل

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 212
بڑی سست رفتاریوں سے بھلے چل
محبت کے ٹھہرے ہوئے سلسلے چل
وہاں گھر ہے دریا جہاں ختم ہو گا
چلے چل کنارے کنارے چلے چل
خدا جانے کب پھر ملاقات ہو گی
ٹھہر مجھ سے جاتے ہوئے تو ملے چل
میں تیرے سہارے چلا جا رہا ہوں
ذرا اور ٹوٹے ہوئے حوصلے چل
نئے ساحلوں کے مسائل بڑے ہیں
تُو پچھلی زمیں کی دعا ساتھ لے چل
اکیلا نہ منصور رہ کیرواں میں
محبت کے چلنے لگے قافلے چل
منصور آفاق